ارکان پارلیمنٹ اور ان کے خاندان کو سرکاری خرچ پر علاج معالجہ کی سہولیات حاصل ہوں گی

ارکان پارلیمنٹ اور ان کے خاندان کو سرکاری خرچ پر علاج معالجہ کی سہولیات حاصل ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(آئی این پی)چیئرمین سینیٹ رضا ربا نی نے رولنگ دی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ او ران کے خاندان کے افراد کو اسی طرح سرکاری خرچ پر علاج معالجہ کی سہولیات حاصل ہوں گی جس طرح کسی گریڈ 22 کے سرکاری افسر کو حاصل ہیں۔ خاندان میں بیوی ‘ چھوٹے بچے او رغیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں جو کہ رکن پارلیمنٹ کی زیر کفالت ہیں ‘ اٹارنی جنرل آف پاکستان کا اس حوالے سے موقف غیر درست ہے جبکہ حکومت ابہام دور کرنے کیلئے قواعد و ضوابط میں ترامیم کرے۔ بدھ کو ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل و عیال کو سرکاری خرچ پر حاصل علاج معالجہ کی سہولیات کے معاملہ پر مفصل رپورٹ پیش کرتے ہوئے رضاربانی نے کہا کہ سینٹ سیکرٹریٹ نے چیئرمین سینٹ کے سامنے موجودہ اور سابقہ اراکین سینٹ کے اہل خانہ کو طبی سہولیات کے بارے میں ایک فائل پیش کی اور وزارت قانون اور انصاف کی طرف سے دیئے گئے مشورے اور قانونی حیثیت میں تفاوت کے بارے میں نشاندہی کی۔ سینٹ سیکرٹریٹ نے وزارت قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور ، حکومت پاکستان کو مورخہ ۲۲ فروری ۲۱۰۲ کو ’’سابقہ اراکین کے اہل خانہ کے لئے طبی سہولت‘‘ کے عنوان پر ایک مراسلہ جاری کیا۔ مذکورہ مراسلہ کا وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے جواب دیا تھا جس میں وزارت نے موقف اختیار کیا کہ’’موجودہ پارلیمنٹیرین کے اہل خانہ کے استحقاق سے متعلق معاملے کا پہلے سے وزارت نے جائزہ لیا ہے۔ وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی مورخہ ۸۰۰۲۔۷۰۔۹۰ کی رائے کے مطابق موجودہ اراکین پارلیمنٹ کے اہلخانہ (شوہر، بیوی ، والدین اور بچے) سرکاری ملازم کی طبی سہولیات کے استحقاق کے برابر نہیں ہے۔ اس طرح سابقہ اراکین پارلیمنٹ بھی مذکورہ سہولیات کے مستحق نہیں ہیں۔۶، مئی ۵۱۰۲ کو منعقد ہونے والے سینٹ کے ۵۱۱ اجلاس کے دوران، چیئرمین نے سینیٹرز اعتزاز احسن، فروغ نسیم، بیرسٹر سیف، جاوید عباسی سے درخواست کی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو چیئرمین کی دیگر سوالات میں سے درج ذیل پر تعاون کرنے کے لئے نوٹس جاری کیا ۔،سینیٹر اعتزاز احسن قائد حزب اختلاف نے موقف پیش کیا کہ وزارت قانون کی طرف سے دی گئی تشریح میں کافی کوتاہی ہے کیونکہ اراکین کی مراعات کا مطلب ہے اور شامل ہے رکن بشمول اس کے اہل خانہ کے اراکین کو دی جانے والی مراعات اور الاؤنسز۔اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ ہر موجودہ رکن معہ شریک حیات ،چھوٹے بچے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں، جو ان کے ساتھ رہتے ہوں اور مکمل طور پر ان پر دارومدار رکھتے ہوں، کو طبی سہولت کا استحقاق ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے رائے دی کہ اراکین پارلیمنٹ (تنخواہیں اور الاؤنسز) ایکٹ بڑے واضح ہیں۔ مسئلہ نمبر2 سے متعلق، چیئرمین سینٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’میں فاضل اٹارنی جنرل آف پاکستان کی رائے سے متفق نہیں ۔اگرا ٹارنی جنرل کی دلیل پر بھروسہ کیاجائے، تو تنخواہوں، مراعات اور پنشن کے حوالے سے پارلیمان نے جتنے بھی قوانین بنائے ہیں، وہ ۳۷۹۱ کے متصادم ہونگے کیونکہ آئین کے مذکورہ ، آرٹیکل میں حرف موجودہ ممبران کا ذکر ہے،تاثر درست نہیں ، حسب بالا بحث سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے ۳۷۹۱ء کے آئین کے سکیم کے مطابق پنشن ، سہولت اور مراعات حاصل کرنے کیلئے خاص طور پر سابقہ ممبر کا ذکر ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ یہ حاضر سروس ملازموں کے کیلئے وضع کردہ شرائط و ضوابط کا ایک مکمل اور ضروری حصہ ہوتا ہے۔مسئلہ نمبر 2کے مطابق اراکین پارلیمنٹ(تنخواہ اورالاؤنسز) ایکٹ، ۴۷۹۱ کی دفعہ (۲۱) کی ذیلی ۔ دفعہ (ii)کی بذریعہ مالیاتی ایکٹ، ۱۱۰۲کی شمولیت ہے، اور مذکورہ ترمیم سے دیئے گئے فوائد اور مراعات کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے خصوصی طور پر منسوخ نہیں کیا ہے۔ حکومت کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آئین، ۳۷۹۱ کے آرٹیکل ۰۷ میں تصریح کردہ طریقہ کار کے مطابق اراکین پارلیمنٹ (تنخواہ اور الاؤنسز) ایکٹ، ۴۷۹۱ کی دفعہ ۲۱ کی ذیلی، شق (۲) میں ترمیم کر دی جائے تاکہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلوں میں طے شدہ اصولوں پر کسی قسم کی قدغن نہ ہو۔چیئرمین رضا ربانی نے ہدایت کی کہ مذکورہ رولنگ کی کاپیاں وفاقی وزارت ‘ قانون و انصاف ‘ خزانہ اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو بھجوائی جائیں۔

مزید :

علاقائی -