پنکچر

پنکچر
پنکچر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

افسوس تبدیلی کی جائز خواہش کو عمران خان نے رسوا کردیا۔ اٹھارہ کروڑ کی قوم کسی اور کی نہیں، خود عمران خان کی بدولت اب سیاست کی اُسی باسی کڑھی پر اکتفا کرے گی۔ ایک بار پھر تبدیلی کی حقیقی قوتیں اپنے مقاصد کے حوالے سے صبر آزما عرصے میں لپٹ گئیں۔ عمران خان کا یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ انہوں نے معاشرے میں موجود حقیقی جذبات کو نہایت پست سطح پر استعمال کیا اور اب اُس کے کسی اعلیٰ سطح پر استعمال کے موقع کو اندیشوں سے آلودہ کردیا۔ ہر گزرتا دن اب یہ موقف مستحکم کر رہا ہے کہ عمران خان تبدیلی کے کسی جمہوری اور آئینی عمل پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ایک ایسے ’’موقع‘‘ پر یقین رکھتے ہیں جو اُن کے لئے ارزاں کر دیا جائے۔چنانچہ اسی ’’موقع‘‘ کی تلاش نے اُنہیں کسی موقف پر بھی مستقل طور پر کھڑے رہنے نہیں دیا۔ وہ ہر دور میں بدلتے اور نئی جُون پلٹتے رہے۔انہیں مشرف کی حمایت پر معافی مانگنی پڑی۔ مشرف کی مخالفت کی وجہ چودھری برادران کی طرف اُن کا جھکاؤ تھا۔ تب وہ اُنہیں پنجاب کا ’’ڈاکو‘‘ قرار دیتے تھے۔ مگر پھر وہ اُن کے آستانۂ عالیہ پر’’ روٹی شوٹی‘‘ کھا آئے۔ شیخ رشید کے بارے میں اُنہوں نے بازاری زبان تک کا استعمال کیا۔عمران خان نے معاشرے کے روایتی لب ولہجے کا پاس نہ رکھتے ہوئے شیخ رشید کے لئے مختلف مواقع پر ’’بے شرم ، شیدا ٹلی اور اسے میں کبھی اپنا چپراسی بھی نہ رکھوں‘‘ جیسے ناقابلِ برداشت الفاظ استعمال کئے۔ پھر وہ اچانک شیخ رشید پر فدا ہو گئے۔ اُن کی بعد کی سیاست بھی ایسی ہی سیاسی قلابازیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ پہلے وہ روایتی سیاست کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ پھر وہ اُسی سیاست کو اختیار کرنے لگے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ عمران خان اپنے کسی موقف پر اب مستحکم طور پر کھڑے نظر نہیں آتے۔ پینتیس پنکچرز کا افسانہ بھی اُسی میں شامل ہے۔


پینتیس پنکچر کے قصے کو تحقیقاتی کمیشن میں لانے سے گریز کے بعد بآلاخر عمران خان نے حامد میر کے ایک پروگرام میں اسے ایک سیاسی بات قرار دے دیا۔ یہ ایک ناقابلِ دفاع مقدمہ تھا جس کا کوئی ثبوت اب تک مہیا نہ کیا جاسکا تھا، جو لوگ پینتیس پنکچر کے حوالے سے کسی مبینہ ٹیپ کو سننے کے مدعی تھے وہ سب ایک ایک کرکے اپنے ہی دروغ کے شکار ہوتے گئے۔ چنانچہ عمران خان اس صورت حال سے خود کو مطابق کرنے کے لئے ہاتھ پیر ہلا رہے ہیں۔ مگر اس سے اُن کی بصیرت اور اُن کے توازن کا پردہ بھی چاک ہو رہا ہے۔عمران خان کے نئے موقف کے بعد عارف علوی نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے ’’معافی‘‘ مانگنے کا راستا اختیار کیا۔ ذرا عارف علوی کی ٹوئیٹ ایک بار پھر پڑھ لیتے ہیں:
"It is time to apologise for 35 punctures. Many rumours regarding source of information & content were afloat and i believed some of them"


پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ معذرت نہیں ہے۔ نہایت سادہ لوحی سے اپنے پروپیگنڈے پر اپنے ہی اعتبار کی ایک توجیہہ ہے، مگر معذرت کے یہی الفاظ اگر کچھ دیر کے لئے درست تسلیم کر لئے جائیں تو یہ ایک مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں غوروفکر کا اپنا کوئی نظام ہی نہیں رکھتیں اور اُنہیں حالات کے دباؤ میں لے کر کسی بھی طرح اور کسی بھی طرف دھکیلا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں تحریکِ انصاف قیادت کی اپنی اہلیت کا بنیادی مقدمہ ہار جاتی ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ معذرت کے یہ الفاظ بھی سچے نہیں۔ وہ پینتیس پنکچر کے جس موقف کو افواہوں اور ’’ذرائع‘‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اُس کے وہ شکار نہیں بلکہ خود ذمہ دار تھے۔ تحریکِ انصاف کی طرف سے تمام پروپیگنڈے کا مرکز خود اُن کے اپنے صاحبزادے ہیں۔ (تفصیلات کسی اور موقع پر اُٹھا رکھتے ہیں)پھر عارف علوی نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس ٹیپ کے اپنے یا عمران خان کے حوالے سے سنے جانے کا موقف غیر مبہم الفاظ میں اپنایا تھا۔ یہ بات نرم سے نرم الفاظ میں دروغ گوئی کے زمرے میں آتی ہے۔ یوں معذرت کے یہ الفاظ بھی تحریک انصاف کے اب تک اختیار کردہ کردار کے عکاس نہ تھے۔اور معذرت بھی معذرت خواہانہ تھی، مگر تحریکِ انصاف نے یہ الفاظ بھی برداشت نہ کئے۔ اور عارف علوی کے اس ٹوئیت کو خود اُن کی جماعت نے ہی مسترد کردیا۔ ابتدا جہانگیر ترین نے کی۔پھر نعیم الحق نے اس کو طلعت حسین کے پروگرام نیاپاکستان میں ایک نیا زاویہ دیا کہ ہمارے ہاں یہ غلط تاثر لیا جاتا ہے کہ سیاسی بات جھوٹ ہوتی ہے وہ سچ بھی ہو سکتی ہے۔ عمران خان نے جو کہا اُس سے مراد یہ ہے کہ وہ سیاسی بات بھی تھی اور سچ بھی تھی۔ گویا عارف علوی کی مسترد شدہ معذرت کے ساتھ ایک بار پھر تحریکِ انصاف نے نعیم الحق کے الفاظ میں اپنے اب تک کے ناقابلِ دفاع موقف پر دوبارہ مراجعت کی تھی۔ عمران خان نے بھی ایک بار پھر اپنے موقف کا چولا بدلا اور کہا کہ پینتیس نہیں یہ 72 پنکچر کا معاملہ ہے۔ان رہنماؤں کی یہ گفتگو سن کر ملانصیر الدین یاد آتے ہیں۔ ملانصیر الدین اپنے دوستوں کو شکار کے فرضی قصے سناتے رہتے تھے۔ دوستوں نے بھانڈا پھوڑنے کے لئے اُنہیں شکار پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ جہاں ایک مرغابی پانی کی سطح پر تیرتی نظر آئی۔دوستوں نے انہیں نشانا بازی کے جوہر آزمانے پر مجبور کیا، ملانصیر الدین نے بندوق چلائی نشانا خطا ہو گیا۔مرغابی اُڑ گئی، ملانصیر الدین ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوئے اور اُڑتی مرغابی کی طرف حیرت سے اشارا کرتے ہوئے بولے کہ ’’پہلی مرتبہ ایک مری ہوئی مرغابی کو اڑتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ اب اس کا کیا علاج کیا جائے؟


نعیم الحق نے نیاپاکستان میںیہ وضاحت کی کہ عبدالحفیظ پیر زادہ نے کہا تھاکہ کمیشن میں اُن الزامات کو نہیں لایا جائے، جن کے ثبوت نہ ہوں۔ یہ بات دراصل ایک انکشاف کا درجہ رکھتی ہے، کیونکہ کمیشن سے پہلے یہ بات خود عبدالحفیظ پیرزادہ نے ہی طے کردی کہ تحریک انصاف نے جتنے بھی ’’الزامات‘‘ اب تک لگائے تھے اور وہ کمیشن میں پیش نہیں کئے گئے وہ بلاثبوت تھے۔ گویا عمران خان اور اُن کی پوری جماعت الزامات کی تکرار کرتے ہوئے اپنے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں رکھتی تھی۔ وہ بہتان تراشی کرتی رہی۔اب ذرا عمران خان کے مینارِ پاکستان کے اُس تاریخی جلسے کو یادداشت میں اجاگر کرتے ہیں، جس نے غلط فہمیوں کا پورا جنگل اُگا دیا اور عسکری اداروں کے بعض لوگوں کے سینوں میں تحریک انصاف کی محبت کا دودھ اُتارا۔


عمران خان نے مینارِ پاکستان کے تاریخی جلسے میں قوم سے چھ وعدے کئے تھے۔اگرچہ عمران خان کی سیاست کو اُن کے اِن چھ وعدوں کی روشنی میں تولنے اور ٹٹولنے کی ضرورت ہے، مگر یہاں اُن چھ میں سے صرف ایک وعدے کو تازہ کرتے ہیں۔اُن کا پہلا وعدہ ہی یہ تھا کہ ’’میں اپنی قوم سے ہمیشہ سچ بولوں گا‘‘۔ بقیہ پانچ وعدوں کا ذکر کرنے کے بعد عمران خان نے یہ کہا تھا کہ ’’مَیں ایک بھی وعدے سے پیچھے ہٹا تو مجھے تحریکِ انصاف سے ہٹا دیا جائے‘‘۔عمران خان پر لازم ہے کہ وہ پینتیس پنکچرز کے حوالے سے اپنا سچ ثابت کریں یا پھر اپنے وعدے کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ ہر روز موقف بدل لینے سے وہ نجات نہ پاسکیں گے۔ عمران خان نے صرف اپنے پینتیس پنکچر والے موقف کو پنکچر نہیں کیا ، بلکہ تبدیلی کی جائز خواہش کو بھی پنکچر کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید :

کالم -