برطانوی وزیر خزانہ اور سیکرٹری خارجہ بھارت کے دو روزہ دورہ پر روانہ

برطانوی وزیر خزانہ اور سیکرٹری خارجہ بھارت کے دو روزہ دورہ پر روانہ

لندن (بیورورپورٹ) برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن اور سیکریٹری خارجہ ولیم ہیگ آج سے بھارت کے دو روزہ دورہ کے دوران معاشی تعلقات بڑھانے پر بات کریں گے وہ بھارت کے دفاع اور بنیادی ڈھانچوں کے فروغ میں برطانوی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے بھارت گئے ہیں اس کے علاوہ وہ بھارتی تاجروں کو برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف مرغوب کریں گے یہ دورہ ایشیا کی تیسری بڑی معیشت یعنی بھارت میں نئی حکومت کی آمد کے پیش نظر ہو رہا ہے نئی حکومت کے سربراہ مودی کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ معیشت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے نئی معاشی اصلاحات کا اعلان کریں گے برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ سے مسٹر اوسبورن کی تقاریر کے جو پیشگی متن جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق اوسبورن کا کہنا ہے میرے خیال میں برطانیہ کے ساتھ بھارت کا مضبوط تر رشتہ بھارتی حکومت کی نئی معاشی پالیسی کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہو گا وزیر اعظم مودی بھارتی معیشت کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ برطانوی کمپنی یہ سرمایہ فراہم کرے اور برطانوی حکومت اس کی حمایت کرے اس دورے میں مسٹر اوسبورن یہ اعلان بھی کرنے والے ہیں کہ بھارت کی دوا بنانے والی کمپنی سپلا برطانیہ میں 10 کروڑ پاو¿نڈ کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے بھارتی معیشت کچھ عرصے سے مہنگائی، دفتر شاہی اور بدعنوانی کے مسائل کے نتیجے میں مشکلات کا شکار رہی ہے اور اسی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار بھارت میں سرمایہ کاری کا حوصلہ نہیں دکھا پا رہے ہیں حالیہ انتخابات میں مسٹر مودی کی قیادت والی جماعت بی جے پی کی یک طرفہ کامیابی سے بھارتی معیشت کے احیا کی امیدیں جاگ گئی ہیں بیرونی اور مقامی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کو یہ امید ہے کہ مسٹر مودی کی اصلاحات سے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گی اور معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے بہت سے ممالک بھارت کے ساتھ اپنے رشتوں کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیںبرطانیہ کے دو سینئر وزیروں کے دورے کے بعد بھارت میں بیرونی ممالک سے اہم شخصیتوں کے دوروں کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے جن میں فرانسیسی وزیر خارجہ لارنٹ فیبیو، روسی نائب وزیر اعظم دمتری روگوزن اور چینی وزیر خارجہ وانگ لی کے دورے شامل ہیں یاد رہے کہ برطانوی وزیر کے بعد بھارت میں فرانس کے وزیر خارجہ، روس کے نائب وزیر اعظم اور چینی وزیر خارجہ کے دورے متوقع ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...