نیب کا احتساب؟

نیب کا احتساب؟
نیب کا احتساب؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کیا سپریم کورٹ پہلی بار نیب کا احتساب کر رہی ہے؟ یہ سوال در حقیقت ایک تاثر ہے جو میرے ذہن میں پل رہا ہے۔ نیب نے پہلی بار سپریم کورٹ کے حکم پر 150 میگا کرپشن کیسوں کی تفصیل پیش کی ہے۔ یہ تفصیل بذاتِ خود نیب کے خلاف ایک چارچ شیٹ کا درجہ رکھتی ہے ۔اس سے یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ خود نیب کے اندر ایسا کوئی نظام موجود نہیں، جس کے ذریعے وہ خود اپنا احتساب بھی کر سکے، نہ ہی مملکت کے کسی ادارے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ نیب کی یہی مادر پدر آزادی اس کی بد نما کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سپریم کورٹ کو بھی نیب کے خلاف کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ،البتہ وہ اُس سے کارکردگی رپورٹ اور مقدمات کی تفصیل طلب کر سکتی ہے۔ جیسا کہ اُس نے کی ہے اور اِن مقدمات پر کارروائی کا اشارہ بھی مانگا ہے جو صفر دکھائی دے رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کی اس رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے خود نیب پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کو عدالتی کٹہرے میں لانے کے بعد ایسے بہت سے خلا سامنے آ رہے ہیں، جن سے فائدہ اُٹھا کر خود نیب اور کرپٹ مافیا احتساب کی گرفت سے بچتا رہا ہے۔۔۔ مثلاً جن کیسوں کی تفصیل پیش کی گئی ہے، اُن میں کئی پندرہ پندرہ سال پرانے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیب پر مقدمات کی تفتیش ،انہیں نمٹانے یا اُن کا چالان پیش کرنے کے لئے نہ کوئی دباؤ ہے اور نہ مدت کا تعین ۔


مسلم کمرشل بینک کی نجکاری کیس کو نیب نے 14 برسوں سے لٹکا رکھا ہے، اس کے باوجود سپریم کورٹ سے مزید چار ماہ کی مہلت مانگی ہے ،جسے عدالتِ عظمیٰ نے مسترد کر دیاہے۔ اس قدر بے تحاشا اختیارات رکھنے والا ادارہ آج تک کسی کو نشانِ عبرت نہیں بنا سکا۔ کسی بڑی شخصیت کو احتساب کے شکنجے میں جکڑ کر سزا نہیں دلوا سکا، بس چند پٹواریوں، سرکاری افسروں کو پکڑ کر اُن سے پلی بارگین کر کے لوٹی گئی دولت کا ستر فیصد نکلوا کر نیب فتح کے شادیانے بجا رہا ہے۔۔۔ذرا اندازہ لگایئے نیب کو کس طرح خود کرپشن کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ ایک طرف اتنے اختیارات کہ کوئی گرفت نہ کر سکے ،دوسری طرف پلی بارگیننگ کا صوابدیدی فیصلہ کرنے کی آزادی ۔۔۔نہ کوئی فارمولا اور نہ ہی پوچھ گچھ جس پر جہاں بس چلا، جہاں تک ہاتھ ڈلا، فیصلہ کر دیا۔ میرے نزدیک تو یہ بھی بھتہ خوری والا قانون ہے کہ آپ لوٹی گئی دولت کی واپسی میں حصہ دار بن جائیں۔ کہنے کو یہ افسران کی حوصلہ افزائی کا ایک طریقہ ہے ،مگر ہم جیسے معاشرے میں اس کا استعمال مثبت ہو ہی نہیں سکتا۔


آج ہی ملتان کی ڈیٹ لائن سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ٹریفک وارڈن شہر میں ٹریفک کا نظام رواں دواں رکھنے کی بجائے صرف چالان کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں بھی معاملہ چالان کی مد میں حاصل کی گئی رقم میں حصہ داری ہے۔ دوسرا محکمے کے سارے اخراجات حکومت اس جرمانے سے پورا کرنا چاہتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس طریق کار کے کارکردگی پر تو اثرات ہوں گے۔ ساری توجہ جب چالان کرنے پر ہو گی تو ٹریفک کون چلائے گا۔ کچھ یہی حال نیب کا بھی ہے۔ اپنے ذاتی مالی فائدے کے لئے پلی بارگین کی ترغیب دینے والے افسران معاشرے میں احتساب کا خوف کیسے پیدا کر سکیں گے۔ لوٹنے والا کئی سال بعد پکڑا جاتا ہے، اس دوران لی گئی رقم کا سود ہی اتنا بن جاتا ہے کہ وہ بآسانی پلی بارگین کر سکتا ہے۔ اس لئے کرپٹ لوگوں کے لئے تو پلی بارگیننگ ایک نعمت ہے اور اُنہیں کرپشن کے لئے ہلہ شیری دینے کے مترادف ۔۔۔لیکن اس قانون کو کبھی ختم نہیں کیا جائے گا۔


جب آپ لوٹ کے پیسے میں حصہ دار بنتے ہیں تو پھر آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ جاری رہے تاکہ آمدنی کا ذریعہ بند نہ ہو، اگر پلی بارگین کے ذریعے رہا ہونے والوں کو پندرہ پندرہ سال کی سزائیں ہوئی ہوتیں اور کورٹ کے ذریعے بھاری جرمانے وصول کئے جاتے تو سزا و جزا کا تصور قائم ہوتا ،پھر دوسروں کو بھی کان ہو جاتے اور کرپشن کرتے ہوئے لوگ سوبار سوچتے۔۔۔اس قانون کو بنانے کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مقدمات سے ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ لوٹی دولت خزانے میں واپس آئے گی تو ملک کا بھلا ہوگا۔ گویا ملک کا بھلا کرپشن ختم کرنے میں نہیں، لوٹی دولت واپس لانے میں ہے۔ یہ مضحکہ خیز منطق پاکستان میں کرپشن کو جائز قرار دینے کی ایک بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں ۔کرپشن ختم کرنے سے معاشرہ بہتر ہوتا ہے، گورننس میں شفافیت آتی ہے، لوگوں کے مسائل حل ہوتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ قانون کی عملداری قائم ہوتی ہے۔ یہ راستہ چھوڑ کر آپ پاکستان کو لوٹ مار کر کے قومی خزانے کو آدھا پیسہ دینے والوں کی جنت بنا دیں تو کس کا جی چاہے گا کہ وہ یہ راستہ اختیار نہ کرے۔ سپریم کورٹ کو نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے پلی بار گیننگ کی تفصیلات بھی طلب کرنی چاہئیں اور اس قانون کے جواز کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔


سپریم کورٹ میں نیب نے جن مقدمات کی تفصیل فراہم کی ہے، اُن میں پاکستان کے تمام بڑے سیاسی رہنما شامل ہیں، ایسے تمام ملزمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے خلاف تمام کیس جھوٹے اور سیاسی بنیاد پر بنائے گئے ہیں،اس پر میرے ذہن میں یہ سوال کھٹکتا ہے کہ نیب قوانین کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کرپشن ہے، اگر ماضی کے نیب چیئرمینوں نے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جھوٹے کیس بنائے تو کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں ،پھر اُن کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ تمام چیئرمینوں کے خلاف جھوٹے ریفرنس بنانے پر مقدمات درج کیوں نہیں کئے جاتے۔ نیب کو احتساب کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہئے تاکہ وہ تمام چہرے سامنے آ سکیں جنہوں نے احتساب کے نام پر قوم کے ساتھ مذاق کیا اور کرپٹ اہل اقتدار کو لوٹ مار کرنے کی کھلی چھٹی دی۔۔۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان میں پیٹی بھائیوں کو بچانے کی جو روش موجود ہے، اُس کی وجہ سے آنے والا جانے والے کے تمام اعمال کو جائز قرار دینے کا ٹھیکہ اُٹھا لیتا ہے۔


سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے اس کیس کی وجہ سے اب یہ سوال بڑی شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر نیب احتساب کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر ملک میں ایسا کون سا ادارہ ہے جو کرپشن کے خلاف کارروائی کرے گا؟ یہ تو سیدھا سادہ ریاست کی ناکامی ہے کہ اس میں کوئی ایسا مؤثر ادارہ ہی موجود نہ ہو جو کرپشن کی بیخ کنی کر سکے۔ناکامی یہاں تک رہی کہ نیب صرف کلرکوں، پٹواریوں اور ٹھیکیداروں سے تو پلی بارگین میں کامیاب رہا، کسی سیاستدان سے ایک پیسہ بھی نہیں نکلوا سکا۔ سوئس بنکوں میں جو اربوں روپے پڑے ہیں،نہ اُنہیں واپس لایا اور نہ منی لانڈرنگ کے ثابت شدہ کیسوں میں قومی خزانے کو کوئی فائدہ پہنچا سکا۔ اس کا مطلب ہے نیب پلی بارگینگ میں بھی ایک حد تک آزاد ہے، جس کے بعد اُس کے پر جلنے لگتے ہیں۔ ہر چیئرمین نیب کو تعینات کرتے وقت اُس کی جرأت مندی، انصاف پسندی اور غیر جانبداری کے ان گنت ڈھنڈورے پیٹے جاتے ہیں، آئینی عہدہ ہونے کے باوجود چیئرمین نیب کبھی آزادانہ کام نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ شخصی کمزوریاں تھیں یا حکومتی جبر؟ اس سے قطع نظر یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ان کی وجہ سے نیب کا ایک غلط تاثر قائم ہوا اور یہ بات مسلمہ قرار پائی کہ بڑی شخصیات کے خلاف مقدمات کو انجام تک پہنچانے کی نیب میں ہمت اور صلاحیت موجود نہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ میگا کرپشن کیسوں کی تفصیل بھی اسی حقیقت کو طشت از بام کر رہی ہے۔


سپریم کورٹ میں نیب کی فہرست سے اخبارات کی شہ سرخیاں اور ٹی وی چینلوں کی بریکنگ نیوز تو بن گئیں، مگر کیا اب عملی طور پر بھی کچھ ہوگا؟ کیا نیب بدلے ہوئے حالات کے تقاضوں پر پورا اُترنے کی جرأت کرے گا، کیا چیئرمین نیب قمر الزمان یہ چاہیں گے کہ ان کا نام بھی اُن ناکام چیئرمینوں کی فہرست میں لکھا جائے جنہوں نے کرپشن کے سیلاب کو روکنے کی بجائے مصلحتوں سے کام لیتے ہوئے حالات کو دیوالیہ پن کی حد تک پہنچا دیا؟ سپریم کورٹ احتساب کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی جو کوشش کر رہی ہے، اللہ کرے وہ کامیاب ہو، کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ ہم کرپشن کے اُس عفریت کو تباہ کرنے میں کامیاب رہیں جو ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

مزید :

کالم -