بھارت کا کشمیر پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو نئی دہلی دفتر خالی کرنے کا حکم

بھارت کا کشمیر پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو نئی دہلی دفتر خالی کرنے کا ...
بھارت کا کشمیر پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو نئی دہلی دفتر خالی کرنے کا حکم

  



نئی دہلی (ویب ڈیسک) ہندوستان نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے نمائندوں کو نئی دہلی میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ دفتر خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان اور ہندوستان کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو دہلی کے نواح میں فراہم کردہ رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس جگہ سے گزشتہ چار دہائیوں سے ایک دفتر چلایا جارہا تھا جبکہ اقوام متحدہ کا مرکزی دفتر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ہے جہاں عملہ کم تعداد میں تعینات ہے، اس کے علاوہ ایک دفتر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی موجود ہے تاکہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد کے مطابق سیز فائر برقرار رکھا جاسکے۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق نئی دہلی متنازعہ کشمیر کو اپنے ملک کا لازمی جز تصور کرتا ہے اور اس معاملے پر اقوام متحدہ کے مبصر گروپ سمیت کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت پر شدید مخالفت کرتا رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس پر اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو نئی دہلی چھوڑنے کا نوٹس ملنے کی خبر نشر کئے جانے کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ اقوام متحدہ کا مبصر گروپ معاملے کے حوالے سے اپنی موجودگی کا جواز کھوچکا ہے اور ہم اس سے قبل بھی کئی مواقع پر یہ موقف پیش کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں درخواست مئی میں ایک ایسے موقع پر موصول ہوئی تھی جب ہندوستان میں عام انتخابات جاری تھے جن میں نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کہ مبصر گروپ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنا کام جاری رکھے گا اور ہم کوئی متبادل جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ پاکستانی فوجی حکام اقوام متحدہ کے مبصر گروپ سے کئی بار کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی شکایات کرچکے ہیںجبکہ دوسری جانب ہندوستانی فوجی حکام نے جنوری 1972ءسے کسی قسم کی شکایت درج نہیں کرائی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...