جموں کشمیر میں خلاف ورزیوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو بھارت جوابدہی سے بچارہا ہے

جموں کشمیر میں خلاف ورزیوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو بھارت جوابدہی سے ...

واشنگٹن(کے پی آئی)ایمنسٹی انٹر نیشنل کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے انسانی حقوق سے متعلق اپنی رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو جوابدہی سے بچانے کیلئے آرمڈ فورسز سپیشل پار ایکٹ کا استعمال کررہا ہے۔رپورٹ میں فرضی جھڑپوں،حراستی ہلاکتوں و گمشدگیوں،وادی میں گمنام قبروں کی دریافت اورپبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کو بھی باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو نیم فوجی اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقو ق کی پامالیوں کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔68صفحات پر مشتمل انڈیا2014ہیومن رائٹس رپورٹ کے عنوان سے یہ خصوصی رپورٹ بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لابر نے مرتب کی ہے جوامریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے 25جون2015کو جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حراستی گمشدگی، جیلوں کی ابتر حالت اور بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک شہریوں کوحراست میں رکھنے کا خاص ذکر کیا گیا ہے۔اس دستاویز کی ایگزیکٹیو سمری میں بھارت کے ہاتھوں افسپا کے استعمال کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی جوابدہی ناممکن بن گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق حکام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے سیکورٹی فورسز کو جوابدہی سے بچانے کیلئے کئی قوانین کااستعمال کررہے ہیں جن میں کرمنل پروسیجر کوڈ اور افسپا بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کی 5تاریخ کو ریاست میں افسپا کے نفاذ کو25سال مکمل ہوگئے ، فورسز کو خصوصی اختیارات دینے والا یہ قانون5جولائی1990کوپہلے کشمیر اور راجوری و پونچھ کے بعض علاقوں کوڈسٹربڈ ایریا ایکٹ کے زمرے میں لاکر نافذ کیا گیا تھا جبکہ سال2001میں پورے جموں خطے کو ڈسٹربڈ ایریا قرار دیکر افسپا کا اطلاق عمل میں لایا گیا۔ فی الوقت یہ قانون جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ ناگالینڈ، منی پور اور آسام میں لاگو ہے جبکہ تری پورہ حکومت نے حال ہی میں افسپا کی واپسی کا اعلان کیا۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں گزشتہ برس کے دوران افسپا کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے جانے کا کوئی سرکاری ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق افسپا کا نفاذ بھارتی حکومت کے ہاتھوں کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کوڈسٹر بڈ ایریا قرار دینے کے بعد عمل میں آتا ہے اور اس قانو ن کے تحت سیکورٹی فورسز کو امن و قانون برقرار رکھنے کیلئے بے تحاشا اختیارات تفویض کئے جاتے ہیں،وہ کسی کو بھی گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیرصرف جائز شک کی بنیاد پر گرفتار کرسکتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہیافسپا کے تحت خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سیکورٹی فورسزاہلکاروں کوسول عدالتوں میں مقدمہ چلانے سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں غیر سرکاری رضا کار تنظیموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افسپا کے تحت حاصل قانونی تحفظ کی وجہ سے مسلح افواج کو جموں کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کیلئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کے مطابق افسپا کی واپسی کا اختیار مرکز کو ہے جبکہ ریاستی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت ہی اس بات کا فیصلہ کرنے کی مجاذ ہے۔رپورٹ میں فرضی جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات پیش آرہے ہیں۔اس سلسلے میں سرنکوٹ پونچھ میں8اگست2014کو پولیس کے ہاتھوں دماغی طور معذور ایک شہری کی فرضی جھڑپ میں ہلاکت کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے بارے میں بعد میں یہ واضح ہوگیا کہ پولیس نے محض انعام حاصل کرنے کیلئے جھڑپ میں ہلاک کئے گئے عام شہری کو دہشت گرد قرار دیا۔امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں حراستی گمشدگیوں اور ہلاکتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے قانون ساز کونسل میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 1990سے ریاست میں341افراد پولیس حراست میں مارے گئے۔اس ضمن میں 30 جولائی 2014 کو سوپور میں پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے ہاتھوں ناظم رشید نامی نوجوان کی ہلاکت کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ناظم کی ہلاکت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے ملوثین کے خلاف عبرتناک کارروائی کا اعلان کیا تھا اور اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر نہ صرف فورسز کی اضافی تعداد طلب کی گئی بلکہ پی ڈی پی صدر محبوبہ اور حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کو نظر بند کیا گیا۔رپورٹ میں وادی میں گمنام قبروں کی دریافت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاستی انسانی حقو ق کمیشن نے شمالی کشمیر میں 38مختلف مقامات پر2156گمنام قبروں کی دریافت سے متعلق عبوری رپورٹ مرتب کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن کو نیم فوجی سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کی تحقیقات کرنے کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیاں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے حد اختیار میں ہیں لیکن ان معاملات کو چھوڑ کر جن میں فوج ملوث ہو، ان علاقوں میں افسپا کے تحت آنے والے جموں کشمیر اور ملک کے دیگر حصے شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ صرف جموں کشمیر میں لاگو ہے اور اسکے تحت حکام کسی بھی شہری کو کسی بھی الزام یا عدالتی کارروائی کے دو سال تک نظر بند کیا جاسکتا ہے ۔اس دوران قیدی کے گھروالوں کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہی نظر بندوں کو قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس طرح ریاستی پولیس عموما غیر قانونی گرفتاریوں کی مرتکب ہورہی ہے ۔

مزید : عالمی منظر