احتساب بیورو کی رپورٹ، سب سے بڑے نام، کام صفر!

احتساب بیورو کی رپورٹ، سب سے بڑے نام، کام صفر!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ :چودھری خادم حسین

قومی احتساب بیورو کی طرف سے زیر التوا کیسوں کی تفتیش اور تحقیق کے حوالے سے جو فہرست عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی وہ چونکا دینے والی نہیں ہے۔ ان کیسوں کے حوالے سے الگ الگ خبریں شائع ہوتی رہی ہیں، البتہ، اس فہرست نے احتساب بیورو کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ اتنے بڑے لوگوں کے خلاف اتنے بڑے بڑے سکینڈلز ،خوردبرد اور کرپشن کے امور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر ان امور کی تحقیق ہو اور بعض کیس غلط بھی ثابت ہو جائیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں اور اگر کسی معاملے میں بادی النظر میں ریفرنس بنتا ہے تو پھر اسے دائر ہو جانا چاہیے تھا، لیکن یہ نہیں ہوا، اس حوالے سے خبریں ہی چھپتی رہیں کہ فلاں کرپشن کا نوٹس لے لیا، فلاں کا لے لیا لیکن پھر کیا ہوا کچھ علم نہیں۔ اب فہرست کے مطابق وزیراعظم محمد نوازشریف، وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف، سابق صدر زرداری، سابق وزرا اعظم یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف، چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی، اسحاق ڈار اور اسلم رئیسانی جیسے حضرات بھی شامل ہیں، ان حضرات کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال قومی خزانے کو نقصان پہنچانے یاخورد برد اور کرپشن کے بھی الزامات ہیں، ان کو میگا سکینڈلز کہا گیا ہے۔


فہرست عدالت عظمیٰ کے کہنے پر نیب نے تیار کی اور اب وہی جواب دہ بھی ہے کہ ریفرنس کیوں نہیں دائر کئے گئے؟ یہ ان کے درمیان اور عدالت عظمیٰ کا معاملہ ہے۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔


ہمارا تو سیدھا سادا سوال دھرنا والوں سے ہے۔ محترم ڈاکٹر طاہر القادری نے فرمایا ہے کہ اب دھرنا ختم ہونے پر خوش ہونے یا اسے ختم کرانے والے مایوس ہو کر پچھتا رہے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری کے اس بیان کے بارے میں کوئی تبصرہ بالکل فضول ہے سب کو علم ہے کہ وہ کب اور کیسے دھرنا ختم کرکے گئے اور کیسے کیسے افسانے بنے۔ البتہ افسوس اور حیرت تو اصلی تے وڈے دھرنے والے محترم عمران خان سے ہے۔ جوبات تو کرتے اور الزام بھی لگاتے چلے آ رہے ہیں۔لیکن مطالبہ ان کا صرف اور صرف انتخابی دھاندلی ہی رہا، حالانکہ ہم نے ان کی پوری توجہ دلانے کی کوشش کی کہ صرف دھاندلی سے معاملہ حل نہیں ہو سکتا، ان کو خودمختار اور آزاد الیکشن کمیشن اور آزاد و خود مختار احتساب بیورو کے قوانین منظور کرانے کی طرف بھی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بل مجالس قائمہ کے پاس ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے لئے تو 33رکنی پارلیمانی کمیٹی بھی بنی ہوئی ہے۔ اس کے بعض اجلاس بھی ہو چکے۔ تحریک انصاف کے تین اراکین اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، اب اگر عمران خان جوڈیشل کمیشن برائے انتخابی دھاندلی کا معاہدہ کر سکتے تھے تو ان کو کس نے منع کیا کہ وہ انتخابی اصلاحات اور احتساب والے قوانین باقاعدہ طور پر منظور نہ کرائیں، تاکہ مستقبل کے لئے یہ مسائل پیدا نہ ہوں لیکن وہ تو جوڈیشل کمیشن پر مطمئن ہو گئے جس سے ثابت ہوا کہ وہ صرف اور صرف نئے انتخابات میں دلچسپی رکھتے ہیں چاہے جیسے بھی ہوں، اب فرض کریں کہ اگر پارلیمنٹ سے انتخابی اصلاحات اور احتساب کے قوانین بن کر منظور نہیں ہوتے تو پھر نہ خود مختار الیکشن کمیشن اور نہ ہی نیا خود مختار آزاد احتساب بیوروبنے گا، اس صورت میں ہر انتخاب موجودہ نظام اور الیکشن کمیشن کے زیر انتظام ہوگا اور احتساب بیورو کا حال اور حشر بھی یہی ہوگا جو اس رپورٹ سے ظاہر ہے جو عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئی۔ اب بھی کیوں کوشش نہیں کرتے؟ کیا آپ کے کان میں یہی پھونکا گیا کہ الیکشن 2015ء میں ہوں گے؟


ایک اہم خبر یہ ہے کہ عالمی پرچم تلے پاکستان کی کوشش سے خطے میں امن کے لئے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا دور ارمچی کے بعد اسلام آباد میں ہوا بتایا گیا کہ ماحول خوشگوار رہا، تازہ ترین اطلاع ہے کہ ایک دوسرے کو اپنے تحفظات اور لین دین سے آگاہ کر دیا گیا۔ مذاکرات جاری رہیں گے۔ یہ حساس اور نازک مسئلہ ہے، بہت زیادہ کوشش سے نوبت یہاں تک پہنچی۔ اس پر تبصروں سے گریز بہتر ہے۔ دعا کریں کامیاب ہوں کہ امن کے لئے ضروری ہے۔

کام صفر

مزید :

تجزیہ -