عراق میں فوجی وردیوں کا کاروبار عروج پر، قیمت ڈیڑھ لاکھ دینار تک پہنچ گئی

عراق میں فوجی وردیوں کا کاروبار عروج پر، قیمت ڈیڑھ لاکھ دینار تک پہنچ گئی
عراق میں فوجی وردیوں کا کاروبار عروج پر، قیمت ڈیڑھ لاکھ دینار تک پہنچ گئی

  

بغداد (ویب ڈیسک) عراق میں ایک ماہ قبل پے درپے فتوحات اپنے نام رقم کرنے والی داعش کی شہرت کے ساتھ ملک بھر میں فوجی وردیوں کی خریداری کے عمل میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ فوجی یونیفارم میں یہ اضافہ اس وقت اپنے عروج کو پہنچا جب اہل تشیع کے اہم ترین رہنما آیت اللہ علی العظمیٰ علی السیستانی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی تیاری کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ کربلا اور نجف کے لئے خطرہ بننے والے گروپ کے خلاف پوری عراقی قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ سیستانی کے فتویٰ نما بیان کے بعد بڑی تعداد میں رضا کار نوری المالکی کی فوج کے زیر کمان داعش کی سرکوبی کے لئے بھرتی ہورہے ہیں۔ چونکہ فوج کے پاس اتنی بڑی تعداد میں فوجی وردیاں موجود نہیں ہیں جنہیں تمام رضا کاروں کو فراہم کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ رضا کار جنگجوﺅں نے خود سے مارکیٹ میں ریڈی میڈ یونیفارم کی خرید کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اب مارکیٹ میں لوگ محض فیشن کے لئے بھی فوجی وردیاں خریدنے لگے ہیں۔ خریداروں میں وزرائ، سیاست دان، دانشور، صحافی اور دوسرے لوگ بھی پیش پیش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بازار میں دو قسم کے فوجی یونیفارم دستیاب ہیں۔ ”مرقط“ جو 70 سے 80 ہزار دینار اور دوسری ”خاکی“ وردی جو ڈیڑھ لاکھ عراقی دینار تک فروخت ہورہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس