سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کر دیا

سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کر دیا

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا شیڈول منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے 3اگست تک نیا شیڈول مانگ لیا ہے جبکہ یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ اس وقت تک نئی قانون سازی بھی مکمل کرلی جائے گی،عدالت کے اس حکم کے بعد 25جولائی کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکیں گے،نئے شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن 3اگست کے بعد جاری کرے گا،یہ حکم جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے چیمبر میں اٹارنی جنرل پاکستان ،دیگر فریقین ،سیکرٹری داخلہ،الیکشن کمیشن سے تفصیلی میٹنگ کے بعد پیش ہونے والی رپورٹ میں جاری کیا گیا ہے اس سے قبل کیس کی سما عت کے دورا ن تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کہانیاں نہ سنائے،بلدیاتی انتخابات کا بتائے ،اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرائے گی یا نہیں،اس حوالے سے دوٹوک بات کی جائے،پارلیمنٹ کی ترجیحات میں بلدیاتی انتخابات بل کے سوا دیگر تمام بل شامل ہیں،سینیٹ سے نہیں تو حکومت سے تو پوچھ سکتے ہیں کہ اب تک کیا کیا ہے؟،سینیٹ نے ترامیم منظور کیں تو تب معاملہ قومی اسمبلی آئے گا کیا اسلام آباد کے شہریوں کو اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں،اسلام آباد کے شہری تیسرے درجے شہری نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے،18کروڑ تو بلدیاتی اداروں کے ثمرات سے بہرمند ہوں مگر20لاکھ کو اس کی اجازت نہیں دی جارہی،بیچوں سے متعلق بل تو منظور ہوگیا اس کے مضر اثرات پر بھی بحث کی گئی لیکن بلدیاتی انتخابات سے متعلق بل پاس کرنا شاید ضروری نہیں سمجھا گیا،یہ نہیں ہوسکتا کہ 20لاکھ اچھوت ہیں اور ان کو یہ حق نہ ملے،ہمیں بتایا جائے کہ یہ قانون ہے کہ اس قانون کے تحت الیکشن کرانے ہیں،قانون موجود ہے مگر انتظامی ایکشن کی ضرورت ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ قومی اسمبلی کے بل کی جانب ہماری توجہ نہیں جارہی کیونکہ ہمیں اب اپنے حکمنامے پر شرم محسوس ہوتی ہے،آپ1979ء کے قانون کے بارے میں بتائیں،شہری علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے،اب ہم ڈائریکشن نہیں دیں گے الیکشن کرانے ہیں،اگر ہاں تو پھر کرائے جائیں۔ سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل عامررحمان پیش ہوئے ،انہوں نے عدالتی حکم کا کوئی جواب پیش نہیں کیا اور صرف اتنا بتایا کہ 27جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا ہے،قومی اسمبلی نے مارچ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق بل منظور کیا تھا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ چار ماہ دو دن گزر گئے عدالت کے حکم کو مگر اس پر تاحال کوئی عمل نہیں کیا گیا،بتایا جائے اس دوران کیا گیا ہے؟عامر رحمان نے کہا کہ بل اس وقت سینیٹ میں ہے،قومی اسمبلی تو26مارچ کو یہ بل منظور کرچکی ہے،اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سینیٹ کے پاس تو پہلے بھی اور بل ہوں گے اور یہ بل تو ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوگا، 50لاکھ آبادی والے شہریوں سے تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور یہاں بلدیاتی ادارے نہیں بننے دئیے جارہے ہیں۔قاضی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پہلے سینیٹ اس بل میں ترمیم کرے گی پھر یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی جائے گا۔اس پر عامر رحمان نے کہا کہ 27جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہے۔جسٹس خواجہ نے کہا کہ چار ماہ میں حکومت نے کیا کچھ کیا ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ سینیٹ کی ترجیحات کیا ہیں وہاں اور بل بھی منظور ہو رہے ہیں،سینیٹ سے تو نہیں مگر حکومت سے تو پوچھ سکتے ہیں یہ بتایا جائے کہ سینیٹ میں بل کب گیا۔عامر رحمان نے بتایا کہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بل26مارچ کو ہی چلا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی میں کیا حکومت کا کوئی ممبر ہے،18کروڑ کو حق مل گیا 20لاکھ کو نہیں مل رہا۔انتخابات تو ہوں گے جو بل قومی اسمبلی نے پاس کیا ہے اس کے تحت ناممکن لگتے ہیں۔عامر رحمان نے بتایا کہ 1979ء اور2002ء کے آرڈیننس کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔2002ء کے سیکشن تین کے تحت 1979ء کا آرڈیننس ختم ہوگیا اس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ قانون تو موجود ہے مگر انتظامی ایکشن کی ضرورت ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ1979ء کا قانون موجود ہے اور یہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے،عدالت نے ایک بار پھر حکومت سے تحریری جواب طلب کیا جس کے بعد عامر رحمان پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کی سربراہی میں سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی میٹنگ ہورہی ہے،عدالت میں تحریری جواب داخل کرادیا جائے گا۔اس دوران عامر نے عدالت سے کہا کہ پارلیمنٹ کو بلدیاتی انتخابات کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔اس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی حکم جاری کرکے پچھتا رہے ہیں،بل پاس نہیں ہورہا ایک مرتبہ غلطی کرلی دوسری مرتبہ نہیں کریں گے،جہاں بل پاس کرنے میں آپ نے 4ماہ لگا دئیے،دوسری طرف23سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے،اگر بل پاس کرنا مقصود ہوتا تو آپ کر چکے ہوتے،یہ آپ کی ترجیحات نہیں ہیں۔جسٹس خواجہ نے کہا کہ ہمیں کہانیاں نہ سنائیں،بتائیں کیا کرنا ہے؟مسلم لیگ(ن) کے ظفر علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ 1979ء کے قانون کے تحت صرف اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں انتخابات کروائے گئے تھے۔اس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ اس میں امتیازی سلوک نہیں برتا جاسکتا،بنی گالا میں تو انتخابات ہوں مگر ایف سکس اور ایف سیون میں نہ ہوں۔عامر رحمان کو کہا گیا ہے کہ 12بجے جسٹس شیخ عظمت سعید کے چیمبر میں مزید تفصیلات بتائی جائیں ۔بعد ازاں جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے چیمبر میں اٹارنی جنرل پاکستان کے دیگر فریقین ،سیکرٹری داخلہ،الیکشن کمیشن سے تفصیلی میٹنگ کے بعد رپورٹ میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا شیڈول منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے 3اگست تک نیا شیڈول مانگ لیا ہے جبکہ یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ اس وقت تک نئی قانون سازی بھی مکمل کرلی جائے گی،عدالت کے اس حکم کے بعد 25جولائی کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکیں گے،نئے شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن 3اگست کے بعد جاری کرے گا ،اس فیصلے کے بعد عدالت سماعت مکمل کرکے برخواست کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول