افغانستان میں دو حکومتیں قائم ہونے کا خوف، امریکہ پریشان

افغانستان میں دو حکومتیں قائم ہونے کا خوف، امریکہ پریشان
افغانستان میں دو حکومتیں قائم ہونے کا خوف، امریکہ پریشان

  

کابل (نیوز ڈیسک)افغانستان میں متنازعہ صدارتی الیکشن کے بعد دوسرے نمبر پر قرار دیئے جانے والے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد کے سخت مﺅقف کے باعث ملک میں ایک متنوازی حکومت وجود میں آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے الیکشن کا پہلا راﺅنڈ 15اپریل کو منعقد ہوا تھا جن میں عبداللہ عبداللہ فاتح قرار پائے تھے لیکن مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے دوسرا راﺅنڈ 14جون کو منعقد ہوا۔افغان الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ عبداللہ عبداللہ کو 44فیصد ووٹ ملے جبکہ اشرف غنی احمدزئی کو 56 فیصد ووٹ ملے لیکن ان کی حتمی فتح کا اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ ابھی لاکھوں مشکوک ووٹوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی کے الزامات لگا کر الیکشن کے نتائج کو رد کر دیا ہے اور ان کے حامیوں کی بھاری اکثریت کا بل حکومت کو ردکرتے ہوئے اپنی حکومت کا اعلان کرنے کی خواہاں ہے۔

اس پیش رفت نے امریکی حکومت کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ امریکی افواج افغانستان سے انخلاءکے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔امریکی صدر بارک اوبامہ نے عبداللہ عبداللہ سے فون پر بات کرتے ہوئے دھاندلی کے خلاف جاری تحقیقات میں تعاون کی اپیل کی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی متوازی حکومت کے متعلق خدشات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورت میں افغانستان کیلئے مالی اور سکیورٹی امداد ختم ہو جائے گی۔

مزید : بین الاقوامی