ایران کا آباد ی بڑھانے کا فیصلہ

ایران کا آباد ی بڑھانے کا فیصلہ
ایران کا آباد ی بڑھانے کا فیصلہ

  

تہران (نیوز ڈیسک ) ایران میں شرح پیدائش میں اضافہ کے لئے نس بندی یا ضبط ولادت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ایرانی حکام کی طرف سے واضح طور پر ایسے اشارے دیئے جا رہے ہیں کہ سیاستدان آبادی کے متعلق پالیسی کے بارے میں الجھن کا شکار ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں آبادی کے حوالے سے مختلف پالیسیاں تشکیل دی گئیں۔ 1979ءکے بعد شرح پیدائش پر قابو پانے کی پالیسی کو مغربی سازش قرار دے کر ختم کردیا گیا۔ 80ءکے اواخر میں جب ملک کو آبادی میں تیزی سے اضافہ کا مسئلہ درپیش آیا تو سرکار نے برتھ کنٹرول پالیسی متعارف کروادی  جس سے شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی تو 2000ءکے اوائل میں ملک کو نوجوانوں کا مسئلہ سامنے کھڑا ملا، کیوں کہ اس وقت 50فیصد سے زائد ایرانی 18سال سے کم عمر کے تھے۔ اس صورت حال میں ان نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا بہت بڑا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا۔ آبادی کے اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے گزشتہ دورحکومت میں احمدی نژاد نے بھرپور اقدامات کئے۔ احمدی نژاد نے نہ صرف بچوں کی پیدائش پر وظائف مقرر کئے بلکہ آبادی پر قابو پانے کے لئے مختص کئے جانے والے بجٹ کو بھی ختم کر دیا۔ شرح پیدائش میں کمی کے باعث آنے والے وقت میں زیادہ بوڑھوں پر مشتمل آبادی کے مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی مجلس شوری نے 2012ءمیں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ سے مطالبہ کیا کہ شرح پیدائش کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں، جس پر رواں برس مئی میں سپریم لیڈر کی طرف سے شرح پیدائش میں اضافہ کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ نے ضبط ولادت یا نس بندی کو غیرقانونی قرار دے کر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ متنازعہ قانون کی مخالفت میں پیش پیش مراغہ شہرسے رکن پارلیمنٹ مہدی دواتغری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی منظوری کا ضبط ولادت کے کلچر پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا تاہم خواتین نس بندی کے غیر قانونی طریقے اختیار کرنے اور پرائیویٹ کلینکس پر جانے پر مجبور ہو جائیں گی۔ قانون کے حمایتی رکن پارلیمنٹ علی مطھری کا کہنا ہے کہ یہ قانون بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے اس فتوے کی روشنی میں منظور کیا گیا ہے جس میں اسقاط حمل کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت