امیر المومنین حضرت علی ؓکی حیات کے آخری لمحات!

امیر المومنین حضرت علی ؓکی حیات کے آخری لمحات!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جنگ صفین نے مسلمانوں میں ایک نیا فرقہ خوارج کا پیدا کردیا۔ یہ اگرچہ تمام تر سیاسی اغراض و مقاصد رکھتا تھا، لیکن مسلمانوں کے دوسرے سیاسی فرقوں کی طرح اس کے عقائد بھی دینی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اس نے اپنا سیاسی مذہب یہ قرار دیا تھا ان الحکم الا اللہ یعنی حکومت کسی آدمی کی نہیں ہونی چاہئے۔دراصل تاریخ اسلام کے خوارج موجودہ تمدن کے انارکسٹ تھے۔ لہٰذا وہ کوفہ اور دمشق دونوں حکومتوں کے مخالف تھے۔
مکہ میں بیٹھ کر خارجیوں نے سازش کی۔ تین آدمیوں نے بیڑا اٹھایا کہ پوری تاریخ اسلام بدل دیں گے اور انہوں نے بدل دی۔ عمرو بن بکر تمیمی نے کہا۔’’ میں حاکم مصرعمرو بن العاص کو قتل کردوں گا ، کیونکہ وہ ’’فتنہ‘‘ کی متحرک روح ہے۔‘‘ برک بن عبد اللہ تمیمی نے کہا:’’ میں معاویہ بن ابوسفیان کو قتل کردوں گا، کیونکہ اس نے مصر میں قیصریت قائم کی ہے۔‘‘ ایک لمحہ کے لئے خاموشی چھاگئی۔ علی ابن ابی طالبؓ کے نام سے دل تھراتے تھے۔ بالآخر عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے مہر سکوت توڑی۔ ’’ میں علیؓ کو قتل کردوں گا۔‘‘ ان ہولناک مہموں کیلئے 17 رمضان کی تاریخ مقرر کی گئی۔ دو پہلے شخص اپنی مہم میں ناکام رہے لیکن عبدالرحمن بن ملجم کامیاب ہوگیا۔
مکہ سے چل کر عبدالرحمن کوفہ پہنچا۔ یہاں بھی خوارج کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ عبدالرحمن ان کے ہاں آتا جاتا تھا۔ ایک دن قبیلہ تیم الرباب کے بعض خارجیوں سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ انہی میں ایک خوبصورت قطام بنت شجنہ بھی تھی۔ ابن ملجم اس پر عاشق ہوگیا۔ سنگ دل نازنین نے کہا۔’’ میرے وصل کی شرط یہ ہے کہ جو مہر میں طلب کروں وہ ادا کرو۔‘‘ ابن ملجم راضی ہوگیا۔ قطام نے اپنا مہر یہ بتلایا:’’ تین ہزار درہم ، ایک غلام ، ایک کنیز اور حضرت علیؓ کا قتل۔‘‘
عبدالرحمن بن ملجم دو مرتبہ بیعت کیلئے آیا مگر آپؓ نے لوٹا دیا۔ تیسری مرتبہ آیا تو فرمایا۔’’ سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو کون چیز روک رہی ہے۔ واللہ یہ چیز (اپنی ڈاڑھی کی طرف اشارہ کرکے) ضرور رنگی جانے والی ہے۔‘‘ کبھی کبھی اپنے ساتھوں سے خفا ہوتے تو فرماتے۔’’ تمہارے سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو میرے قتل کرنے سے کون چیز روک رہی ہے؟ خدایا میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ مجھے ان سے راحت دے اور انہیں مجھ سے راحت دے‘‘۔
ایک دن خطبہ میں فرمایا:’’ قسم اس پروردگار کی جس نے بیج اگایا اور جان پیدا کی۔ یہ ضرور اس سے رنگ جانے والی ہے۔ ( اپنی ڈاڑھی اور سر کی طرف اشارہ کیا) بدبخت کیوں انتظار کررہا ہے؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا۔’’ امیر المومنین! ہمیں اس کا نام بتاےئے ہم ابھی اس کا فیصلہ کر ڈالیں گے۔‘‘ فرمایا’’ تم ایسے آدمی کو قتل کرو گے جس نے ابھی مجھے قتل نہیں کیا ہے۔‘‘ عرض کی گئی۔’’ تو ہم پر کسی کو خلیفہ بنادیجئے۔‘‘ فرمایا’’ نہیں میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ جاؤں گا جس حال میں تمہیں رسول اللہﷺ چھوڑ گئے تھے۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا۔ ’’ اس صورتحال میں آپ خدا کو کیا جواب دیں گے؟‘‘ فرمایا۔’’ کہوں گا، خدایا میں ان میں تجھے چھوڑ آیا ہوں ، تو چاہے تو ان کی اصلاح کردے اور چاہے تو انہیں بگاڑدے۔‘‘
آپؓ کی کنیزام جعفر کی روایت ہے کہ واقعہ قتل سے چند دن پہلے میں آپ کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ آپ نے سر اٹھایا پھر ڈاڑھی ہاتھ میں لی اور فرمایا’’ حیف تجھ پر تو خون میں رنگ جائے گی۔‘‘ آپ کے بعض اصحاب کو بھی اس سازش کا پتہ چل گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ کس قبیلہ میں سازش ہورہی ہے ، چنانچہ ایک دن آپؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر عرض کی۔‘‘ ہوشیار رہئے کیونکہ قبیلہ مراد کے کچھ لوگ آپؓ کے قتل کی فکر میں ہیں۔‘‘ یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ کون شخص ارادہ کررہا ہے؟ اشعث نے ایک دن ابن ملجم کو تلوار لگاتے دیکھا اور اس سے کہا کہ’’ مجھے اپنی تلوار دکھاؤ۔‘‘ اس نے تلوار دکھائی تو وہ بالکل نئی تھی۔ انہوں نے کہا۔ تلوار لگانے کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ زمانہ جنگ نہیں ہے۔ عبدالرحمن نے کہا۔’’ میں گاؤں کے اونٹ ذبح کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اشعث سمجھ گئے اور اپنے خچر پر سوار ہوکر حضرت علیؓ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا۔’’ آپ ابن ملجم کی جرأت و شجاعت سے واقف ہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا:’’ لیکن اس نے مجھے ابھی تک قتل نہیں کیا ہے۔‘‘
اقدام قتل جمعہ کے دن نماز فجر کے وقت ہوا۔ رات بھر ابن ملجم اشعث بن قیس کندی کی مسجد میں اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ اس نے کوفہ میں شبیب بن بجرہ نامی ایک اور خارجی کو اپنے ساتھ شریک کار بنالیا تھا۔ دونوں تلوار لے کر چلے اس رات امیر المومنینؓ کو نیند نہیں آئی۔ حضرت حسنؓ سے مروی ہے کہ سحر کے وقت میں حاضر ہوا تو فرمایا۔’’ فرزند رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ ذرا دیر ہوئی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی تھی۔ خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا میں نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ آپﷺ کی امت سے میں نے بڑی تکلیف پائی۔ فرمایا دعا کر کہ خدا تجھے ان سے چھٹکارا دے دے۔ اس پر میں نے دعا کی۔ خدایا مجھے ان سے بہتر رفیق عطا فرما اور انہیں مجھ سے بدتر ساتھی دے‘‘۔
حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں۔ اسی وقت ابن البناح مؤذن بھی حاضر ہوا۔ میں نے آپ کا ہاتھ تھام لیا۔ آپؓ اٹھے۔ ابن البناح آگے اور میں پیچھے تھا۔ دروازے سے باہر نکل کر آپ نے پکارا:’’ لوگو نماز۔‘‘ روزانہ آپ کا یہی دستور تھا کہ لوگوں کو نماز کیلئے مسجد میں آنے کیلئے جگاتے تھے۔
آپ جونہی آگے بڑھے۔ دو تلواریں چمکتی نظر آئیں اورایک آواز بلند ہوئی۔ ’’ حکومت خدا کی ہے نہ کہ علی تیری!‘‘ شبیب کی تلوار تو طاق پر پڑی لیکن ابن ملجم کی تلوار آپ کی پیشانی پر لگی اور دماغ میں اتر گئی۔ زخم کھاتے ہی آپ پکارے’’ فزت برب الکعبہ‘‘ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا)۔
نیز پکارے’’ قاتل جانے نہ پائے۔‘‘ لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے۔ شبیب تو نکل بھاگا، عبدالرحمن نے تلوار گھمانا شروع کردی اور مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ قریب تھا کہ ہاتھ سے نکل جائے لیکن مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب جو اپنے وقت کے پہلوان تھے، دوڑے اور بھاری کپڑا اس پر ڈال دیا اور زمین پر دے مارا۔
امیر المومنین گھر پہنچائے گئے۔ آپ نے قاتل کو طلب کیا۔ جب وہ سامنے آیا تو فرمایا:’’ او دشمن خدا کیا میں نے تم پر احسان نہیں کئے تھے؟ اس نے کہا’’ : ہاں ‘‘ فرمایا’’ پھر تو نے یہ حرکت کیوں کی؟‘‘ کہنے لگا’’ میں نے اسے (تلوار کو) چالیس دن تیز کیا تھا اور خدا سے دعا کی تھی کہ اس سے اپنی بدترین مخلوق قتل کرائے۔‘‘ فرمایا،’’ میں سمجھتا ہوں تو اسی سے قتل کیا جائے گا اور خیال کرتاہوں کہ تو ہی خدا کی بدترین مخلوق ہے‘‘۔
امیر المومنین نے حضرت حسنؓ سے فرمایا:’’ یہ قیدی ہے، اس کی خاطر تواضع کرو۔ اچھا کھانا دو اور نرم بچھونا دو۔ اگر زندہ رہوں گا تو اپنے خون کا سب سے زیادہ دعویدار میں ہوں گا۔ قصاص لوں گا یا معاف کردوں گا۔ اگر میں زندہ نہ رہا تو اسے بھی میرے پیچھے روانہ کردینا۔ رب العالمین کے حضور اس سے جواب طلب کروں گا۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ فرمایا:’’ اگر تم قصاص لینے ہی پر اصرار کرو تو چاہئے کہ اسے اسی طرح ایک ضرب سے مارو۔ جس طرح اس نے مجھے مارا، لیکن معاف کرو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، دیکھو زیادتی نہ کرنا، کیونکہ خدا تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔‘‘
پھر آپ بیہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو جندب بن عبد اللہ نے حاضر ہوکر کہا: ’’خدانخواستہ اگر ہم نے آپ کو کھودیا تو کیا حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کریں؟‘‘ آپ نے جواب دیا۔’’ میں تمہیں نہ اس کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ اپنی مصلحت تم بہتر سمجھتے ہو۔‘‘
پھر اپنے صاحبزادوں حضرت حسنؓ اور حسینؓ کو بلا کر فرمایا:’’ میں تم دونوں کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں اور اس کی کہ دنیا کا پیچھا نہ کرنا، اگرچہ وہ تمہارا پیچھا کرے۔ جو چیز تم سے دور ہوجائے، اس پر نہ کڑھنا۔ ہمیشہ حق کرنا یتیم پر رحم کھانا۔ بیکس کی مدد کرنا۔ آخرت کیلئے عمل کرنا۔ ظالم کے دشمن بننا۔ مظلوم کے حامی بننا۔ کتاب اللہ پر چلنا۔ خدا کے باب میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔‘‘ پھر آپ نے تیسرے صاحبزادے محمد بن الحنفیہ کی طرف دیکھا: ’’جو نصیحت میں نے تیرے بھائیوں کو کی، تو نے حفظ کرلی؟‘‘ انہوں نے عرض کی، ’’ جی ہاں۔‘‘ فرمایا:’’ میں تجھے بھی یہی وصیت کرتا ہوں۔ نیز وصیت کرتا ہوں کہ اپنے دونوں بھائیوں کے عظیم حق کا خیال رکھنا۔ ان کی اطاعت کرنا۔ بغیر ان کی رائے کے کوئی کام نہ کرنا۔‘‘ پھر امام حسن و حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایا:’’ میں تمہیں اس کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارا بھائی ہے، تمہارے باپ کا بیٹا ہے اور تم جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
وفات کے وقت یہ وصیت لکھوائی:’’ یہ علی ابن ابی طالب کی وصیت ہے، وہ گواہی دیتا ہے کہ خدا وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوریہ کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میری نماز میری عبادت میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین ہی کیلئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔ پھر اے حسنؓ! میں تجھے اور اپنی تمام اولاد کو وصیت کرتا ہوں کہ خدا کا خوف کرنا اور جب مرنا تو اسلام پر ہی مرنا۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو کیونکہ میں نے ابوالقاسم (رسول اللہ علیہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ آپس کا ملاپ قائم رکھنا، روزہ نماز سے بھی افضل ہے۔ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو۔ ان سے بھلائی کرو، خدا تم پر حساب آسان کردے گا اور ہاں یتیم! یتیم یتیموں کا خیال رکھو۔ ان کے منہ میں خاک مت ڈالو وہ تمہاری موجودگی میں ضائع نہ ہونے پائیں اور دیکھو تمہارے پڑوسی! اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو کیونکہ یہ تمہارے نبیﷺ کی وصیت ہے۔ رسول اللہﷺ برابر پڑوسیوں کے حق میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے، شاید انہیں ورثہ میں شریک کردیں گے اور دیکھو قرآن! قرآن! ایسا نہ ہو، قرآن پرعمل کرنے میں کوئی تم پر بازی لے جائے اور نماز! کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے اور تمہارے رب کا گھر! اپنے رب کے گھر سے غافل نہ ہونا اور جہاد فی سبیل اللہ! جہاد فی سبیل اللہ! اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتے رہو۔ زکوٰۃ! زکوٰۃ! زکوٰۃ پروردگار کا غصہ ٹھنڈا کردیتی ہے اور ہاں تمہارے نبیﷺ کے ذمی! تمہارے نبی کے ذمی! (یعنی وہ غیر مسلم جو تمہارے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں) ایسا نہ ہوکہ ان پر تمہارے سامنے ظلم ہو اور تمہارے نبی کے صحابیؓ! تمہارے نبی کے صحابیؓ ! یاد رکھو رسول اللہﷺ نے اپنے صحابیوں کے حق میں و صیت کی ہے اور فقراء و مساکین! انہیں اپنی روزی میں شریک کرو اور تمہارے غلام! تمہارے غلام! غلاموں کا خیال رکھنا۔ خدا کے باب میں اگر کسی کی بھی پروا نہ کرو گے تو خدا تمہارے دشمن سے نہیں محفوظ کردے گا۔ خدا کے تمام بندوں پر شفقت کرو، میٹھی بات کرو۔ ایسا ہی خدا نے حکم دیا ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ چھوڑنا، ورنہ تمہارے اشرارتم پر مسلط کردےئے جائیں گے۔ پھر تم دعائیں کرو گے مگر قبول نہ ہوں گی۔ باہم ملے جلے رہو۔ بے تکلف اور سادگی پسند رہو۔ خبردار ایک دوسرے سے نہ کٹنا ورنہ آپس میں پھوٹ ڈالنا۔ نیکی اور تقویٰ پر باہم مددگار رہو، مگر گناہ اور زیادتی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ خدا سے ڈرو، کیونکہ اس کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ اے اہل بیت! خدا تمہیں محفوظ رکھے اور اپنے نبی کریم ﷺ کے طریقہ پر قائم رکھے۔ میں تمہیں خدا ہی کے سپرد کرتا ہوں۔ تمہارے لئے سلامتی اور برکت چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا اور ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کرلیں۔
زید بن حسین سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت علیؓ کی شہادت کی خبر کلثوم بن عمر کے ذریعہ مدینہ میں پہنچی، سنتے ہی تمام شہر میں کہرام مچ گیا۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ ہو۔ بالکل وہی منظر درپیش تھا جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دن دیکھا گیا تھا۔ جب ذرا سکون ہو ا تو صحابہ نے کہا:’’ چلو ام المومنین حضرت عائشہؓ کو دیکھیں کہ امیر المومنین کی موت کی خبر سن کر ان کا کیا حال ہے؟‘‘
حضرت زید کہتے ہیں:’’ سب لوگ ہجوم کرکے ام المومنین کے گھر گئے اور اجازت چاہی۔ انہوں نے دیکھا کہ حادثہ کی خبریہاں پہلے سے پہنچ چکی ہے اور ام المومنین غم سے نڈھال اور آنسوؤں سے تر بتر بیٹھی ہیں۔ لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو خاموشی سے لوٹ آئے۔‘‘
حضرت زید فرماتے ہیں۔ دوسرے دن مشہور ہوا ام المومنین رسول اللہﷺ کے روضۂ اظہر پر جارہی ہیں۔ مسجد میں جتنے بھی مہاجرین و انصار تھے۔ استقبال کو اٹھ کھڑے ہوئے اورسلام کرنے لگے مگر ام المومنینؓ نہ کسی کے سلام کا جواب دیتی تھیں نہ بولتی تھیں۔ شدت گریہ سے زبان بند تھی۔ دل تنگ تھا۔ چادر نہ سنبھلتی تھی بار بار پاؤں میں الجھتی تھی اور آپ لڑکھڑا جاتیں۔ بہ وقت تمام پہنچیں۔ لوگ پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ حجرہ میں داخل ہوئیں تو دروازہ پکڑ کر کھڑی ہوگئیں اور ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:
’’اے نبی ہدایت! تجھ پر سلام! ابوالقاسم تجھ پر سلام۔ رسول اللہﷺ آپ پر اور آپ کے دونوں ساتھیوں پر سلام! میں آپ کے محبوب ترین عزیز کی موت کی خبر آپ کو سنانے آئی ہوں۔ میں آپ کے عزیز ترین کی یاد تازہ کرنے آئی ہوں۔ بخدا آپﷺ کا چنا ہوا عزیز، منتخب کیا ہوا عزیز قتل ہوگیا۔ جس کی بیوی افضل ترین عورت تھی۔ واللہ قتل ہوگیا۔ جو ایمان لایا اورایمان کے عہد میں پورا اترا۔ میں رونے والی غمزدہ ہوں۔ میں اس پر آنسو بہانے اور دل جلانے والی ہوں۔ اگر قبر کھل جاتی تو آپﷺ کی زبان بھی یہی کہتی کہ آپﷺ کا عزیز ترین اور افضل ترین وجود قتل ہوگیا۔ ***
ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے جب امیر المومنینؓ کی شہادت کی خبر سنی تو ٹھنڈی سانس لی اور کہا۔’’ اب عرب جو چاہیں کریں۔ کوئی انہیں روکنے والا باقی نہیں رہا۔‘‘

مزید :

ایڈیشن 1 -