رسول اکرمؐ کا نور ہدایت

رسول اکرمؐ کا نور ہدایت
رسول اکرمؐ کا نور ہدایت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہے ،اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ہر طرح رحمت کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب قرآن اپنے پیارے آخری نبیؐ پر اتاری۔اس پاک قرآن کو انسانیت کے لئے راہ ہدایت قرار دیا۔ بے شک اس سے پہلے آنے والے نبیوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے چند کتابیں اتاریں ،لیکن ان تمام میں آخری نبیؐ کا تذکرہ فرمایا اور آنے والے آخری نبیؐ کی اطاعت کا اللہ نے حکم فرمایا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا اور ہم نے آپ کو تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آنحضورؐ کا مشن کسی ایک شعبہ زندگی کی اصلاح تک محدود نہیں تھا ،بلکہ ہدایات خداوندی کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں کی تطہیر و تعمیر کرنا تھا۔ آپؐ کی تحریک ہمہ گیر تھی، جس نے تمام شعبہ ہائے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر کے انسانیت کے تصور میں انقلاب برپا کر دیا۔ جزیرہ نما عرب سیاسی انتشار اور لاقانونیت کا شکار تھا۔ جنوبی عرب کے زرخیز علاقوں پر ایرانیوں کا قبضہ تھا، جبکہ شمالی عرب رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ ایرانی اور رومی اہل عرب کو محکوم اور حقیر سمجھتے تھے ،آپؐ نے بکھرے ہوئے اور انتشار کے شکار بدوی قبائلی اور ہمیشہ لڑنے والی قوم کو متحد کر کے ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا۔ مزید برآں مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کر کے اور مدینہ منورہ کو مرکزی حیثیت دے کر ان بدوی قبائل کو ایک حکومت کے تحت متحد کر دیا۔ ان میں نظم و ضبط اور اخوت و مساوات قائم کر کے ایران اور روم کی ترقی یافتہ عظیم قوموں کے دوش بدوش لا کھڑا کر دیا۔
عرب معاشرہ اقتصادی بدحالی کی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ جس کی اہم وجہ غلط قوانین اور سودی نظام تھا محسنِ انسانیتؐ نے سودی نظام کو حرام قرار دے کر زکوٰۃ، صدقے اور فطرانے کو رواج دیا۔ آپؐ نے سماجی بہبود کا جذبہ ابھار کر دولت کو گردش میں لانے کا انتظام کیا۔ اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام چل رہے ہیں۔ ایک سرمایہ داری نظام اور دوسرا کمیونزم۔ سرمایہ داری نظام کا مزاج اس قسم کا ہے کہ اس سے دولت چند ہاتھوں میں مرتکزہو جاتی ،جبکہ پوری قوم افلاس، غربت کے منہ میں چلی جاتی ہے، اسی نظام کے ردِ عمل سے دوسرا معاشی نظامِ اشتراکیت ظاہر ہوا جس کا اصول ہے کہ کوئی شخص اپنے کمائے ہوئے مال کا مالک نہیں ،سب دولت حکومت کی ہے وہ تمام لوگوں کو ضرورت کے مطابق دے گی ،یہ دونوں نظریات افراط اور انتشار کا شکار ہیں۔ آپؐ نے اس نظام کی بنیاد رکھی جس میں محنت کا عزت و احترام ہے، ملکیت کو بھی جائز قرار دیا ہے تاکہ محنت کا جذبہ زندہ رہے۔ تقسیم دولت کے لئے زکوٰۃ جیسا حکمتِ بالغہ پر مبنی قانون بنا دیا تاکہ ارتکارٍِ دولت کی بجائے تقسیم دولت عمل میں لائی جائے ،جس سے معاشی اثرات کے علاوہ معاشرتی اثرات بھی مرتب ہوں۔ امراء اور غرباء کے تعلقات خوشگوار رہیں دونوں طبقوں کے باہمی اتحاد اور اتفاق کی وجہ سے ملک اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رہے۔ سیرت و اخلاق کی اصلاح کے بغیر معاشرتی اصلاحات عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہیں۔


آپؐ نے سیرت و اخلاق کی اصلاح کو مقدم سمجھا اور ان برائیوں کا ،جو عرب معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی کی طرف لے جا رہی تھیں ،قلع قمع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ عرب معاشرے میں اجتماعیت کی سوچ پیدا فرمائی۔ نسلی اور طبقاتی امتیاز کی وہ تمام دیواریں گرا دیں جو سماجی اتحاد اور خوشحالی کی راہ میں حائل تھیں۔ عرب معاشرے کی اس سماجی اصلاح کے ذریعے دنیائے عالم کو وہ تاریخی سبق دینا تھا کہ معاشرتی بہبود ساری انسانیت کو ایک قوم، ایک نسل اور ایک طبقے کی صورت میں ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنے سے ممکن ہے۔ آپؐ کی نافذ کردہ سیاسی، مذہبی، اخلاقی، معاشی اور سماجی اصلاحات کا مقصد معاشرے کو مضبوط کرنا اور ہر قسم کی برائیوں سے پاک رکھنا تھا تاکہ انسان کی ذہنی اور باطنی قوتوں کو ایک پاکیزہ اور پر سکون ماحول میں نشو ونما کا موقع مل سکے۔ تہذیب و تمدن کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر ہو اور ایسا معاشرتی ماحول قائم ہو جائے جس میں انفرادی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے۔


آج کے زوال پذیر معاشرے میں ہمیں انہی اقدار کی ضرورت ہے جو آپؐ نے عالمگیر اور بین الاقوامی سطح پر مرتب فرمائیں۔ جہاں کوئی فرد کسی دوسرے کا حق غصب نہ کر سکے ،کسی فردِ واحد کو معاشی و نسلی فوقیت حاصل نہ ہو۔ معاشرے میں ہر فرد کو اس کی ذاتی صلاحیتوں کی بنا پر ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔ اس سلسلے میں ہمیں نہ صرف اپنے دلوں میں ایمانی روح کو زندہ کرنا ہوگا ،بلکہ اخلاقی جرائم کو ختم کرنے کے لئے صدقِ دل سے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جو انصاف و عدل کے بغیر ممکن نہیں۔ آخری نبیؐ، مولائے کل سرکارِ مدینہؐ کی ان نافذ کردہ اصلاحات ہی کا فیضان تھا کہ وہ سر زمین عرب جو طلوع اسلام سے پیشتر ہر قسم کی برائی، فسق و فجور، لاقانونیت، طوائف الملوکی، خانہ جنگی اور نفرت و عداوت کا مرکز تھی، تھوڑے عرصے میں تہذیب و تمدن، صلح و آشتی اور امن و راحت کا قابلِ رشک گہوارہ بن گئی۔ہر مسلمان امیر ہو یا غریب متقی، پرہیز گار ہو یا گنہگار ،اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے زندگی میں دربار حبیبؐ میں حاضری نصیب ہو ۔بے شمار مسلمانوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاک حبیبؐ کے روضہ پاک پر حاضری نصیب ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو (مسلمانوں) کو مختلف ملکوں میں آباد کر رکھا ہے ،اس لئے دیارِ حبیبؐ میں تھوڑی مدت تھوڑے دن قیام کی اجازت ملتی ہے۔ اسلام نے دینی عقائد و اعمال کا جو تصور قائم کیا ہے اس کی بنیاد بھی تمام تر رحمت اور محبت پر رکھی ہے۔ قرآن مجید کی مختلف تصریحات کے مطابق خدا اور بندوں کے درمیان بھی محبت کا رشتہ ہے ۔سرکارِ مدینہ کی تعریف میں لکھنے کے درمیان ایک ٹیلیفون کال مدینہ پاک کے سفر پر جانے والے کی آ گئی میں نے ان سے اپنی حاضری روضہ رسولؐ پر دعا کے لئے عرض کی ہے۔


جو لوگ ایمان والے ہیں ان کے دلوں میں سب سے بڑھ کر چاہت اللہ ہی کے لئے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،اے پیغمبر ، لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے واقعی محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو کیونکہ میں تمہیں اللہ سے محبت کی حقیقی راہ دکھا رہا ہوں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تم سے محبت کرنے لگے تو تمہارے گناہ بخش دے گا وہ بڑا غفور و رحیم ہے (آل عمران) خود رسولؐ اللہ کی ذات برکات سے محبت بھی اسی لئے دنیا بھر کے انسانوں پر فائق و برتر ہو گئی کہ ان کے ذریعے سے ہمیں خدا کا راستہ ملا۔ سرکارِ مدینہؐ کا ارشاد ہے ،تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک حقیقی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور پورے عالم انسانیت سے محبوب تر نہ ہو جاؤں ،رسول اللہؐ جو نورِ ہدایت لے کر آئے اس کے سوا ہدایت کا کوئی وجود نہیں اور انسان کے لئے سب سے پہلی چیز ہدایت حق ہے، اس کے بعد تمام رشتے آتے ہیں ۔رشتوں میں عزت و احترام کی تکمیل کے طریقے ہمیں اسی نور ہدایت سے ملے ہیں۔ جو آخری نبی رسول اللہؐ کے ذریعے سے ہماری زندگی میں مشعل راہ بنا، یہ بھی بتا دیا کہ خدائے بزرگ و برتر سے محبت کی عملی راہ خدا کے بندوں کی محبت سے ہو کر گزرتی ہے یا جو شخص چاہتا ہے کہ خدا سے محبت کرے، اسے چاہئے کہ رسول اللہؐ کی پیروی اور حضورؐ کے ارشادات کی روشنی میں خدا کے بندوں سے محبت کرے۔

مزید :

کالم -