افغان حکومت اور طالبان کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

افغان حکومت اور طالبان کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(اے این این) افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں مری میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے اور فریقین نے پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری رکھنے اور اعتماد سازی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات میں افغان حکومت کے وفد کی قیادت نائب وزیرخارجہ حکمت کرزئی جبکہ طالبان وفد کی قیادت ملا جلیل نے کی،امن مذاکرات کا اگلا دور عید کے بعد ہوگا جس کے لئے جگہ اور وقت کا تعین تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہوگا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں دو پاکستانی سرکاری عہدیداربھی شریک تھے جبکہ امریکہ اور چین کے نمائندگان نے بھی مذاکرات میں شرکت کی ہے۔ طالبان وفد میں ملا عباس ستنکزئی ،قاری دین محمد اور محمد حنیف شامل تھے ۔ جبکہ افغان حکومت کے وفد میں نائب وزیر خارجہ کی معاونت افغان امن کونسل کے اعلیٰ حکام نے کی ۔ پاکستان نے افغان حکومت اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مری میں ملاقات کی میزبانی کی ۔چین اورامریکہ کے نمائندے بھی ملاقات میں موجود تھے۔شرکا نے افغانستان میں امن اور مصالحت کے ضروری طریقوں پر تبادلہ خیالات کیا ۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لئے وہ خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ امن عمل میں شریک ہوں گے ۔شرکا نے تمام فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے فروغ کی ضرورت تسلیم کی اور امن اور مصالحتی عمل کے لئے سازگار فضا کے قیام کی خاطرمذاکرات جاری رکھنے پراتفاق کیا ۔فریقین کااگلا اجلاس رمضان المبارک کے بعدباہمی اتفاق رائے سے طے کردہ تاریخ پرہوگا۔مذاکرات میں فریقین نے افغانستان میں قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے حوالے سے دفترخارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کے لئے افغانستان کی حکومت اور افغان طالبا ن کی آمادگی کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان افغان قیادت کو مفاہمتی عمل میں سہولت فراہم کررہا ہے، قیام امن کے لئے کوششوں پر اقوام متحدہ اور دیگر فریقوں کے شکر گزار ہیں، افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس سال فروری میں کابل کے دورے میں افغان حکام اور طالبان کے درمیان رابطوں کی یقین دہانی کروائی تھی۔ پاکستان کی کوششوں سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں۔دوسری جانب امریکہ نے مری میں ہونے والے امن مذاکرات اور پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فریقین میں مذاکرات کیلئے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ امریکا طالبان کے ساتھ مفاہمتی کوششوں اور قیام امن کو ترجیح قرار دینے پر افغان حکومت کے اس اقدام کو سراہتا ہے ۔ جوش ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ فریقین میں مذاکرات کیلئے میزبانی کرنے پر امریکا پاکستانی کوششوں کا بھی اعتراف کرتا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان مذاکرات کو پائیدار امن کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -