وارث میر۔۔۔ایک ترقی پسند دانشور

وارث میر۔۔۔ایک ترقی پسند دانشور
وارث میر۔۔۔ایک ترقی پسند دانشور

  

یہ 8 جولائی 1987 کی شب کا ذکر ہے۔ ابا جی کی طبیعت چند روز سے ناساز تھی لیکن وہ بیماری کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ نہ تھے۔ ان دنوں کرکٹ ورلڈ کپ کا شور چہار جانب تھااور اس روز پاکستان کا انگلینڈ سے میچ چل رہا تھا۔ ہم بچے رات تقریباً ایک بجے تک ابا جی کے کمرے میں موجود ٹی وی پر میچ دیکھتے رہے اور بعد ازاں سونے کے لئے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ رات کے آخری پہر ابا جی کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی۔ ان کے سینے میں درد تھا اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ صبح تقریباً پانچ بجے داد اجی نے ہمیں جگایا اور کسی ڈاکٹر کا بندوبست کرنے کو کہا۔ ہمارے ہمسائے میں پنجاب یونیورسٹی کے میڈیکل آفیسر رہتے تھے۔ ہم انہیں بلا لائے۔ انہوں نے ابا جی کا چیک اب کرنے کے بعد انہیں دو انجکشن لگائے مگر ان کی طبیعت سنبھلنے کی بجائے اور زیادہ بگڑ گئی۔ انہیں گھر کے قریب واقع شیخ زید ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیاگیا تاہم ہسپتال روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے اکھڑتی سانسوں کے درمیان والدہ صاحبہ کو کچھ ضروری ہدایات دیں۔ اس کے بعد وہ خود چل کر گاڑی میں بیٹھے۔ ہسپتال پہنچے تو ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر دروازہ لاک کرکے سورہا تھا۔ بمشکل اسے جگایا گیا، ڈاکٹر نے چیک اپ شروع کیا۔ اس وقت ابا جی کو سانس لینے میں شدید دشواری پیش آرہی تھی۔ انہیں فوری طورپر آکسیجن ماسک لگایا لیکن گیس کا سلنڈر خالی تھا۔ والد صاحب ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھ بیٹھے۔ وہ پتہ نہیں کیا کہنا چاہتے تھے۔ گھر سے نکلتے وقت بھی ان کی زبانی یہی الفاظ سنائی دیئے ’’صرف اڑتالیس برس۔۔۔ابھی بہت کام تھے‘‘۔ ہسپتال کے بیڈ پر بھی جب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے انہیں اپنے کام کی فکر تھی جوان کے تئیں ابھی ادھورا تھا۔ اسی دوران انہوں نے اونچی آواز میں کلمہ شہادت پڑھا اور پھر آنکھیں موند لیں۔ یہ 9 جولائی 1987 کی صبح تھی۔ اباجی اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوچکے تھے۔

ابا جی بنیادی طورپر نہایت حساس طبع انسان تھے۔ وہ ایک شفیق باپ تھے اور بھولپن کی حد تک معصوم آدمی تھے۔ زندہ دلی ان کے مزاج کا خاصہ تھی۔ چونکہ ہر معاملے میں ان کی اپنی ایک رائے ہوتی تھی اس لئے مدلل انداز میں اس کا اظہار بھی کرتے تھے۔ ان میں خلوص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس کے باعث وہ اپنے شاگردوں اور دوستوں میں ہردلعزیز سمجھے جاتے تھے۔ جو لوگ انہیں قریب سے جانتے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان کے سینے میں کس قدر مہربان دل دھڑکتا تھا۔ انہیں داؤ پیچ نہیں آتے تھے اور ان کی گرجدار آواز ہر راز کو فاش کردیتی تھی۔ ابا جی ذاتی رجحانات کے بارے میں کسی مصلحت یا مصالحت کے قائل نہیں تھے اس لئے نظریاتی مخالفین شدید دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود انہیں ان کے مؤقف سے ہٹانے میں ناکام رہے۔ ان کے قلم میں کاٹ تھی۔ سچ کہنے اور لکھنے کی پاداش میں انہیں ہراساں بھی کیاگیا مگر وہ اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے نظریات اور افکار کا ببانگِ دہل اظہار کرتے رہے۔

مجھے اپنے ابا جی کی ہمہ جہت اور سحر انگیز شخصیت کے بہت سارے پہلو یاد ہیں۔ دادا جی اور ابا جی میں جو باتیں قدر مشترک تھیں، وہ اپنے کام سے محبت اور علم دوستی تھی۔ ابا جی جب کبھی کسی دوسرے ملک جاتے تو واپسی پر کتابوں سے بھرے ہوئے اٹیچی کیس لے آتے تھے۔کتابوں سے انہیں عشق تھا جو عمر بھر رہا۔ وہ خود کو ترقی پسند یعنی پروگریسو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ وہ ایک روشن خیال اور لبرل سوچ رکھنے والے دانشور تھے۔ ان کی فکر جہادی نہیں بلکہ اجتہادی تھی ۔وہ تلوار کی بجائے قلم کی طاقت پر یقین رکھتے تھے اور مسلمانوں کو علم و خرد کا اسیر دیکھنا چاہتے تھے۔ فکری لحاظ سے وہ حریت فکر اور آزادی اظہار کے زبردست حامی تھے اور آمریت کی ہر شکل سے نفرت کی حد تک گریز کے قائل تھے۔ وہ مذہبی پیشوائیت اور ملائیت کے زبردست مخالف تھے۔ ان کا شمار مولانا حنیف ندوی مرحوم سے متاثران چند سرپھرے دانشوروں میں کیا جاسکتا ہے جو فقہ اسلامی کو بذریعہ اجتہاد عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے۔ شاہ ولی اللہؒ ، علامہ محمد اقبالؒ ،محمد علی جناحؒ اور سرسید احمد خان کے بھی وہ اسی لئے معتقد تھے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو جدید علوم اور عصری تقاضوں سے آشنا ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں میں پائی جانے والی بے جا تقلید ، رجعت پسندی اور فرقہ پرستی کے رجحانات کے وہ سخت ناقد تھے اور اس بات کے قائل تھے کہ مسلمانوں کو ماضی کے حوالے سے جذباتیت اور رومانویت سے نکل کر خود تنقیدی کی نظرپیدا کرنی چاہیے تاکہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرکے حال اور مستقبل کو بہتر بنایا جاسکے۔

وہ اختلافِ رائے کو برا نہیں جانتے تھے کہ اس سے تحقیق کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’’سوچنا، سوال کرنا، شک کرنا اور انکار کرنا ہی علم کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہنے اور اسی لئے انہوں نے ضیاء مارشل لاء کی ڈٹ کر مخالفت کی اور اسے عوامی امنگوں کا قتل عام قراردیا۔

پچیس برسوں سے زائد پر محیط اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران والد صاحب نے حریتِ فکر ، انسانی حقوق، اجتہاد، حقوق نسواں، اقبالیات، فلسفہ، مذہب، سماج، سیاست، نفسیات، دائیں اور بائیں بازو کی سیاست و صحافت، آزادی اظہار، ادبیات، شخصیات، پاکستان کی آئینی تاریخ اور بین الاقوامی سیاست سمیت دیگر سینکڑوں امور پرلکھا۔ ان کا فکری رجحان آغاز سے ہی مختلف الجہات رہا۔ اوائل عمری سے ہی ادب ، مذہب، فلسفہ اور نفسیات سے شغف رکھتے تھے۔ مطالعہ کا بہت زیادہ شوق رکھنے کی وجہ سے انہیں تحقیق سے دلچسپی پیدا ہوئی جس کا رنگ ان کی ہر تحریر میں نظرآتاہے۔ جب وہ میدان عمل میں آئے تو خود کو ایسے ماحول میں پایا جہاں دائیں بازو کی سیاست اور صحافت کا دور اپنے عروج پرتھا۔ انہوں نے چونکہ ایوب دور میں اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا اس لئے ان کی اس دور کی تحریروں میں بھی ضیاء دور کی تحریروں کی جھلک نظر آتی ہے۔ دونوں ادوار میں انہوں نے مارشل لاء حکومت کی مخالفت اور صحافت پر عائد پابندیوں کی مذمت کی۔ اپنے کیرئیر کی ابتداء میں ان کی بیشتر تحریریں سماجی ، معاشرتی، صحافتی اور علمی و ادبی موضوعات سے متعلق ہوتی تھیں۔ بعد میں ان کا فکری رحجان معروضی حالات کے مطابق مختلف جہتوں کی طرف مائل رہا۔ آپ 1970 کی دہائی میں پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک کو اپنی تحریروں کے ذریعے بڑی طاقتوں کے عزائم سے آگاہ کرتے رہے اور خطرے کا احساس دلاتے رہے۔ والد محترم ایک خاص مدت تک مغربی تہذیب کے ناقد بھی رہے۔ اس دور کا نقطہ عروج ان کے لندن میں حصول تعلیم کی غرض سے تین سالہ قیام کا زمانہ قراردیا جاسکتا ہے۔ اس دوران اہل مغرب کی طرف سے اسلام ، پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک کے خلاف جاری ریشہ دوانیوں، روارکھی جانے والی چیرہ دستیوں اور معاندانہ رویوں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے قارئین کی فکری رہنمائی بھی کرتے رہے۔

یورپ میں مجموعی طور پر اپنے تین سالہ قیام کے بعد والد صاحب پاکستان واپس آئے تو ان کی فکر میں کافی حد تک تبدیلی واقع ہوچکی تھی۔ اب وہ اجتماعیت اور بین الاقوامیت کا درس دینے لگے تھے۔ ان کی اس فکری تبدیلی کو سوچ کا ارتقا، کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جمہوریت پسند وہ شروع دن سے تھے، جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے مارشل لاء نافذ کیا تو والد صاحب لندن میں تھے تاہم اپنے قلم سے انہوں نے اس آمرانہ عمل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی۔ 1984 میں جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو مزید طول دینے کے لئے اسلام کے نام پرجو ریفرنڈم کروایا اوربعد ازاں 1985 میں جو غیر جماعتی انتخابات کروائے ، ان دونوں اقدامات کی مذمت میں بھی والد صاحب نے پوری قوت سے اپنا قلم استعمال کیا۔

جب انہوں نے ضیاء الحق کے خود ساختہ شریعت بل کی مخالفت میں اپنا قلم چلایا تو انہیں نہ صرف ملک دشمن بلکہ اسلام دشمن بھی قراردے دیاگیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام اپنوں ہی کے ہاتھوں غیر محفوظ ہوگیا تھا۔ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اس زمانے میں والد صاحب نے اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے خلاف چومکھی جنگ لڑی۔ شریعت بل کی مخالفت کی پاداش میں والد صاحب کو دھمکانے اور ذہنی اذیت پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفات سے ایک روز قبل ناسازی طبع کی وجہ سے انہوں نے اپنا آخری مضمون مجھے ڈکٹیٹ کروایا۔ جس کا عنوان تھا کیا ترقی پسندانہ فکر سیم و تھورہے‘‘؟ یہ مضمون دراصل جنرل ضیاء الحق کی الحمراء ہال لاہور میں کی جانے والی ایک تقریر کا جواب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ کہ ان کی حکومت پاکستان کی زمین سے سیم و تھور کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نظریاتی سرزمین سے بھی سیم و تھور ختم کرنے کا پروگرام بنارہی ہے۔ اپنے اس آخری جوابی مضمون میں والد صاحب لکھتے ہیں’’ان خیالات کو پڑھنے کے بعد اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ جنرل صاحب کا اشارہ جی ایم سید یاولی خان کی طرف ہے تو اسے یہ غلط فہمی دور کرلینی چاہیے ، کیونکہ قیام پاکستان کے یہ کھلے کھلے ناقدین جنرل صاحب کی حکومت کے حلیفوں کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ دراصل جب جنرل ضیاء پاکستان دشمنوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ صرف ان پڑھے لکھے لوگوں کا ذکر کررہے ہوتے ہیں جو اپنی شناخت ترقی پسندانہ خیالات کے حوالے سے کراتے ہیں اور اپنے دل میں شدت سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان روشن خیال شہریوں کی ماڈرن سٹیٹ کے حوالے سے ابھرے ، اس کی فکری شخصیت میں قوت اور توانائی پیدا ہو، اس کے عوام میں اپنے حقوق اور آزادی کے تحفظ اور غربت ، افلاس ، جہل اور اوہام پرستی کے خاتمے کا حوصلہ پیدا ہو اور اس میں ایسا سیاسی اقتصادی نظام پروان چڑھے جو استعماری سہاروں کا محتاج نہ ہو۔ جو معاشرے کے ہر فرد کے تخلیقی جوہر کو جلا بخشے اور اپنے کلچر کو جدید انسان کی ضروریات کے مطابق اس قدر وسعت دے کہ اس میں اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیت بھی عزت ووقار کی زندگی بسر کرسکے۔ ایسی سوچ رکھنے والے ہی دراصل پاکستان کے سچے دوست ہیں۔ وہ اس مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’نظریاتی سیم و تھور ختم کرنے کی بات کرنے والوں کا اصل مسئلہ پاکستان سے زیادہ اقتدار کا استحکام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اقبالؒ اور جناحؒ کے ترقی پسندانہ اور روشن نظریات کی سرزمین پاکستان میں آبیاری کی بجائے ان کی قوتِ نمو کو رجعت پسندانہ پالیسیوں کی سیم وتھور کے سپرد کردینے والوں کو مؤرخ کس نام سے یادکرے گا۔

مزید :

کالم -