محترمہ فاطمہ جناحؒ کی زندگی کے روشن پہلو!

محترمہ فاطمہ جناحؒ کی زندگی کے روشن پہلو!

مادرِ ملت۔آبروئے ملت

یومِ وفات پر خصوصی تحریر

شاہد رشید

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ وہی قومیں باعزت طور پر زندہ رہتی ہیں جو اپنے رہنماؤں کی خدمات کو فراموش نہیں کرتیں۔ ان سے ملنے والے نظریاتی ورثوں کی صرف حفاظت ہی نہیں کرتیں بلکہ ان کی تبلیغ و اشاعت کا فرض بھی سرانجام دیتی ہیں۔ یہی نظریاتی وابستگی‘ قوموں کو فکر حریت اور خودشناسی کے جذبوں سے مالامال کرتی ہے اور وہ ایک آزاد‘ خود مختار اور غیرت مند قوموں کی حیثیت سے اپنا مقام بناتی ہیں۔مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی ایسی ہی نادر اورنابغۂ روزگار ہستی تھیں جن کی خدمات کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ عظیم اسلامی مملکت پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے لوث، انتھک محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنوں اور بیگانوں کی سازشوں کے باوجود بکھرے ہوئے مسلمانوں کو متحد کیا‘ ایک قوم بنایا اوراس جدوجہد میں ان کی عظیم بہن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی برابر کی شریک رہیں۔ اگر عظیم بھائی کی جدوجہد میں عظیم بہن کا خلوص‘ محنت اور معاملہ فہمی شامل نہ ہوتی تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کس قدر طویل ہوجاتی اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا۔ حصولِ پاکستان کی تحریک کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعدمادرِ ملتؒ نے جس سیاسی بصیرت و قیادت‘ جرأت مندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ وہ نہ صرف محسنۂ ملت بلکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔ جہاں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مشعل اسلام کی روشنی میں تاریک راہوں کو منور کیا وہاں ان کی جانثار معاون اور اسلام سے رہنمائی حاصل کرنے والی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے اس مشعل کو تھامے رکھنے والے نحیف و نزار بازوؤں کو اپنے فکروعمل سے تقویت بخشی۔ بھائی کو اگر امت مسلمہ کی محرومی و غلامی بے چین کئے رکھتی تھی تو بہن اس عظیم بھائی کے بے چین دل کو سکون و راحت پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتی تھی۔

ایک طرف 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے باوجود کسی نہ کسی شکل میں غلامی کے خلاف جہدوجہد ہوتی رہی دوسری طرف قدرت بھارتی صوبے گجرات کی ریاست گوندل کو تاریخ میں نمایاں مقام دلانے والی تھی۔ اس ریاست کے ایک گاؤں کا نام تھا پانیلی۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں ایک شخص پونجا نامی بھی رہتا تھا۔ ان کے تین بیٹے تھے والجی بھائی ، نتھو بھائی اور جناح بھائی۔ بیٹی صرف ایک تھی جس کا نام مان بی تھا۔ شیریں جناح کے مطابق جناح بھائی سب سے چھوٹے تھے۔ چھریرابدن ، چھوٹا قد غالباً اسی لئے جینا کہلاتے تھے جس کے معنی ہیں (دبلا ،پتلا)۔ جینا کو جناح انہوں نے خود بنایا یا یہ اصلاح سسرال والوں نے کی، یہ بات تحقیق طلب ہے۔ جناح کے معنی ہیں بازو۔ بہر حال بعد ازاں پونجا کو پونجاہ اور جینا کو جناح لکھا جانے لگا۔ پونجا کھڈی کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ انہوں نے جناح کو بھی اسی کام میں لگا دیا۔ جناح کاروبار کو موضع پانیلی تک محدود رکھنے کے خلاف تھے اور اسے گوندل جیسے بڑے شہر تک وسعت دینا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ والد نے جناح ؒ کو کچھ رقم دیکر کہا کہ اسے کسی نفع بخش کام میں لگاؤ۔ جناح نے ایسا ہی کیا اور معقول منافع کمایا۔ باپ نے خوش ہو کر جناح کے لئے اپنی اسماعیلی خوجہ برادری میں لڑکی تلاش کرنی شروع کر دی۔ بالآخر نواحی گاؤں ڈھرنا کا اسماعیلی خاندان پسند آگیا اور اس کی لڑکی میٹھی (شیریں) بائی کی شادی جناح ؒ سے کر دی گئی۔ یہ 1874ء کا واقعہ ہے۔ شادی کے بعد جب تجارت کو فروغ حاصل ہوا تو جناح خاندان کراچی آگیا۔ یہاں آکر نیو نہام روڈ(کھارادر) پر ایک عمارت کا کچھ حصہ کرایہ پر حاصل کر لیا گیا۔ جناح بھائی نے کراچی میں، مشکلات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ تجارت میں کافی رقم جمع کر لی۔ کراچی میں اس وقت انگریزوں نے کچھ کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں جو درآمد اور برآمد کا کام کرتی تھیں۔ ان میں ایک فرم گراہم سن شپنگ اینڈٹریڈنگ کمپنی تھی۔ اس کے جنرل منیجر فریڈرک لیہہ کے ساتھ جناح بھائی کے مراسم استوار ہوئے تو ان کی وساطت سے انگلستان اور ہانگ کانگ کے بعض تاجروں کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ جو افغان تاجر قندھار (افغانستان) سے کراچی آتے تھے ان سے جناح بھائی نے فارسی زبان سیکھی۔ انگریزی میں انہوں نے پہلے ہی کچھ شدبد حاصل کر لی تھی۔ اگرچہ جناح خاندان گجراتی زبان بولتا تھاتاہم کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے سندھی کے علاوہ کچھ اور زبانوں پر بھی عبور حاصل کرلیا۔ جناح ؒ بھائی کی زوجہ میٹھی بائی کے ہاں 25دسمبر 1876ء کو ایک لڑکا تولد ہوا جس کا نام محمد علی رکھا گیا۔ بعد ازاں دو بیٹیاں رحمت اور مریم پھر احمد علی اور بعد ازاں شیریں پیدا ہوئیں 31جولائی1893ء کو میٹھی بائی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب جناح پونجا کے بیٹے محمد علی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان میں تھے۔

فاطمہ جناح ؒ کے بعد مٹھی بائی کے ہاں صرف ایک ولادت ہوئی۔ اس بچے کا نام بندے علی رکھا گیا اس ولادت کے بعد میٹھی بائی وفات پا گئیں۔ والدہ کی وفات کے وقت فاطمہ کی عمر دو سال تھی چنانچہ بڑی بہن مریم، فاطمہ کی پرورش کرنے لگیں۔ اس طرح فاطمہ اوائل عمر میں ہی ماں کی ممتا سے محروم ہو گئیں۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو انگلستان میں تعلیم پانے والے بھائی کے بارے میں باتیں سُن سُن کر ان سے ملنے کو دل تڑپنے لگا۔ وہ بھائی کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتی تھیں بالآخر محمد علی انگلستان سے واپس آئے تو وہ بھی چار سالہ بہن فاطمہ کی دل کو موہ لینے والی باتیں سن سن کر بے حد محظوظ ہوتے تھے۔ اس وقت محمد علی کے والد کی تجارت روبہ زوال ہو چکی تھی چنانچہ 1897ء میں محمد علی نے بمبئی جا کر پریکٹس شروع کر دی اور وکلا کے حلقے میں جلد ہی ان کا نام مشہور ہو گیا۔ 1900ء میں محمد علی کو مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔ یہ آسامی عارضی تھی۔ انہوں نے اپنے خاندان کو بھی کراچی سے بمبئی بلا لیا۔ فاطمہ جناح ؒ اپنی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ میں لکھتی ہیں : ’’جناح ؒ بھائی کی رفیقۂ حیات ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھیں۔ والدہ کا انتقال اور والد کا کاروبار تباہ ہو چکا تھا اس لئے والد نے محمد علی کی بات مانتے ہوئے کراچی کی سکونت ترک کر دی اور بمبئی پہنچ گئے۔‘‘ جب خاندان بمبئی آگیا تو فاطمہ 8سال کی ہو چکی تھیں چنانچہ گھر پر ہی ان کی تعلیم کا بندوبست کر دیا گیا۔ محمد علی معصوم بہن کی باتیں سُن سُن کر بہت محظوظ ہوتے تھے۔ بہن بھائی میں ایسی محبت تھی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے اور ان کی یہی محبت آگے چل کر دائمی شکل اختیار کر گئی۔ بھائی نے بہن کی پرورش کا ذمہ لے لیا اور بہن نے بھائی کے ارمانوں کی تکمیل کی ذمہ داری قبول کر لی اور دونوں ہی اپنے اپنے مشن کو مکمل کرنے میں لگ گئے۔ قدرت نے جن ہستیوں سے عظیم کام لینا ہوتا ہے وہ ان کی رہنمائی بھی خود کرتی ہے۔ بچپن میں لڑکیوں کو گڑیوں کا کھیل بہت پسند ہوا کرتا ہے لیکن فاطمہ کو اس کھیل سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ بچپن سے ہی مطالعہ کی عادی تھیں انہیں کھانے پینے کا قطعاً شوق نہ تھا۔ صرف چاکلیٹ شوق سے کھاتیں اور پورا دن چاکلیٹ کھا کر ہی گزار دیتیں۔ انہیں سائیکل کی سواری بہت پسند تھی۔ فرصت کے اوقات وہ سائیکل چلا کر گزارتیں۔ بچپن سے ہی انہیں سادہ لیکن صاف ستھرا لباس پسند تھا۔ زیورات سے دور بھاگتی تھیں البتہ کسی زیور میں اگر موتی جڑے ہوئے ہوتے تو اسے پہنناپسند کرتی تھیں۔

جناح بھائی کی وفات) 17اپریل (1902کے بعد محمد علی جناح ؒ خود بہن کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دینے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا اور انگریزی تعلیم دلوانا تو گناہ عظیم قرار پایا تھا۔ فرنگی کے سائے سے بھی بچنے کو ثواب سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے والوں کو معاشرے میں نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسی ماحول سے متاثر ہو کر اپنے تجربات کی روشنی میں سر سید احمد خان نے آگے چل کر قوم کے لئے انگریزی کی تعلیم کو ترقی کی بنیاد قرار دیا اور ان کی انتھک کوششوں سے علی گڑھ یونیورسٹی معرض وجود میں آئی۔ محمد علی نے فاطمہ کو سکول میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا تو توقع کے مطابق خاندان میں مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوالیکن محمد علی ؒ اپنے فیصلے پر اڑے رہے۔ خاندان والوں نے محمد علی کی طرف سے مایوس ہو کر فاطمہ کو ورغلانا شروع کر دیا کہ وہ خود ہی سکول میں داخل ہونے سے انکار کر دے لیکن محمد علی نے فاطمہ سے کہا کہ ’’فاطمہ وہی انسان کامیاب ہوا کرتے ہیں جو کوئی فیصلہ کرنے کے بعد اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں‘‘۔ آٹھ سالہ فاطمہ نے عظیم بھائی کا یہ قول پلے باندھ لیا۔ قائداعظم ؒ خود بھی زندگی بھر اس اصول پر کار بند رہے کہ انسان کو فیصلہ کرنے سے قبل سوچ بچار کر لینا چاہئے اور جب وہ کوئی فیصلہ کر لے تو پھر اس پر ڈٹ جانا چاہئے۔ یہی وہ بنیادی اصول تھا جس پر عمل کر کے انہوں نے پاکستان قائم کر دکھایا۔ انگریز حاکموں اور ہندوسرمایہ داروں نے انہیں اس راہ سے ہٹانے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے۔ لالچ اور دھمکیاں دیں یہاں تک کہ تحریک آزادی کے آخری ایام میں گاندھی نے یہ پیشکش کر دی کہ وہ متحدہ ہندوستان کے خود وزیراعظم بن جائیں لیکن پاکستان کا مطالبہ ترک کردیں۔ قائداعظمؒ نے یہ پیشکش شکریے کے ساتھ ٹھکرا دی اور فرمایا ’’ میری قوم کا مفاد قیام پاکستان میں ہے اس لئے پاکستان ضرور قائم ہو گا۔‘‘ ننھی فاطمہ نے بھی بھائی سے یہ اصول سیکھا اور پھر زندگی بھر اس پر قائم رہیں۔

قائداعظمؒ نے جوان دونوں صرف محمد علی جناح ؒ کے نام سے جانے جاتے تھے 1902ء میں فاطمہ کو باندرہ کے کانوینٹ سکول میں داخل کرا دیا۔ فاطمہ کو تعلیم سے رغبت دلانے کے لئے قائداعظمؒ نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی عجیب و غریب دکھائی دیتا ہے۔ خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود فاطمہ بھائی کے فیصلے کو قبول کر چکی تھیں لیکن تعلیم کے لئے ایک نئی جگہ (سکول) جاتے ہوئے انہیں کچھ پریشانی محسوس ہوتی تھی۔ قائداعظمؒ نے ان کی اس پریشانی کو بھانپ لیا۔ ایک دن بگھی میں فاطمہ کو بٹھا کر باندرہ کے اس سکول میں لے گئے جہاں انہیں داخل کرانا مقصود تھا۔ فاطمہ کو مختلف کلاسیں دکھاتے رہے اور جب فاطمہ نے تھکن کی شکایت کی تو واپس گھر لے آئے۔ انہوں نے چند مرتبہ اس عمل کو دہرایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاطمہ سکول کے درودیوار سے مانوس ہو گئیں اور وہ کسی گھبراہٹ کے بغیر ہنسی خوشی سکول جانے لگیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ محض سیاست دان ہی نہ تھے بلکہ وہ نفسیات کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ وقت کی مناسبت سے جب قوم سے مخاطب ہوتے تھے تو ان کی ایک ایک بات افراد مِلت کے دلوں میں اتر جاتی تھی۔ چونکہ باندرہ کا یہ سکول رہائش گاہ سے کافی فاصلے پر تھا اس لئے فاطمہ کی رہائش کاانتظام بھی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں کر دیا گیا۔ فاطمہ تعلیم میں گہری دلچسپی لینے لگیں۔ سکول کا ماحول انہیں بے حد اچھا لگا۔ صاف ستھرا رہنا انہیں پہلے ہی مرغوب تھا سکول کے ماحول نے اس میں اور جاذبیت پیدا کر دی۔ وہ پڑھائی میں ہمیشہ اپنی کلاس میں اول آتیں۔ سکول کی استانیاں ان سے بے حد خوش تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فاطمہ کبھی جھوٹ نہ بولتی تھیں۔

1906ء میں بھائی نے بہن کو سینٹ پٹیرک سکول گھنڈا میں داخل کرا دیا۔ یہاں 1910ء میں فاطمہ نے میڑک کاامتحان نمایاں طور پر پاس کیا۔ سکول کی تعلیم سے فارغ ہو کر فاطمہ بھائی کے پاس آگئیں۔ ان دنوں محمد علی جناح ؒ عدالتی امور میں بے حد مصروف رہتے تھے پھر بھی وہ فاطمہ کی دلجوئی کے لئے کچھ وقت نکال لیا کرتے تھے۔ محمد علی جناح ؒ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ فاطمہ ان کی عدم موجودگی میں تنہائی کے احساس سے بددل نہ ہو جائے چنانچہ جب وہ عدالت جانے لگتے تو فاطمہ کو بھی اپنے ہمراہ بگھی میں بٹھا لیتے۔ راستے میں ان کی ہمشیرہ بیگم پیر بھائی کا گھر پڑتا تھا وہ فاطمہ کو وہاں اتار دیتے اور فاطمہ یہاں اپنی بڑی بہن اور پھوپھی کے بچوں کے ہمراہ وقت گزارتیں۔ واپسی پر محمد علی جناح ؒ فاطمہ کو اپنے ہمراہ گھر لے آتے کھانا کھاتے اور اکٹھے سیر کو نکل جاتے۔ اسی دوران فاطمہ سینئر کیمبرج کے امتحان کی تیاری کرتی رہیں۔ 1913ء میں انہوں نے یہ امتحان بھی پاس کر لیا۔ یہ قائداعظمؒ کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ فاطمہ شستہ اور با محاورہ انگریزی بولنے لگیں۔ انہوں نے اپنی گھریلو لائبریری سے استفادہ کیا جہاں مختلف علوم کی نادر کتابیں موجود تھیں۔ اس طرح واقفیت عامہ میں بھی انہیں مہارت حاصل ہو گئی۔

1923ء میں فاطمہ نے بمبئی کی عبدالرحمن سٹریٹ میں اپنا ڈینٹل کلینک قائم کر لیا۔ یہ ان کی عملی زندگی کی ابتدا تھی۔ فاطمہ اس کلینک کے ذریعہ قریباً سات سال تک عوام کی خدمت کرتی رہیں۔ اسی دوران وہ ایک میونسپل کلینک میں بھی جاتیں جو دھوبی تلاؤ پر واقع تھا ،وہاں وہ غریبوں کا علاج مفت کیا کرتیں۔ 1928ء میں محمد علی جناح ؒ اپنی بیگم مریم جناح کے ہمراہ انگلستان چلے گئے اور اپنی بیٹی دینا کو پھوپھی فاطمہ کے پاس چھوڑ گئے۔ دینا کی عمر اس وقت نو سال تھی۔ قائداعظمؒ کی انگلستان سے واپسی پر دینا والد کے پاس واپس چلی گئی۔ ان دنوں قائداعظمؒ کانگرس کے پلیٹ فارم سے سیاست میں حصہ لے رہے تھے۔ سیاسی رہنما قائداعظمؒ سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر آتے جہاں فاطمہ بھی موجود ہوتیں۔ وہ سیاسی رہنماؤں کی باتیں بڑے غور سے سنا کرتیں۔ اس طرح سیاست سے ان کی دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔

تحریک پاکستان میں یوں تو اور بھی متعدد قد آور شخصیات قائداعظمؒ کے ہم رکاب تھیں اوروہ سب قائداعظمؒ سے والہانہ لگاؤ بھی رکھتی تھیں مگر محترمہ فاطمہ جناح ؒ کی قائداعظمؒ سے محبت وعقیدت اپنی مثال آپ تھی۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ کو قائداعظمؒ سے جس قدر قلبی لگاؤ تھا اتنا شاید کسی بہن کو بھائی کے ساتھ اور کسی کارکن کو اپنے لیڈر کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔

محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے جہاں سیاسی میدان میں قائداعظمؒ کا خلوصِ دل اور خلوصِ نیت کے ساتھ بھرپور ساتھ دیا وہاں ایک شفیق و دانا بہن بن کر ان کی نجی زندگی کو بھی خوشگوار اور آسودہ بنائے رکھا۔ اپنے اس دوہرے کرداراور دوہری ذمہ داری کی بنا پر انہیں تحر یک آزادی وطن میں حصہ لینے والے دوسرے قائدین پر فوقیت حاصل تھی۔ 1938 ء میں جب محترمہ فاطمہ جناحؒ نے سیاست میں قدم رکھا اس وقت سے لے کر 1947ء یعنی قیام پاکستان تک محترمہ فاطمہ جناحؒ کی نجی اورسیاسی زندگی برصغیر کی آزادی کی تحریک میں زریں حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔

قائداعظمؒ کی اہلیہ کے انتقال کے بعد محترمہ فاطمہ جناح ؒ کو بھائی کا گھر اجڑنے سے فکر لاحق ہوگئی چنانچہ انہوں نے اپنی تمام دیگر مصروفیات ترک کر دیں اور بھائی کا گھر سنبھال لیا۔ اب ان کے سامنے دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو گھریلو امور تک محدود کر دیں اور دوسرا یہ کہ وہ سیاسی میدان میں بھی بھائی کا ہاتھ بٹائیں۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒ ایک انتھک خاتون تھیں۔ انہوں نے دونوں ذمہ داریاں سنبھال لیں اور بھائی کی وفات حسرت آیات تک انہیں جس خوش اسلوبی سے نبھایا اس کی مثال مشکل سے ہی مل سکے گی۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ حضرت قائداعظمؒ کی نہایت قابل اعتماد بہن تھیں۔ قائداعظمؒ فاطمہ پر اس حد تک اعتماد کرتے تھے کہ جب ان کے سیکرٹری کوئی مسودہ ٹائپ کر کے لاتے تو وہ انہیں کہتے اسے فل کونسل میں پڑھیں۔ فل کونسل سے مراد قائداعظمؒ اور محترمہ فاطمہ جناح ؒ تھیں۔ اسی طرح قائداعظمؒ اپنے بیانات محترمہ فاطمہ جناحؒ کو پڑھائے بغیر جاری نہیں کرتے تھے۔وہ بھائی کی دلجوئی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مفید مشورے بھی دیتی تھیں۔ وہ بھائی کی لکھی ہوئی تحریر کا مطالعہ اور اس کی حفاظت بھی کرتی تھیں۔

قائداعظمؒ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہو ئے تو اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لئے انہیں ہندوستان آنا پڑا لیکن اس اجلاس میں شرکت کے بعد وہ پھر واپس لندن چلے گئے۔ جب نوابزادہ لیاقت علی خان نے قائداعظمؒ سے وطن واپسی کی درخواست کی تھی تو قائداعظمؒ نے انہیں جواب دیا تھا کہ وہ واپس جا کر ملکی حالات کا جائزہ لیں اور پھر انہیں صورتحال سے آگاہ کریں چنانچہ وطن واپس آکر وہ ملک کے رہنماؤں سے ملے اور ان کے خیالات معلوم کئے۔ جب انہیں اطمینان ہو گیا تو انہوں نے قائداعظمؒ کو مطلع کیا کہ حالات سازگار ہیں آپ ضرور تشریف لے آئیں۔ چنانچہ 24اکتوبر 1935ء کو قائداعظمؒ محترمہ فاطمہ جناحؒ کے ہمراہ وطن واپس آگئے اور سیاست کو اس مقام سے آگے بڑھانے کی کوشش کرنے لگے جہاں سے چھوڑ کر وہ لندن گئے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ فرماتی ہیں’’1935ء میں ہم انگلستان سے واپس ہندوستان آگئے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان کانگرس کے تعصب کی وجہ سے اس سے برگشتہ ہو چکے تھے۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ آزادی کی اس جنگ میں اپنے بھائی کے ہمراہ ایک سپاہی کی حیثیت سے شریک تھیں۔ تاریخی قرارداد لاہور کی منظوری کے بعد قائد اعظم ؒ نے برصغیر کے طول و عرض کے دوروں کا آغاز کیا۔ مسلمانوں کو منظم اور متحرک کرنے کے لیے وہ ہر جگہ گئے۔ان دوروں میں محترمہ فاطمہ جناحؒ ان کے ساتھ ہوتیں۔ برصغیر کی خواتین کو بیدارکرنے اور انہیں میدان عمل میں لانے کے لیے انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا جس کے باعث قائد اعظمؒ اور مسلم لیگ کا پیغام برصغیر کے کونے کونے میں پہنچا۔ برقع پوش خواتین میدان میں نکل آئیں اورانہوں نے ایثار و قربانی کی لازوال تاریخ اپنے لہو سے رقم کی۔ تحریک پاکستان کے دوران محترمہ فاطمہ جناحؒ نہایت دشوار اور دور دراز علاقوں اور شہروں میں خواتین کے اجلاسوں سے خطاب کرنے جاتی تھیں۔ خواتین کے جلسوں میں محترمہ فاطمہ جناحؒ قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کے مشن پر روشنی ڈالتیں۔ وہ انہیں لائحہ عمل سے آگاہ کرتیں اور تلقین کرتیں کہ وہ مردوں کے دوش بدوش آزادی کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتیں اوران کی بہترین کارکردگی پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کرتیں۔ تحریک پاکستان کو تیز کرنے کے لیے وہ یہ درس دیتی تھیں کہ قیام پاکستان کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ عورت کا ہاتھ ہے جو کل کے بچے اور آج کے نوجوان کی زندگی کو ڈھال سکتا ہے اور قومی ترقی کے تمام شعبوں کو مستحکم کر سکتا ہے۔ سیاسی طور پر ہم خواتین کوشش کریں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کو تقویت ملے۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ کی یہ آواز نہ صرف خواتین کے پبلک جلسوں میں گونجتی بلکہ وہ ان مسلم خواتین کی بھی رہنمائی کرتیں جو ان سے ملاقات کرنے قائد اعظم کی رہائش گاہ پر آتی تھیں۔کانگریس نے بہ امر مجبوری پاکستان کا قیام منظور تو کر لیا تھا لیکن ہندوستان کی تقسیم کا جو چرکہ اسے برداشت کرنا پڑا تھا اسے وہ آج تک نہیں بھلا سکی۔ کانگرس کی ورکنگ کمیٹی نے پلان کی منظوری کے بارے میں جو قرار داد پاس کی اس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ کانگرس ہندوستان کی تقسیم منظور کرتی ہے لیکن اُسے یقین ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ تقسیم ختم ہو جائے گی اور ہندوستان ایک بار پھر ’’اکھنڈ‘‘ ہو جائے گا۔ پاکستان بنا تو بھارت نے اس کے حصے کا سرمایہ روک لیا۔ جب پاکستان پر اس وار کا کوئی اثر نہ ہواتو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت لاکھوں مسلمانوں کو مار پیٹ کر پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔ ہندوستان کی مسلم آبادی پر ظالم ہندوؤں اور سکھوں نے موت کے دروازے کھول دئیے۔ اس جنونی حالت میں انہوں نے ہزار ہا مسلمانوں کو شہید کر دیا ان گنت عورتوں کو اغوا کر لیا گیا۔ سینکڑوں بستیاں جلا دی گئیں یا لوٹ لی گئیں۔ بے گناہ اور غریب الدیار مسلمان بچوں ، بوڑھوں مردوں اورعورتوں کی بے گور و کفن لاشیں سڑکوں ، گلیوں، کھیتوں اور میدانوں میں کثرت سے بکھری پڑی تھیں۔

قائداعظمؒ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہندو مسلمانوں کو زبردستی پاکستان کی طرف دھکیل دیں گے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے قتل و غارت گری کا بازار ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گرم کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان پر جب لاکھوں مہاجرین کا بوجھ پڑے گا تو یہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔ قائداعظمؒ جن پر پاکستان کا گورنر جنرل بننے کے باعث بہت سی ذمہ داریاں آن پڑی تھیں مہاجرین کے لٹے پٹے اور تباہ حال قافلوں کی آباد کاری سے متعلق متوحش اور متفکر رہنے لگے تھے۔ایسے میں مادرِ ملت ؒ پھر میدانِ عمل میں آئیں اور خانماں برباد مسلمانوں کی آشیاں بندی کا سامان کرنے لگیں۔ وہ ان زخم خور دہ مسلمانوں کو دیکھتی تھیں اور رو پڑتی تھیں۔ اس وقت ان کے اندر وہی جذبہ روشن ہو گیا تھا جو تحریک پاکستان کے دنوں میں ان کے دل کو منور کئے رکھتا تھا۔

قائداعظمؒ کی زندگی کے آخری دس سال انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیماری سے بھی نبرد آزمائی میں گزرے ڈاکٹروں نے انہیں بتا دیا تھا کہ اس قدر زیادہ کام ان کی صحت کے لیے مضر ہے لیکن قائداعظمؒ حصول پاکستان میں اس قدر مصروف تھے کہ آرام کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں نکال پاتے تھے قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی مصروفیات میں بے حد اضافہ ہو گیا جس سے ان کی صحت پر شدید اثر پڑا ڈاکٹروں کے مشورے کے برعکس انہوں نے اپنے معمولات جاری رکھے جس سے ان کا مرض بڑھتا چلا گیا چنانچہ 6 جولائی 1948ء کو مادرِ ملتؒ اپنے قائد اپنے بھائی کو بغرض آرام کوئٹہ لے گئیں مگر قائداعظمؒ نے وہاں بھی آرام نہ کیا اور کام جاری رکھا۔

قائداعظمؒ کی علالت نے مادرِ ملت کی مصروفیات اور تفکرات میں اضافہ کر دیا تھا وہ چوبیس گھنٹے اپنے بھائی کی تیماری داری کے لیے حاضر و مستعد رہتی تھیں بھائی کا کھانا اپنی نگرانی میں پکواتیں اور خود اپنے سامنے کھلاتیں‘ وقت پر دوائی کھلاتیں اور دن رات قائداعظمؒ کی طبیعت کو بشاش رکھنے کے لیے ان سے باتوں میں مصروف رہتیں ملک بھر سے قائداعظمؒ کی مزاج پرسی کے لیے آنے والی شخصیتوں سے ملاقات کرتیں ان کے نام آنے والی ڈاک کا مطالعہ کرتیں۔ مادرِ ملتؒ نے قائداعظمؒ کی خاطر دن کا آرام اور رات کی نیند حرام کر لی تھیں کوئٹہ میں بھی قائداعظمؒ کی طبیعت نہ سنبھلی تو ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں 11 ستمبر 1948ء کو کراچی منتقل کر دیا گیا جہاں اسی شام انہوں نے مادرِ ملتؒ کی طرف دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے اپنے قریب بلایا اور آخری بار کوشش کر کے زیر لب مخاطب ہوئے ’’فاطی۔۔۔ خدا حافظ ۔۔۔ لا الہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ‘‘ پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئیں۔

محترمہ فاطمہ جناح کا وہ بھائی رخصت ہو چکا تھا جس نے زندگی بھر کسی سے ہار نہ مانی جس نے ہندو اور انگریز کے گٹھ جوڑ کو پارہ پارہ کر ڈالا اور جس نے پاکستان کی شکل میں صدی کا سب سے بڑا سیاسی معجزہ کر دکھایا۔ مادرِ ملتؒ جانتی تھیں کہ ان کا غم بھائی کو واپس نہیں لا سکتا خدا کی مرضی پوری ہو چکی ہے لیکن جس کے ساتھ زندگی کے پچپن برس گزارے ہوں جس بھائی نے ماں باپ بن کر بہن کی پرورش اور تربیت کی ہو وہ بہن انہیں کس طرح فراموش کر سکتی تھی۔

وہ سب سے زیادہ جمہوریت اور اتحاد پر زور دیتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تقریروں کے ذریعے قائداعظمؒ اور ان کی تعلیمات کو فروغ دیا۔ یہ مادرِملّتؒ کا قوم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے قائداعظمؒ کے مشن کو جاری رکھ کر قائداعظمؒ کے افکار کو بھی زندہ رکھا اور قائداعظمؒ کی تعلیمات کو بھی عام کیا۔

قائداعظمؒ کی زندگی میں محترمہ فاطمہ جناحؒ نے جس مہارت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا تھا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ بھائی کی زندگی میں تو بہن کے بارے میں کہا جا سکتا تھا کہ ان کا سیاسی کردار بھائی کی رہنمائی کا رہین منت تھا لیکن اس عظیم بھائی کی وفات کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ملک و قوم کی خدمت ترک نہیں کی۔اگرچہ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد سیاسی انتشار زور پکڑتا گیا اور مادرِملّتؒ کے بیش قیمت مشوروں کی ضرورت پس منظر میں چلی گئی لیکن عوام کا مادرِملّتؒ پر اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا نہ ہی مادرِملّتؒ نے عوام سے تعلق منقطع کیا۔ وہ حتی الامکان عوام کی رہنمائی کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی چپقلش سے عوام نے کوئی اثر قبول نہ کیا اور وہ بدستور متحد ہو کر نوزائدہ وطن کی تعمیر میں مصروف رہے۔

آخر وہ ساعتِ غم ناک آپہنچی جب بانی پاکستان کی ہمشیرہ اور قوم کی ماں محترمہ فاطمہ جناحؒ 9جولائی 1967ء کو کراچی میں دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ اس طرح جہاں قائداعظمؒ کی وفات سے سیاست کے ایک درخشاں دور کا خاتمہ ہو گیا وہاں مادرِملّتؒ کی وفات حسرت آیات سے فلاح و بہبود کا ایک دور ختم ہو گیا۔ مادرِملّتؒ کی وفات کی خبر لوگوں کو اچانک ملی۔ اس سے قبل ان کی بیماری کی کوئی خبر شائع نہیں ہوئی تھی چنانچہ ابتدا میں لوگوں نے اسے افواہ قرار دیکر مسترد کر دیا لیکن حقائق کو کون ٹال سکتا تھا۔ عوام کے یقین نہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ مادرِملّتؒ نے ایک روز قبل میر لائق علی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی تھی۔ اگرچہ ان پر بڑھاپا طاری ہو چکا تھا پھر بھی وہ صحت مند دکھائی دے رہی تھیں۔ اسی لئے عوام کا ذہن اس خبر کو قبول نہ کرتا تھا۔ بالآخر جب ریڈیو پاکستان نے پروگرام روک کر مادرِملّتؒ کی وفات کی خبر سنائی تو عوام کو اس پر یقین کرنا پڑا۔ خبر کی تصدیق ہوتے ہی پورا ملک رنج و غم میں ڈوب گیا، ہزاروں لوگ قصر فاطمہ کے قریب جمع ہو گئے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی لوگ سوچ رہے تھے کہ آج پاکستان کی سیاست سے جناح خاندان کا نام ختم ہو گیا کیونکہ مادرِملّتؒ اور قائداعظمؒ کے سوا اس خاندان کے کسی اور فرد کو سیاست یا فلاحی کاموں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ اگلے دن(سوموار) ملک میں مادرِملّتؒ کے سوگ میں عام تعطیل ہو گی۔ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔

مادرِملّتؒ نے یہ وصیت کر دی تھی کہ وفات کے بعد انہیں قائداعظمؒ کے قریب دفن کیا جائے۔ مادرِملّتؒ کی قبر مزارِ قائداعظمؒ سے ایک سو بیس فٹ دور بائیں جانب کھودی گئی۔

مرحومہ کی پہلی نماز جنازہ قصر فاطمہ میں مولانا ابن حسن جارچوی نے پڑھائی۔ جنازہ پونے نو بجے اٹھا تو دور دور تک انسانوں کا سمندر نظر آ رہا تھا۔ آنکھیں اشکبار تھیں۔ جذبات سے مغلوب لوگ مادرِملّتؒ زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ صدر ایوب کے نمائندے وزیر خوراک شمس الضحیٰ ‘ بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل ایم حسن، گورنروں کے ملٹری سیکرٹری، کراچی کے اعلیٰ حکام، اسمبلیوں کے ارکان اور سیاسی رہنما اشک بہاتے ہوئے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے۔ سورۃ یٰسین کی تلاوت ہو رہی تھی۔ پولیس کی وائر لیس گاڑی بھی ہمراہ تھی۔ جلوس ایک فرلانگ تک جا چکا تھا کہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز نے ایک قومی پرحم مرحومہ کے جسد خاکی پر ڈال دیا۔ جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گیالوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خواتین چھتوں سے جنازے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھیں۔ نماز جنازہ کا انتظام میونسپل کارپوریشن نے پولو گراؤنڈ میں کر رکھا تھا۔ جنازہ پہنچنے سے قبل ہی سارا گراؤنڈ لوگوں سے بھر چکا تھا۔ نمازجنازہ مولانا مفتی محمد شفیع اوکاڑوی نے پڑھائی۔ جب میت دوبارہ گاڑی میں رکھی گئی تو سوگواروں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق جنازے میں شرکا کی تعداد کسی طرح بھی دس لاکھ سے کم نہ تھی۔ جب جنازہ قبر کے قریب پہنچا تو دن کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ بالآخر کے ایچ خورشید اور ایم اے ایچ اصفہانی نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ مادرِملّتؒ کے جسدِ خاکی کو لحد میں اتارا۔ اس موقع پر لاکھوں لوگ رو رہے تھے۔ 12بج کر 55منٹ پر قبر ہموار کر دی گئی۔ دوسرے ملکوں کے نمائندے بھی تدفین میں شریک ہوئے۔ مادرِ ملتؒ کی ابدی جدائی کو ہر شخص نے ملت کے لیے عظیم نقصان قرار دیا۔

مزید : ایڈیشن 2