نکاسیء آب: دور جدید اور قدیم کا موازنہ!

نکاسیء آب: دور جدید اور قدیم کا موازنہ!
نکاسیء آب: دور جدید اور قدیم کا موازنہ!

  


آج کا راوی دریا سے گندہ نالہ بن چکا، البتہ برسات کے موسم میں جب دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشیں زیادہ اور سیلاب کا خدشہ ہو تو بھارت والے اس میں فالتو پانی چھوڑ دیتے ہیں اور یہ پھر سے دریا بن جاتا اور نقصان بھی پہنچاتا ہے، بہرحال راوی تو ہے اور اس سے یادیں بھی وابستہ رہیں گی،آج کے دور میں سیلاب اور موسم کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کا مربوط نظام موجود ہے جس سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ بارش کہاں اور کتنی ہوئی۔ دریا میں پانی کا بہاؤ کیسا اور نکاس کتنا ہے، جبکہ راوی کے دور جوانی میں یہ سب نہیں تھا اور سیلاب بھی اچانک آتے تھے،لیکن تب بند کے اندر نہ تو فیکٹریاں اور نہ ہی کالونیاں بنی تھیں،آج صورت حال بالکل مختلف ہے، راوی کا پانی بھارت کو مل جانے کے بعد اس یادگار دریا میں پانی نہیں، سیوریج کا گند بہتا ہے، لوگ بے خوف اور بے خطر دریا کے اندر آبادی کے ساتھ ساتھ فیکٹریاں بھی لگا چکے ہوئے ہیں، تاہم برسات میں ان سب کو نوٹس بھی دیئے جاتے اور یہ خود بھی اپنا کچھ انتظام کرتے ہیں، اکثر تو پھر بھی مطمئن رہتے ہیں کہ بھارت سے چھوڑا گیا پانی اتنا نہیں ہوگا کہ ان کی بستیوں تک بھی آ جائے۔ چاہے مشرق سے آنے والا پانی ان کی توقعات سے کہیں زیادہ ہو، پھر یہ بند پر ڈیرہ ڈال دیتے اور پانی اترنے کے منتظر رہتے ہیں۔ میڈیا کو اچھی خبر مل جاتی ہے چاہے پس منظر کچھ بھی ہو، حالانکہ میڈیا کو ان آبادیوں اور سیلاب سے پیش آمدہ انسانی مسئلہ پر خبر بناتے وقت پس منظر پر بھی غور کرنا چاہیے۔

ہمیں اپنی طالب علمی کے دور میں دو مرتبہ سیلاب اور مسلسل بارش سے واسطہ پڑا، یہ غالباً 1951ء کی برسات تھی، جب راوی اور چناب جوان تھے ان کے بالائی علاقوں پر ڈیم نہیں بنے تھے اور برسات کا پانی سیدھا آتا تھا، یہ جو راوی ہے نا، اس کی تاریخ یہ بھی ہے کہ کبھی یہ قلعہ لاہور کے قریب سے بہتا تھا۔ جو رخ بدلتے بدلتے شاہدرہ کے قریب تک آ گیا اور مینار پاکستان کے ساتھ بڈھا راوی کے نام سے اپنی نشانی چھوڑ گیا۔ ذکر 1951ء کا تھا، جب زور دار بارش ہوئی، دریا بپھر گیا۔ حتیٰ کہ جنوبی کنارے کی طرف پھیل گیا اور اس وقت کے معمولی سے بند کو روندتا ہوا۔ شمالی لاہور کے علاقوں شادباغ، وسن پورہ اور تاج پورہ سے ہوتا ہوا مصری شاہ تک آیا، حتیٰ کہ اک موریا پل تک پہنچ گیا۔ سیلابی پانی کی سطح اتنی تھی کہ مصری شاہ اور وسن پورہ آنے جانے اور سامان نکالنے کے لئے کشتیاں استعمال کرنا پڑیں۔ نوجوان اور لڑکے بڑی ٹیوبوں میں ہوا بھر کر سفر اور مزے کرتے رہے اس سیلاب کے بعد ہی شمالی لاہور کے تحفظ کے لئے دریا کے جنوب میں بند بنانا پڑا، جس کے کہیں کہیں آثار مل جاتے ہیں۔ بند کو تو اکثر مقامات سے ادھیڑ دیا گیا ہے، اس کے اندر فیکٹریاں اور آبادیاں بن چکی ہیں ۔

پھر اس سے اگلے سال ایک اور تجربہ ہوا، لاہور کا پرانا شہر ماضی کی روایات کے مطابق ایک ٹیلے پر آباد کیا گیا۔قلعہ اور شہر اردگرد کے باقی علاقوں سے اونچائی پر ہے اور تب تو نکاسی آب کا نظام بھی سائیفن سسٹم کے مطابق تھا۔ گلی محلوں کی نالیاں، بازاروں کے کناروں بنائی گئی بڑی نالیوں سے ملی ہوئی تھیں اور یہ سب شہر کے اردگرد بنے نکاسی آب کے نالے سے منسلک تھیں اور پانی اس میں آ گرتا تھا، یوں شہر میں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تھا اور ہم سب برسات کو بارش میں نہا نہا کر انجوائے کرتے تھے۔ جس وقت اور دن کی یاد آئی وہ یہ تھا کہ لاہور شہر کے اندر پانی کھڑا ہوا اور گھروں کے نچلے حصے میں داخل ہو گیا تھا، وجہ یہ کہ بارش مسلسل تین روز سے زیادہ عرصہ ہوئی۔ سارا وقت ایک دوست کے گھر مقید رہے، جب بارش شروع ہوئی تو احساس نہ ہوا، بارش رکنے کا انتظار کرتے رہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی، حتیٰ کہ ایک روز گزر گیا تو گلی میں پانی جمع نظر آیا، پھر تو کھانا پینا یہیں ہوا، ٹیلی فون کی سہولت عام نہیں ہوئی تھی، اس لئے ایک شیر جوان تیار ہوا ہمت کی اور لنگوٹ کس کر پانی میں اترا اور سب کے گھروں میں خیریت کی اطلاع دی اور ان کی معلوم کرکے واپس آ گیا۔ یہ وقت بہت مشکل تھا اور جب تین روز کی مسلسل بارش کے بعد بوندا باندی اور پھر بارش رک گئی تو بازاروں گلیوں میں کھڑا پانی نکلنے میں بھی ہی تیز تھا اور جلد ہی سب پہلے جیسا ہو گیا۔ اس کے بعد شہر میں ایسا وقت نہیں آیا۔

یہ ذکر یوں کیاکہ اس کے بعد آبادی پھیلی اور نکاسی آب کے نظام میں تبدیلی آئی۔ دریا کو تو بند سے روک لیا گیا۔ ہر برسات میں راوی پلوں پر دباؤ بڑھتا تو شاہدرہ ٹاؤن کی طرف اوپر والے حصے کا بند توڑ دیا جاتا تھا، اور پانی شاہدرہ اور ملحقہ آبادیوں میں پھیل کر شہر کو بچا لیتا تھا، اب ایسی صورت حال ہی نہیں، پھر بھی سیلابی صورت ہو تو بھارت پانی روک کر اپنا نقصان نہیں کرتا۔یاد ماضی والی بات ہے اور بھی بہت کچھ منسلک ہے لیکن گزارش صرف یہ کرنا ہے کہ لکشمی چوک والا نالہ، میکلوڈ روڈ والا، جیل روڈ اور سمن آباد والا یا شہر کے کئی دوسرے نالے برساتی تھے۔ سارا سال خشک رہتے اور بارش کے دنوں میں پانی لے جاتے تھے۔ آج یہ سب بھی گندے نالے بن چکے اور سیوریج کا کام دے رہے ہیں، ان میں اتنا زیادہ کچرا اور گند بھر گیا ہوا ہے کہ سطح ہی کم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ان نالوں کے اردگرد ہی نہیں ان کے اوپر بھی تجاوزات ہو چکیں، بلکہ پلازے بن گئے ہوئے ہیں اور ان کو صاف کرانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی، اب نیا منصوبہ بنا کر یہ نالے باقاعدہ 56انچ قطر کے پائپ ڈال کر سیوریج بنائے جا رہے ہیں۔

بات طویل ہوگئی۔ مثال یوں دی کہ جس دور کو موجودہ دور والے جہالت یا غیر ترقی یافتہ دور کہتے ہیں، اس زمانے کے ماہرین تو شہر آباد کرتے اور پھر اس کا نظام بناتے وقت نکاسی آب، باغات، درختوں اور آمد و رفت کے منسلکہ راستوں کا دھیان رکھتے تھے۔ آج بھی پرانے شہر میں پانی کھڑا نہیں ہوتا ماسوا کہ گندگی کے باعث کوئی نالی بند نہ ہو گئی ہو، لیکن جب بھی برسات ہو، شہر کے مخصوص علاقوں چوک ناخدا، لکشمی چوک اور جی پی او چوک جیسے اہم مقامات پر گھنٹوں گھنٹوں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ ایسا کتنے مقامات پر ہوا ہے اب گنتی کرنا ہوگی۔ شہر کے اردگرد جو بستیاں بسیں ان کے لئے نکاسی آب کا نظام ہی غلط طو رپربچھایا گیا اور اب واسا والے یہ بھی نہیں کر پاتے کہ جو مقامات مسلسل پریشان کرتے ہیں وہاں سے نکاسی آب کا کوئی موثر طریقہ ایجاد کر لیا جائے، حالانکہ اب تک کئی منصوبے بنا کر کروڑوں نہیں اربوں روپے ضائع کر چکے ہیں ، اصولاً تو پہلے باریک بیتی سے وجوہات کا پتہ چلانا اور پھر کوئی منصوبہ بنانا چاہیے ورنہ تو یہ مسئلہ لاینحل چلا آ رہا ہے، اس پورے مسئلہ پر از سر نوغور کرنے کی ضرورت ہے کہ نئی آبادیوں، کالونیوں اور رہائشی سکیموں کی حالت ابتر ہے۔

مزید : کالم