لاہور سے کراچی، دو رویہ ریل کی پٹڑی!

لاہور سے کراچی، دو رویہ ریل کی پٹڑی!

ریلوے کے وزیرخواجہ سعد رفیق نے سینیٹ کمیٹی میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی سے لاہور تک دو رویہ ریل کی پٹڑی مکمل کرنے پر جلد ہی کام شروع ہونے والا ہے اور یہ اِسی سال مکمل ہو جائے گا، وزیر ریلوے کا یہ بیان بڑا حوصلہ افزا ہے اور ان سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ جس محنت کے ساتھ ریلوے کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں وہ دو رویہ پٹڑی والے کام کو بھی جلد شروع کراکے مکمل کرا لیں گے کہ کراچی اور لاہور کے درمیان زیادہ طویل حصہ ایسا نہیں، بلکہ بہت تھوڑا ہے جسے مکمل کرا لینا مشکل نہیں اور زیادہ اخراجات بھی نہیں ہوں گے البتہ اس کا فائدہ بہت زیادہ ہے کہ گاڑیوں کو ریلوے سٹیشن پر کھڑا کرکے کراسنگ کرانا وقت کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔ریلوے ٹریک دو رویہ ہو جانے سے زیادہ گاڑیاں چلائی جا سکیں گی ان کی رفتار بہتر ہوگی اور وقت کی بچت کے ساتھ وقت کی پابندی بھی ممکن ہوگی۔ خواجہ سعد رفیق کو اس پر مبارک ہی دی جا سکتی ہے، اس سے پہلے وہ رسالپور ورکشاپس کی بحالی کا یقین دلا چکے ہوئے ہیں اور اسے قابل عمل بنانے کے لئے ایک معاہدہ بھی ہو چکا کہ غیر ملکی (امریکی) کمپنی کے ساتھ مل کر انجنوں کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔ یہ بھی بہتر منصوبہ ہے، ایسے کاموں کی تکمیل ہوتی چلی گئی تو جلد ہی پاکستان ریلوے اپنا کھویا وقار حاصل کرلے گی۔

مزید : اداریہ