چینی ماڈ ل کے تحت چھتوں پر کاشتکاری کی جاسکتی ہے: شاہ فیصل آفریدی

چینی ماڈ ل کے تحت چھتوں پر کاشتکاری کی جاسکتی ہے: شاہ فیصل آفریدی

لاہور(کامرس رپورٹر )پاک چین جوائینٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے ایک میٹنگ کے دوران تجویز پیش کی کہ چین کے اس جدید ماڈل "Aquaponics" کو جس سے کہ چھتوں پر کاشتکاری کی جا سکتی ہے، پاکستان میں متعارف کرانا چاہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس کاشتکاری کے نمونے کو پاکستان میں متعارف کرانے سے ملک میں خوراک کی کمی، پانی کی کمی ، پودوں پر کیمیائی ادویات اور مہنگی کھاد کے استعمال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔فیصل آفریدی نے تفصیلا بتایا کہ چین کی متعارف کردہ تکنیک ’ایکواپونکس ‘ کے تحت گھروں یا عمارات کی چھتوں پر مچھلیوں کے ساتھ ساتھ سبزیوں کی بھی بڑی مقدار پیدا کی جاسکتی ہے ۔اُنہوں نے بتایا کہ ’ایکواپونکس ‘" چین سمیت بیشتر گنجان آباد ممالک میں نہائت کامیابی کے ساتھ اپنایاگیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ’ایکواپونکس ‘کے لاتعداد فوائد ہیں ۔اُنہوں نے آگاہ کیا کہ یہ تکنیک مچھلی کے فُضلے کو پودوں کی نشونما کیلئے استعمال کرتی ہے جبکہ پودے مچھلیوں کیلئے پانی کو تازہ اور صاف رکھنے مین مدد دیتے ہیں۔فیصل آفریدی نے کہا کہ ماحول دوست جدید زرعئی تکنیکوں میں’ایکواپونکس ‘ واحد تکنیک ہے جو کہ نہائت کم خرچ ہے جس میں پانی کا استعمال بہت کم ہوتا ہے جبکہ مٹی، مہنگی کھاد اور کیمیائی ادویات بالکل بھی استعمال نہیں ہو تیں۔

فیصل آفریدی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس تکنیک کو اپناتے ہوے کوئی بھی گھروں اور عمارات کی چھتوں پر اپنے ذاتی استعمال یا پھر کاروبار کی غرض سے ہر سال500کلو مچھلی اور 500کلوسبزی اُگا سکتا ہے۔میٹنگ کے دوران اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ پوری دنیا میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سمندری خوراک کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے جن میں مچھلیاں اور جھینگے سر فہرست ہیں ۔ فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ یہ اپنے فش فارمنگ طریقے کار کو جدت دے اور خوراک کی پیداوار میں اضافہ کر کے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی منڈیوں میں مچھلی کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ ترقی پزیر ممالک دیگر خوراک کی اشیاء کے مقابلے میں مچھلی کی برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کر رہے ہیں ۔فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ اپنے سمندری خوراک کے وسیع ذخائر کو دریافت کرے اور جدت طرازی کے ذریعے پیداوار اور معیار میں اضافہ کرے ۔اُنہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریبا 400,000افراد فش فارمنگ سیکٹر سے منسلک ہیں جو کہ اس شعبے میں کاروبار کے روشن امکانات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سمندری خوراک کی وافر موجودگی اور فش فارمنگ کیلئے سازگار موسم پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے توجہ کا مرکز بناتی ہے اور حکومت کی جانب سے تھوڑی سی توجہ اس شعبے میں حیرت انگیز ترقی کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید : کامرس