دنیا کے وہ روزہ دار جن کیلئے سحر ہوتی ہے، نہ سورج غروب ہوتا ہے

دنیا کے وہ روزہ دار جن کیلئے سحر ہوتی ہے، نہ سورج غروب ہوتا ہے
دنیا کے وہ روزہ دار جن کیلئے سحر ہوتی ہے، نہ سورج غروب ہوتا ہے

  



سٹاک ہوم (نیوز ڈیسک) رمضان المبارک میں سحر کے وقت روزہ رکھنا اور پھر شام کے وقت افطار کرنا اس ماہ مبارک کی خوبصورتی کا اہم جزو ہے لیکن سویڈن کے شمالی علاقہ جات میں مقیم مسلمان جب روزہ رکھتے ہیں تو سورج چمک رہا ہوتا ہے اور جب افطار کرتے ہیں تو بھی سورج چمک رہا ہوتا ہے کیونکہ یہاں نہ صبح ہے نہ شام۔ سویڈن کے انتہائی شمال میں واقع قصبہ کیرونا میں تقریباً 700 مسلمان آباد ہیں، یہ قصبہ قطبی دائرے کے 145 کلو میٹر اندر واقع ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں موسم گرما میں سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوتا۔ یہاں مقیم شامی باشندے غسان النکر نے بتایا کہ جب اس نے تین بج کر تیس منٹ پر روزہ رکھا تو سورج اس کے سر پر چمک رہا تھا اور یہ کہ افطارکے وقت بھی یہی صورتحال ہوگی۔ چونکہ یہاں مسلمانوں کا کوئی منظم اور مرکزی ادارہ نہیں ہے اسی لئے لوگ چار مختلف قسم کے اوقات سحر و افطار کا استعمال کررہے ہیں۔ غسان کا کہنا ہے کہ وہ مکہ کے وقت کے مطابق سحر و افطار کرتا ہے۔ لیکن کان کنوں کے اس قصبہ کے اکثر مسلمان 1240 کلومیٹر جنوب میں واقع دارالحکومت سٹاک ہوم کے وقت کے مطابق سحر و افطار کرتے ہیں کیونکہ اس شہر میں کیرونا کے برعکس صبح اور شام ہوتی ہے اور یورپین کونسل برائے فتویٰ و تحقیق نے بھی کیرونا کے مسلمانوں کو سٹاک ہوم کے وقت کے مطابق روزہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ سٹاک ہوم میں بھی روزہ 20 گھنٹے کا ہوتا ہے مگر یہاں پر کیرونا کی طرح 24 گھنٹے دوپہر نہیں ہوتی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...