سینیٹ اجلاس ،34کروڑ کی ویکسین ضائع ،44پولیو ورکر ،40سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے

سینیٹ اجلاس ،34کروڑ کی ویکسین ضائع ،44پولیو ورکر ،40سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے

 اسلام آباد(آن لائن)سینٹ کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال 34 کروڑ روپے سے زائد کی ویکسیئن ضائع ہوگئی تھی، ذمہ دار پانچ ملازمین کو گرفتار جبکہ دیگر کو معطل کردیا گیا ہے۔ 2012ء سے اب تک 44پولیو ورکرز اور 40 سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا گیا ہے جن کے خاندانوں کو 12 کروڑ روپے سے زائد ادا کردیئے گئے ہیں ۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شاہراہوں کی خراب صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور مواصلات کمیٹی کو معاملات بھجوانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ سینٹ کا اجلاس ڈپٹی سپیکر مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں شروع ہوا جس میں سینیٹر سلیم ضیاء اور سینیٹر محمد اعظم سواتی کی جانب سے کئے جانے والے سوالات کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے ای پی آئی سٹور میں پنیٹا ویلنٹ ویکسین کی 13لاکھ خوراکیں ضائع ہوگئی تھی جن کی مالیت 3کروڑ 45لاکھ 80ہزار روپے تھی جبکہ پولیو ویکسین کی 7615 وائلز ضائع ہوئے تھے جن کی مالیت تین کروڑ روپے تھی جس کے ذمہ داروں کو مختلف سزائیں دی گئیں سینٹ کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران پولیو ورکروں پر حملوں میں ملوث 39 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔ سینٹ کو بتایاگیا کہ بلوچستان میں 44نئے ڈاکخانے کھولے گئے ہیں جبکہ5 ایسے ڈاکخانوں کو بند کیا گیا ہے جو فرنچائز تھے تاہم بلوچستان کے رقبے کو مدنظررکھتے ہوئے سروے کرایا جائے گا تاکہ مزید ڈاکخانے کھولے جاسکیں۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب نے بتایا کہ انڈس ہائی وے کا پشاور تا کوہاٹ سیکشن میں 35 کلو میٹر سڑک خراب ہے اس کی ذمہ داری این ایچ اے پر عائد ہوتی ہے اس روڈ پر امن وامان کی وجہ سے کام نہ ہوسکا۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے امن وامان کو بنیاد بنانا غلط ہے سڑک کی تعمیر کیلئے بہت کم فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاقی وزیر مملکت کو ہدایت کی کہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے این ایچ اے حکام پر زور دیں۔ سینیٹر احمد حسن نے کہا کہ اس سے قبل متعلقہ اداروں کے ساتھ جتنے بھی اجلاس ہوئے وہ سب بے کار تھی دو کلو میٹر سڑک بنا کر بیس کلو میٹر سڑک بگاڑ دیتے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ بیرون ممالک پاکستانی سفارتخانے پاکستانیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ہیں ایسی صورتحال کا سدباب کیاجائے وفاقی وزیر سرحدی امور بریگیڈئر ریٹائرڈ عبدالقادر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے پارلیمنٹرین کا وفد نہیں بلکہ این جی اوز کا وفد ملائیشیا گیا تھا اور انہیں دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مشن کے کمرشل کونسلر وجہیہ اللہ کنڈی کو جلد از جلد تبدیل کردیا جائے گا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بیرون ممالک سے پاکستانی اپنے خون پسینے کی کمائی پاکستان بھجواتے ہیں مگر انہیں کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے اس سلسلے میں وزارت خارجہ سے خصوصی بریفنگ لی جائے گی۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ ملائیشیا میں پاکستانی سفارتخانے کیخلاف بہت زیادہ شکایات ہیں اور یہ شکایات سپریم کورٹ میں بھی پیش کی گئی تھی ان فارن مشنز کا کام بیرون ممالک عیاشیاں کرنا نہیں بلکہ پاکستانیوں کی خدمت کرنا ہے سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر طاہر مشہدی اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ منگولیا میں پاکستانی سفارتخانہ قائم کیا جائے یا پھر وہاں پر اعزازی کونسلر جنرل کا تقرر کیا جائے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ یہ سفارشات وزارت خارجہ کو ارسال کردی جائینگی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ مراکش ایک اہم ملک ہے مگر وہاں پر سفارتخانے کے ملازمین کی تعداد درست نہیں بتائی گئی ہے وزیر مملکت نے بتایا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے یہی معلومات فراہم کی گئی ہیں سینیٹر طاہر مشہدی نے کشمور ، جامشورو سیکشن پر دو ارب روپے سے زائد اخراجات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود سڑک ٹھیک نہیں ہوئی ہے وزیر مملکت شیخ آفتاب نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ اس سڑک کی تعمیر پر بہت زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے جس کی تحقیقات ضروری ہیں اور عیدالفطر کے بعد اس سڑک کے بارے میں انکوائری کی جائے گی۔ سینیٹر آغا شہباز درانی نے کہا کہ این ایچ اے کے حکام غلط معلومات دیتے ہیں بلوچستان میں ہائی وے 43فیصد ہے مگر ان پر 8فیصد خرچ کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بعض کنسٹرکشن کمپنیاں نام بدل کر ٹھیکے لیتی ہیں اور کام نہیں کرتی ہیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ سینٹ کو غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں حسنین اینڈ کمپنی بلیک لسٹ ہونے کے باوجود نام بدل بدل کرٹھیکے لے رہی ہے۔ سینیٹر سعود مجید نے کہا کہ شاہراہوں کی تعمیر کسی بلیک لسٹ کمپنی کو نہ دی جائے اس کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے کہری تا کرخ روڈ کی تعمیر اور متعلقہ کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے کی تحقیقات کیلئے معاملے کو کمیٹی کے سپرد کرے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

مزید : علاقائی