الگ رہنے والے جنگلی قبیلے کا دنیا سے پہلا رابطہ

الگ رہنے والے جنگلی قبیلے کا دنیا سے پہلا رابطہ
 الگ رہنے والے جنگلی قبیلے کا دنیا سے پہلا رابطہ

  



ساﺅ پالو (نیوز ڈیسک) جنوبی امریکہ کے وسیع و عریض امیزون جنگلات کی گہرائی میں آج بھی آج بھی ایسے وحشی قبائل رہتے ہیں کہ جن تک جدید دنیا کی کوئی رسائی نہیں ہے اور یہ اپنے صدیوں پرانے طرز زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ برازیل میں ایک ایسے ہی جنگلی قبیلے نے حکومتی زرائع سے رابطہ کر کے ساری دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔برازیل کے جنگلی قبائل کے ڈیپارٹمنٹ FUNAIنے اعلان کیا ہے کہ ریاست ایک ایکرے کے دریائے اینورا کے ساتھ ساتھ واقع گھنے جنگل سے نکل کر ایک وحشی قبیلے کے لوگوں نے علاقے میں موجود سائنسدانوں سے رابطہ کیا ہے ۔یہ پچھلے 18سال میں اس قسم کے رابطہ کا پہلا واقع ہے کیونکہ برازیل حکومت نے 1987سے ان قبائل کے ساتھ رابطے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حکومتی زرائع کا کہنا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ ایک مخالف قبیلے کے حملوں کا شکار ہیں۔حال ہی میں دوسرے قبیلے کے 35جنگلیوں نے حملہ کر کے اس قبیلے کی فصلیں برباد کر دیں اور ان کے ہتھیار وغیرہ اٹھا کر لے گئے ۔ایک اندازے کے مطابق قبائل کی آپسی کشیدگی ہی ان لوگوں کی بیرون دنیا سے رابطے کی وجہ بنی ہے ۔امیزون کے جنگلات میں اس قسم کے وحشی قبائل با کثرت پائے جاتے ہیں اور عام طور پر ان کے ساتھ رابطے سے احتراز ہی کیا جاتا ہے کیونکہ بیرونی دنیا سے رابطے میں آنے کے بعد یہ لوگ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں ۔اس سے پہلے 1983میں جب ایک وحشی قبیلے کا بیرونی دنیا سے رابطہ ہوا تو محض دو سال کے عرصے میں اس کے 60فیصد لوگ مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...