لاہور ہائیکورٹ ،اعلیٰ پولیس افسر کیخلاف کارروائی روکتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ ،اعلیٰ پولیس افسر کیخلاف کارروائی روکتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کوزیرتربیت اے ایس پی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس خالد محمد خان نے بلال قیوم کی درخواست پر سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے روالپنڈی نے 2013میں ایک مقدمہ درج کیا ہے جس میں مقابلے کے امتحانات میں جوابی کاپیوں میں ردوبدل کا الزام ہے، درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ2011میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے پولیس سروس میں شامل ہوئے جبکہ ایف آئی اے نے 2013میں مقدمہ درج کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے اس جھوٹے مقدمے میں انہیں طلبی کے نوٹس بھجوا رہا ہے جو غیرقانونی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ایف آئی اے کو درخواست گزار کو ہراساں کرنے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکے، ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک اے ایس پی بلال قیوم کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جائے ، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 اگست تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : علاقائی