نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ،بے بنیاد الزامات پر اس کا بھی احتساب ہو نا چاہئے،پرویز رشید

نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ،بے بنیاد الزامات پر اس کا بھی احتساب ہو نا ...

 اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ہے۔آمریت کے دور میں اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔نیب 15برس میں ایک بھی مقدمہ شروع نہ کر سکا، بے بنیاد الزامات پر نیب کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیب کے الزامات پر کہا کہ نیب نے 99ء میں جو الزامات عائد کئے،15سالوں میں کسی مقدمے کی کارروائی بھی شروع نہ کر سکا،بے بنیاد الزامات پر نیب کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کے دور میں نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا ،نیب بدعنوان افراد کو سزائیں دلوانے میں ناکام رہا ،اصولی موقف اختیار کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔پرویز رشید نے کہاکہ تیسری دفعہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم اورپاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی تیسری دفعہ منتخب ہونی والی قیادت کیخلاف جھوٹے الزامات لگائے گئے۔انہوں نے کہاکہ جب حکومت سنبھالی تو اقتصادیات کے بارے میں دنیا کی رائے منفی تھی ، معاشی حالت خراب تھی ، اسحاق ڈار نے اقتصادی بحالی میں کردار ادا کیا ، نیب نے اسحق ڈار کے خلاف بھی الزام لگایا۔انہوں نے مزید کہاکہ نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ہے جس کی مثال نیب نے سپریم کورٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 15، پندرہ ،16، سولہ سال تک اپنے الزام ثابت نہ کر سکنے پر نیب کو کیا سزا ملنی چاہیے؟۔پرویز رشید نے کہا کہ نیب کے پاس اگر کسی کیخلاف شواہد موجود ہیں تو مقدمہ کرے تاکہ لوگ انصاف کے لئے عدالت جاسکیں گواہی دیں ، بیگناہی پیش کر سکیں۔یوں کسی کی کردار کشی نہیں کی جا نی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے قیام کا مقصد حکومتی سطح پر بد عنوانی کو ختم کرنا ہے تاہم بے بنیاد الزامات پر نیب کا بھی احتساب ہونا چاہیے اسے بھی سزا ملنی چاہیے۔پارلیمنٹ میں قانون بننا چاہیے نیب والے کسی پر مقدمہ بنائیں گے اگر الزامات درست ثابت نہیں ہوگے تو آپ کو بھی سزا ملے گی۔ پرویز رشید نے کہا کہ نیب نے جو سٹرک بنانے کا الزام لگایا ہے اس پر ہاؤسنگ ،ہسپتال اور یونیورسٹی ہے اصولوں پر عمل پیرا سیاستدانوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے

مزید : صفحہ اول