شیطان قید۔۔۔ مہنگائی کا جن بے قابو

شیطان قید۔۔۔ مہنگائی کا جن بے قابو
 شیطان قید۔۔۔ مہنگائی کا جن بے قابو

  



پوری دنیا کا جائزہ لیا جائے تو مشاہدے میں آتا ہے کہ مذہبی تہواروں کے موقع پر تاجر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ازخودکمی کردیتے ہیں دیگر مذاہب کے تاجر بھی اپنے مذہبی تہواروں پر عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہیں تاکہ امیر غریب یکساں طور پر اپنے اپنے تہواروں کو بھرپور طریقے سے مناسکیں لیکن پاکستان میں اس کے بالکل برعکس ہے جن اشیاء کی قیمتیں سارا سال مستحکم رہتی ہیں رمضان المبارک میں ان میں کئی گنااضافہ ہوجاتا ہے ذخیرہ اندوز اشیاء خودونوش کو رمضان المبارک سے پہلے ہی سٹاک کرلیتے ہیں اور پھر رمضان کے شروع ہوتے ہی من مانی قیمتیں مقرر کر کے مارکیٹ سپلائی کردیتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ ہے کہ پورے سال کی کمائی صرف اسی ایک مہینہ میں کر لی جائے ۔ اگر تاجر برادری یہ عہد کرے کہ ہم نے بھی اس مبارک مہینے میں نیکیاں کمانی ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کسی بھی علاقہ سے اشیاء ضروریہ کی زائد قیمتوں پر فروخت کی شکایت آئے۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پرچون فروش ہول سیل کا کاروبار کرنے والوں کو اشیاء خوردونوش خصوصاً دالوں،بیسن کی قیمتیں بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس تھوک فروشوں کا موقف ہے کہ ہم تو کم قیمت پر اشیاء پرچون فروشوں کو فراہم کرتے ہیں اور چھوٹے دکاندار ہی صارفین سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں حکومتی انتظامیہ کو چاہےئے کہ پہلے منڈی کی سطح پر قیمتیں چیک کرے اور ہول سیل دکانداروں کو زائد قیمت وصول کرنے سے روکے پھر پرچون فروشوں کو چیک کیا جائے ۔ دکانداروں کے جائز منافع کی شرح کا تعین کرنے ، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو دیکھنے اور ان کی قیمتیں مقرر کرنے کے علاوہ ان اشیاء کی طلب ورسدکے مطابق سپلائی کو برقرار رکھنے کے لئے ضلعی سطح اور صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور دوسرا فول پروف میکانزم موجود ہے، لیکن ہمارے ہاں معاملہ بالکل الٹ ہے اور صرف ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘پالیسی پر ہی عمل کیا جاتا ہے جیسے ہی رمضان المبارک کی آمد آمد ہوتی ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور دوسرے متعلقہ ادارے متحرک ہونا شروع ہوجاتے ہیں جبکہ ہونا تویہ چاہئے کہ یہ ادارے سارا سال ہی کام کریں ، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں اور طلب ورسد پر کڑی نگاہ رکھیں اور جہاں کہیں بھی خرابی نظر آئے اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کر تے ہوئے فوری عمل درآمد کرائیں۔ یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے منڈیوں کو سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، کیونکہ منڈی میں ہی قیمتیں زیادہ ہونگی تو پرچون فروش کیا کرے گا۔ منڈیوں میں ہی زیادہ منافع کمایا جارہا ہے،مثلاً کسی سبزی کی فی کلو قیمت اگر 50 روپے ہے تو رمضان بازار میں اسے 40 روپے کلو بیچنے کا پابند کیا جارہا ہے یہ کیسے ممکن ہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی ناقص اور غیر معیاری اشیاء خوردنوش رمضان ماڈل بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ ریٹ کے ساتھ اول نمبر لکھا ہوتا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہئے کہ اگر سستی اور تازہ سبزیوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تو پہلے کاشتکاروں سے مذاکرات کرے کہ وہ اپنی اشیاء کھیت سے براہ راست رمضان المبارک کے ماڈل اور سستے بازاروں میں لاکر فروخت کریں اور ان کو ایسی سہولیات انتظامی سطح پر مہیا کی جائیں تاکہ ان کو اپنا مال رمضان بازاروں میں لانے کے لئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اس اقدام سے نہ صرف مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا، بلکہ عوام کو بھی ارزاں نرخوں پر تازہ اور اچھی صاف ستھری سبزیاں دستیاب ہوسکیں گی۔

اس سال بھی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو سستے آٹے کی فراہمی پر 5 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف صوبے کے مختلف علاقوں میں قائم ان رمضان بازاروں کا سخت گرمی میں خود بھی اچانک دورہ کررہے ہیں تاکہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور ساتھ ہی 13 صوبائی وزراء اور مختلف ایم این اے اور ایم پی اے کی باقاعدہ ڈیوٹیاں بھی لگائی ہیں، ان کے علاوہ صوبائی سیکرٹریز اور مجسٹریٹوں کو بھی نگرانی پر مامور کیا ہے کہ وہ بازاروں میں گراں فروشی کو چیک کریں، زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کا محاسبہ کریں اور ان کو موقع پر جرمانہ کریں۔ اس کے علاوہ ٹی ایم او کی نگرانی میں ہر ماڈل بازار میں مقامی سطح پر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں، جو مسلسل بازاروں میں بنائے گئے عارضی کیمپ آفس میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔ مندرجہ بالا اقدامات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ پنجاب حکومت رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے انتہائی خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھی واضح الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے باوجود عوام کو اکثر شکایت ہوتی ہے کہ سستے بازاروں میں اشیاء کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی، دکانداروں کے اوزان بھی درست نہیں ہوتے اور جب کوئی اعلیٰ افسر، صوبائی وزیر یا منتخب نمائندہ سستے بازار کا معائنہ کے لئے آتا ہے تو مقامی کیمپ میں بیٹھی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آتی ہے اور صفافی کا نظام بہتر ہوجاتا ہے، دکانداروں سے اشیاء ضروریہ کی فہرستیں آویزاں کرادی جاتی ہیں، اور دکاندار بھی مقرر کردہ نرخ ہی وصول کرتا ہے اور جیسے ہی اعلیٰ شخصیت واپس جاتی ہیں تو حالات یکسر بدل جاتے ہیں۔

چینی اور آٹے کی فروخت کے لئے لمبی قطاریں لگوائی جاتی ہیں۔اس دوران ا انتظامیہ اور یہ اشیاء فروخت کرنے والے کسی فرعون سے کم نظر نہیں آتے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری عوام ان کے رحم و کرم پرہے جب اور جیسے دل چاہے گا یہ اشاء فروخت کریں گے۔ان کو کوئی پرواہ نہیں عورتیں بیچے روزے کے ساتھ سخت گر می میں قطاروں میں کھڑے ہیں۔

ماڈل بازار وں میں آنے والی سستی چینی آدھی سے زیادہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے عام مارکیٹ میں زائد نرخوں پر بیچ دی جاتی ہے،ایسی کا لی بھڑوں کا محاسبہ ہونا ضروری ہے۔ جناب خادم اعلیٰ پنجاب صاحب سٹال لگانے والوں کی جانب سے یہ شکایت بھی عام ہے کہ بعض ٹی ایم اوز صرف اپنی نوکریاں پکی کرنے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے سستے بازاروں میں اپنے ایجنٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو دکانداروں سے اجناس کی شکل میں بھتہ وصول کرتے ہیں اوران کو من مانی کرنے کی اجازت دیتے ہیں ،لیکن آپ کو سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے۔

مزید : کالم


loading...