غزہ پر فوجی چڑھائی ،اسرائیلی حکمراں اتحاد میں دراڑیں پڑ گئیں

غزہ پر فوجی چڑھائی ،اسرائیلی حکمراں اتحاد میں دراڑیں پڑ گئیں

مقبوضہ بیت المقدس (آن لائن)اسرائیل کے حکمراں اتحاد میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائی پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور انتہا پسند وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین کی جماعت حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی ہے۔تاہم وہ بدستور حکومت میں شامل رہے گی۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ غزہ کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملوں کے ردعمل میں فلسطینیوں کے خلاف محدود کارروائی کے حق میں ہے جبکہ لائبرمین کی یسرائیل بیتنو حماس کے مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی وکالت کررہی ہے۔لائبرمین اور نیتن یاہو کے درمیان 2013ءمیں منعقدہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بھی اہم قومی امور پر اختلافات پائے جاتے تھے۔تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران ان کے درمیان غزہ پر فوجی چڑھائی اور اس پر دوبارہ قبضے کے معاملے پر اختلافات شدید ہوگئے ہیں۔لائبرمین نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ یہ کوئی خفیہ راز نہیں کہ ہمارے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے تھے جن کی وجہ سے ہم مزید اکٹھے کام نہیں کرسکتے تھے۔اس لیے ہم نے الکنیست کمیٹی کو بتادیا ہے کہ ہم الگ ہورہے ہیں اور ایک الگ دھڑا بنا رہے ہیں,لیکن سیاسی اتحاد کے خاتمے کے باوجود لائبرمین کی جماعت مخلوط حکومت میں شامل رہے گی اور وہ بدستور وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔تاہم وہ اپنے اقدامات کے معاملے میں وزیراعظم سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے اور اس وجہ سے منقسم کابینہ میں پالیسیوں کی منظوری مشکل ہوگی۔لائبرمین نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ''اسرائیل نے 2012ءمیں حماس کے خلاف ''آپریشن پلر آف ڈیفنس'' میں نمایاں کامیابی کی تھی اور فلسطینی تنظیم کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 95 فی صد میزائلوں کو تباہ کردیا گیا تھا۔آج ان کے پاس 80 کلومیٹر تک مار کرنے والے سینکڑوں میزائل موجود ہیں''۔

مزید : عالمی منظر


loading...