افغان حکام اور طالبان کے مذاکرات کی میزبانی ،پاکستان نے وعدہ پورا کر دکھایا

افغان حکام اور طالبان کے مذاکرات کی میزبانی ،پاکستان نے وعدہ پورا کر دکھایا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد/لندن(اے این این)پاکستان افغان حکومت سے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے بالآخر افغان طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مری کے ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس میں آمنے سامنے لے آیا جہاں تجزیہ نگار اسے پاکستان کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں وہیں اس کے منتظمین کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے مخالفین ان مذاکرات کو ناکام بنانیکی کوشش کر سکتے ہیں اور کوئی دیکھے نہ دیکھے، پاکستان اسے اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ 1991 میں افغان مجاہدین کو مکہ معظمہ لے جانے والی کامیابی ثابت ہوتی ہے یا نہیں، لیکن اتنی ہی یا اس سے زیادہ اہم ضرور ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ نیویارک ٹائمز جیسی خبریں اس عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس اخبار نے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے کسی اہلکار کا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان مذاکرات میں ان کی جانب سے کوئی نہیں شریک ہوا اور جو لوگ شریک ہیں انھیں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اغواکر رکھا ہے۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ اگر مذاکرات میں طالبان کا وفد اصل اور بااختیار نہ ہوتا تو افغان حکومت ان کے ساتھ بیٹھنے کو کیوں تیار ہوتی؟ انھیں تو معلوم ہے کہ کون طالبان رہنما کتنے پانی میں ہے۔ افغان طالبان نے آج تک اپنے سیاسی دفتر کی موجودگی کی تو تصدیق کی ہے لیکن اس میں کون کون ہے یہ کبھی نہیں بتایا۔ مری مذاکرات میں طالبان کی جانب سے کون شریک تھا یہ مکمل طور پر واضح نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے سابق نائب وزیر خارجہ مولوی عباس اور قاری دین محمد نے قطر سے اس میں شرکت کی۔ ان مذاکرات سے امید کی جا سکتی ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی پر سے بھی دباؤ کم ہو گا۔ ان پر الزام لگ رہا تھا کہ وہ پاکستان کی جانب ضرورت سے زیادہ جھک رہے ہیں اور بدلے میں اسے کچھ نہیں مل رہا۔ بلکہ حالیہ کچھ عرصے میں طالبان کے حملوں میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے۔ اب ڈاکٹر غنی زیادہ کھل کر پاکستان پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ اس سے کابل میں پاکستان مخالف لابی کی سیاست کو بھی شدید دھچکہ لگ سکتا ہے۔ ان مذاکرات سے پاکستان کو افغانستان میں کھوئی ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ افغان وزارت خارجہ نے پہلے ہی ان مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ مذاکرات ماضی کے طالبان کے غیرملکی دوروں سے مختلف ہیں۔ ان کے بارے میں طالبان کہہ چکے ہیں کہ وہ محض رابطے ہیں اور دنیا کے سامنے اپنا موقف رکھنے کی کوشش ہیں۔ لہٰذا طالبان کا اس حوالے سے بیان کافی اہم ثابت ہو گا اس مذاکرات کے کھیل میں سب سے زیادہ خطرہ طالبان مول لے رہے ہیں۔ ان کو اپنی نچلی صفوں میں اس کی تائید حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر وہ بھی ان مذاکرات کو تسلیم کر لیتے ہیں تو اس اعتبار سے مری مذاکرات افغانستان کی سرزمین پر جاری خون ریزی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -