پروفیسر وارث میر کی باتیں

پروفیسر وارث میر کی باتیں
پروفیسر وارث میر کی باتیں

  


پروفیسر وارث میر اپنے عہد کے آمر اور اس کی پھیلائی ہوئی جہالت، گھٹن، تنگ نظری اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف جدوجہد کرتے اور نوجوان نسل کے ذہنوں160میں عقل و خرد اور حریت فکر کے چراغ جلاتے 9جولائی 1987ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ ایک ممتاز دانشور ہر دلعزیز استاد اور نامور صحافی تھے۔آج 28برس بعد وارث میر پھر یاد آرہے ہیں ان کے افکار و نظریات آج بھی زندہ جاوید ہیں۔وہ ایک ایسے دانشور تھے، جنہیں اپنے معاشرے کے مسائل مشکلات اور معاملات کا گہرا ادراک تھا۔پروفیسر وارث میر کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مذہبی عدم برداشت کے جس سنگین مسئلہ سے آج پوری قوم دوچار ہے اس کے بیج ایک سابق آمر کے عہد میں بوئے گئے تھے۔دہشت گردوں نے مُلک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ مسجدیں محفوظ ہیں160نہ امام بارگاہیں، حتیٰ کہ قبرستانوں160میں اولیا کے مزار بھی ان دہشت گردوں سے محفوظ نہیں۔جنازوں میں بم دھماکے بھی اِسی جنونیت کا نتیجہ ہے۔ وطنِ عزیز کو ان دہشت گردوں نے لہو لہان کر دیا ہے۔پروفیسر وارث میر نے ربع صدی قبل مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسندی کے جن خطرات سے آگاہ کیا تھا آج وہ خطرات عملی شکل میں سامنے آ چکے ہیں اور پاکستانی قوم انہیں بھگت رہی ہے۔ پروفیسر وارث میر اِسی تنگ نظری اور انتہا پسندی کے مخالف تھے۔وہ گھٹن زدہ معاشرے میں علم و آگہی کے چراغ جلا رہے تھے وہ قوم کو رجعت پسندی، مذہبی عدم برداشت اور اندھی تقلیدکی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر تحقیق و جستجو اور تفکر و تعقل کی راہ پر ڈالنے اور مسلمانوں160میں سائنسی انداز فکر پیدا کرنے کے لئے کوشاں تھے۔

سرکاری ملازم ہونے کے باوجود حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف خوب لکھتے رہے۔ وارث میر کی فکر نے دو طبقوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔ ایک خواتین اور دوسرا نوجوان طبقہ، ان کا اصرار تھا کہ خواتین کو مقید کرنے والا معاشرہ خود مریض ہوتا ہے۔ پاکستان میں عورتوں کی آزادی کی جو تحریک چل رہی ہے، عورتوں کو نارمل زندگی گزارنے کی جس قدر بھی آزادی میسر آئی ہے اس میں وارث میر کا بھی کردار رہا ہے۔ ان کے ایک شاگرد نے انہیں حکومتی سختیوں اور ان کی ذات کو لاحق خطرات کے پیش نظر احتیاط کا مشورہ دیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں، وہ دن میری زندگی کا آخری دن ہو گا، جب مَیں نے اپنے قلم کی گرفت کو کمزور کیا۔انہوں160نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب سے مَیں نے یہ شعر پڑھا ہے نہ جانے مجھے کیا ہو گیا۔مَیں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتا:

دینا پڑے کچھ بھی ہرجانہ،سچ ہی لکھتے جانا

مت گھبرانا مت ڈر جانا،سچ ہی لکھتے جانا

باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں

وہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جانا

پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دبنا کیا جھکنا

آخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانا

پروفیسر کرار حسین نے ان کے متعلق کہا کہ ’’وارث میر کے نزدیک ترقی پسندی کسی فرقے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی کسی عقیدے کا نام ہے، بلکہ توانا اور زندہ فکر، زمانے کا صحیح شعور اور عوام میں خود آگہی ‘اپنے حقوق و آزادی کا تحفظ، غربت و افلاس، جہل، توہم پرستی کا استیلا اور تخلیقی جوہر کے فروغ اور وسیع تر کلچر کا نام ہے‘‘۔

وارث میر کو قلم فروش لکھاریوں سے نفرت تھی۔ انہیں پروفیسر سلیم احمد کی یہ نظم بہت پسند تھی:

بچپن میں160بوڑھوں160سے سنا تھا

کچھ لوگوں160پر جن آتے ہیں

جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں

وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنے آپ نہیں کہتے

جن ان سے کہلواتے ہیں

اب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے

کچھ لوگوں160پر لفظ آتے ہیں

جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں160

وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، اپنے آپ نہیں کہتے

لفظ ان سے کہلواتے ہیں

وہ اس گلشن ہستی میں صرف 48برس جئے، لیکن انہوں نے جتنے دن بھی زندگی گزاری اپنے ضمیر پر لبیک کہتے ہوئے گزاری۔انہوں160نے اکیلے وہ کام کیا جو بڑی بڑی لائبریریاں اور بڑے بڑے علمی اثاثے ہی مل کر کر سکتے ہیں۔اگر ان کی ساری تحریروں کو یکجاکیا جائے تو ان کے لکھے گئے صفحات ان کی زندگی کے مجموعی دنوں سے زیادہ ہی نکلیں160گے‘‘۔

مزید : کالم