ملکی تاریخ میں سیاستدانوں کیخلاف 90فیصد مقدمات بے نتیجہ ختم ہوئے

ملکی تاریخ میں سیاستدانوں کیخلاف 90فیصد مقدمات بے نتیجہ ختم ہوئے

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) ملک میں کرپشن کے 150بڑے کیسز کا مستقبل کیا ہو گا۔ ملین ڈالرز کا سوال عوامی حلقوں کا موضوع بن گیا۔ماضی میں بڑے ،بڑے اور نامور سیاستدان نہ صرف کرپشن اور فوجداری مقدمات میں ملوث رہے۔ جیلیں کاٹیں بلکہ بہت سے سیاستدانوں کو سزائیں بھی سنائی گئیں۔ لیکن اکثر سزائیں کالعدم قرار پائیں۔ اور مقدمات ختم ہوگئے یا پھر دبا دیئے گئے۔معلوم ہواہے کہ ان دنوں نیب کی طرف سے سپریم کورٹ کے روبرو پیش کی جانے والی 150میگا سکینڈلز کی فہرست عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔جس میں ملک کے اہم ترین سیاستدانوں اور حکومتی عہدیداروں کے کے خلاف مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔نیب کی طرف سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں 50مالیاتی سکینڈلز بیان کئے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں اراضی سے متعلق 50 بڑے کیس اور تیسرے حصے میں اختیارات سے تجاوز کرنے کے50 بڑے کیس شامل کئے گئے ہیں۔ڈیڑھ سو کیسوں میں وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،سابق صدر مملکت آصف علی زرداری،سابق وزرا اعظم یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار،چوہدری شجاعت ، پرویز الہیٰ ، شوکت ترین اور دیگر بہت سے سیاستدانوں کے خلاف مقدمات اور انکوائریاں شامل ہیں۔لیکن ملکی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کے خلاف 90فیصد مقدمات اور انکوائریاں بے نتیجہ ختم ہوئی ہیں۔ملکی تاریخ میں ماضی میں بڑے ،بڑے اورنامورسیاستدان نہ صرف کرپشن اور فوجداری مقدمات میں ملوث رہے۔ جیلیں کاٹیں بلکہ بہت سے سیاستدانوں کو سزائیں بھی سنائی گئیں۔ لیکن اکثر سزائیں کالعدم قرار پائیں۔ اور مقدمات ختم ہوگئے یا پھر دبا دیئے گئے۔ملک میں سیاسی مخالفین کو دبانے اور کارنر کرنے کے لیے ایبڈو، پوڈو ،پروڈااور احتساب جیسے قوانین بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔بہت سے نامور سیاستدانوں کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی بچ نکلتے ہیں۔اور ان کو بچانے والے بھی سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ کبھی این آراو جیسے قوانین بنائے جاتے ہیں۔توکبھی نظریہ ضرورت آڑھے آجاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ماضی میں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم بے نظر بھٹو، ان کے شوہر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایس جی ایس ریفرنس میں سزا سنائی۔بے نظر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو ۔آصف علی زرداری کے والد حاکم زرداری ، وزیر اعظم نوازشریف، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم حسین شہدسہروردی،سابق وزیر اعظم ملک معراج خالد،نیپ کے رہنما خان عبدالولی خان، مولانا عبدالستار نیازی ،مسلم لیگ کے صدرخان عبدالقیوم خان ،باغی کے لقب سے پہچانے جانے والے مخدوم جاوید ھاشمی، ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین ،سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو، سابق وزرااعلیٰ مہتاب احمد خان، سردار عارف نکئی،ایو ب کھوڑو،الہیٰ بخش، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ،سابق گورنر پنجاب سردار ذولفقار کھوسہ ، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فارو ق ستار ،سابق وفاقی وزرا، انور سیف اللہ، میاں غلام محمد احمد مانیکا،حفیظ اللہ چیمہ ملک معراج محمد،، سابق صوبائی وزیر محمد سرمد خان کاکڑخالد ملک، ایم پی اے ملک محمد اعظم، محمد اعظم ہوتی،فاروق عزیز ، میاں منیر ،چودھری تنویر احمد خان ، اختر رسول اور دیگر بہت سے سیاستدانوں کو مختلف ادوار میں سزائیں سنائی گئیں۔لیکن ان میں 90فیصد کی سزائیں بعدازاں کالعدم قرار پائیں۔ 5اکتوبر2007کوسابق صدر پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس متعارف کروایا۔تو اس قانون کے تحت سابق صدر آصف علی زرداری ، ان کے عزیز نواب یوسف تالپور، ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین،گورنر سندھ عشرت العباد، چوہدری شوکت علی، حاجی کبیر ، چوہدری ذوالفقار ،جہانگیر بدر، ملک مشتاق احمد اعوان ، رانا نذیر احمد،میاں رشید، طارق انیس ،چوہدری عبدالحمید، آغاسراج درانی، غنی الرحمن، حاجی گلشیر، میر باز محمد خان کھیترانی، سردار منصور لغاری اور دیگر بہت سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے فائدہ اٹھایا۔اگرچہ سپریم کورٹ نے 16دسمبر2009کو یہ قانون کالعدم قرار دیدیا تھا۔لیکن متذکرہ افراد کے خلاف درج مقدمات یا توکسی نتیجے کے بغیر ہی اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران وزیر اعظم نوازشریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، حمزہ شہباز ، وفاقی وزرا،چوہدری نثار علی خان،خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، پرویز رشید ، عابد شیر علی اور رانا ثنااللہ کے خلاف لاہور میں درج ہونے والا سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ ہو یا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، شاہ محمود قریشی،جہانگیر ترین،اورعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف لاہور اور اسلام آباد میں غداری اور دیگر الزامات کے تحت درج ہونے والے مختلف فوجداری مقدمات۔ ایسے مقدمات کے مستقبل کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ایسے سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی نیب کی 150بڑے کرپشن کے مقدمات اور ان میں ملوث سیاستدانوں کی رپورٹ ملکی سیاست میں وقتی ابال کے سوا کچھ ثابت ہوسکی ہے یا نہیں عوام کی زبان پر ملین ڈالرز کا یہ سوال جواب طلب ہے۔

میگا سکینڈلز

مزید : صفحہ آخر