فلسطین میں قائم وہ گھر جس کے ایک حصے میں مسلم اور دوسرے میں یہودی خاندان مقیم ہے

فلسطین میں قائم وہ گھر جس کے ایک حصے میں مسلم اور دوسرے میں یہودی خاندان مقیم ...
فلسطین میں قائم وہ گھر جس کے ایک حصے میں مسلم اور دوسرے میں یہودی خاندان مقیم ہے

  


رملہ(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی اور فرانسیسی سامراج کے گٹھ جوڑ نے 1948ء میں یہودیوں کو فلسطین میں لا کر آباد کر دیا اور ان کے لیے فلسطین کی سرزمین پر نیا ملک ’’اسرائیل‘‘ قائم کر دیا۔ تب اسرائیل محدود رقبے پر محیط تھا لیکن بعد میں اسرائیل طاقت کے زور اور یورپی ممالک، خصوصاً امریکہ کی شہ پر نوآبادیاں بناتے ہوئے فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضے کرتا رہا۔ آج نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ فلسطینیوں کے گھر بھی تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ آپ شاید جان کر حیران ہوں کہ فلسطین میں ایسے کئی گھر موجود ہیں جہاں ایک ہی چھت کے نیچے اسرائیلی اور فلسطینی دو مختلف قومیتوں کے باشندے رہ رہے ہیں جہاں گھر کے درمیان اینٹوں کی ایک دیوار ہی ’’بارڈر‘‘ کا کام دیتی ہے۔

مغربی کنارے پر واقع شہر ہیبرون پربھی اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کیا اور یہودیوں کو لا کر آباد کر دیا۔ بعد میں بین الاقوامی دباؤ پر شہر کا کچھ حصہ فلسطین کو واپس کر دیا ۔ شہر کا 20فیصد حصہ اب بھی اسرائیل کے زیرانتظام ہے جبکہ سیکٹر ایچ 2مکمل طور پر اسرائیلی انتظامیہ چلا رہی ہے۔ اسی شہر میں کئی فلسطینی اور یہودی خاندان ایک چھت کے نیچے رہ رہے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک دیوار کا فاصلہ ہے جسے عبور کرنے کے لیے شاید ویزے کی ضرورت ہو۔ ایسے ہی ایک گھر میں رہنے والی ایک اسرائیلی خاتون کا کہنا ہے کہ میں اپنے گھر میں دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو بالکل نہیں جانتی، میں نہیں جانتی کہ وہ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے معمولات کیا ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس