حزب کمانڈر کی زمین ضبط کرنا غیر قانونی ہے‘ ماہر قانون

حزب کمانڈر کی زمین ضبط کرنا غیر قانونی ہے‘ ماہر قانون

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی طرف سے حزب المجاہدین کے نائب امیر غلام نبی خان المعروف عامر خان کی نو کنال زمین ضبط کرنا غیر قانونی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے حکم پر قابض انتظامیہ نے پہلگام کے علاقے سلر میں تحریک آزادی کے رہنماغلام نبی خان کی بیوی کی نوکنال زمین ضبط کی تھی۔ زمین 1971ء میں انکی بیوی فاطمہ بانو کے نام پر منتقل کی گئی تھی اور غلام نبی خان پچھلے پندرہ سال سے آزاد کشمیر میں مقیم ہیں۔

انکے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انکو اس حوالے سے پہلے نہ تو کوئی نوٹس اور نہ ہی صفائی کا کوئی موقع دیا گیا ہے بلکہ مقامی تحصیلدار نے گاؤں کے سرپنچ کو بلاکر ان کو این آئی اے کا حکم نامہ تھما دیا ۔

سرپنچ نے ہمیں بلاکرحکم نامہ دیا اور اسطرح زمین کو ضبط کیا گیا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس حکم نامے کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ کسی بھی پراپرٹی کو ضبط کرنے پہلے متعلقہ افراد کو تحریری طور پرمطلع کرنا اور یہ بتاناضروری ہے کہ کس بنیاد پر پراپرٹی ضبط کی جارہی ہے۔ قانون کے مطابق متعلقہ فرد کو صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ماہرقانون اور کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ظفر شاہ کا کہنا ہے کہ این آئی اے وہ پراپرٹی ضبط کرسکتی ہے جسکے متعلق انکے پاس ثبوت ہو کہ یہ حوالہ رقوم سے بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی خان کے کیس میں صورتحال بالکل مختلف ہے ، اس طرح کے کیسوں میں حکومت خاندان کو دباؤ میں لانے کے لیے جائیداد ضبط کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکے خاندان کواسے عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے۔

مزید : عالمی منظر