روس کا نیا منصوبہ، ایسا خطر ناک ہتھیا رجسے پکڑنا تو کیا دیکھنا بھی دشمن کیلئے ناممکن ہے، امریکہ کی پریشانی میں اضافہ

روس کا نیا منصوبہ، ایسا خطر ناک ہتھیا رجسے پکڑنا تو کیا دیکھنا بھی دشمن کیلئے ...
روس کا نیا منصوبہ، ایسا خطر ناک ہتھیا رجسے پکڑنا تو کیا دیکھنا بھی دشمن کیلئے ناممکن ہے، امریکہ کی پریشانی میں اضافہ

  


ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی انتظامیہ میں اب بھی روس کو یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس (یو ایس ایس آر) بنانے کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہے۔ یوکرائن و دیگر ممالک میں جاری کشمکش روسی انتظامیہ کی اسی خواہش کا نتیجہ ہے۔ اب روسی صدر نے سرد جنگ(جس نے روس کے ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیاتھا) کے دور کا ایک اہم جنگی منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرکے جہاں دنیا بھر اور خصوصاً امریکا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے وہیں اپنی روس کو یو ایس ایس آر بنانے کی خواہش پر بھی مہرثبت تصدیق کر دی ہے۔ روس کے پاس سرد جنگ کے زمانے میں چھوٹی پیراہنا کلاس (Piranha Class)کی آبدوزوں کا ایک بیڑہ موجود تھا، جو روس کی شکست کے ساتھ ہی تباہ ہو گیا تھا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایک بار پھر انہی چھوٹی آبدوزوں کی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دنیا کی واحد آبدوزویں ہیں جو بغیر کسی بھی الیکٹرانک سسٹم کی دشمن کی نظروں سے پوشیدہ رہتی ہیں، سمندر کی تہہ میں ان چھوٹی چھوٹی آبدوزوں کا سراغ لگانا انتہائی مشکل کام ہے۔

پیراہنا آبدوزیں جہاں انتہائی گہرے سمندر میں ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتی ہیں وہیں انتہائی اتھلے پانیوں میں یکساں طور پر کارگرہوتی ہیں۔اس میں 9فوجی سوار ہو سکتے ہیں اور یہ بحری جہازوں کو تباہ کرنے والے آبی بم سمیت دیگر بھاری ہتھیاروں سے لیس ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کے انتہائی قریب جا کر وار کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ برطانوی اخبار دی مرر کے مطابق روسی فوجی ذرائع نے بتایا کہ صدر پیوٹن فوج کے کئی پرانے منصوبے دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں اورپیراہنا آبدوزوں کی تیاری اور اپ گریڈیشن وہ منصوبہ ہے جس سے صدر پیوٹن کی فوج سے وابستہ توقعات پوری ہو سکتی ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ پیراہنا آبدوزیں ساحل سمندر کے انتہائی قریب آ سکتی ہیں اور بہت چھوٹی ہونے کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا بھی تقریباً ناممکن ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر پیوٹن سرد جنگ کے دوران بمباری کرنے والے پائلٹس کو شمالی بحراٹلانٹک کی نگرانی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں جو برطانیہ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، اگر روس یہ اقدام اٹھاتا ہے تو برطانیہ کو بھی آر اے ایف کو حرکت میں لانا پڑے گا۔ دوسری طرف یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سویڈن کی سمندری حدود میں بھی متعدد روسی آبدوزیں گشت کر رہی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی