اللہ اکبر، جب چھ ماہ بعد محمد محفوظ شہید کی قبرکھولی گئی تو ہر کوئی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوگیا، ایمان افروز کہانی

اللہ اکبر، جب چھ ماہ بعد محمد محفوظ شہید کی قبرکھولی گئی تو ہر کوئی سبحان ...
اللہ اکبر، جب چھ ماہ بعد محمد محفوظ شہید کی قبرکھولی گئی تو ہر کوئی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوگیا، ایمان افروز کہانی

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام میں شہید کا رتبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، اس بارے میں احکامات اور کرامات کا واضح ذکر ملتاہے اور اس کا ثبوت شہریوں کو اس وقت بھی دیکھنے کو ملا جب محمد محفوظ شہیدکی شہادت کے چھ ماہ بعد ان کامزار ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیاگیا۔

لانس نائیک محمد محفوظ شہید کے موجودہ مزار پر موجودبھائی محمد معروف نے نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ محفوظ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعلان پر کرنل نے اُنہیں بلایا اور چھٹی کی ہدایت کی کیونکہ چیف آف آرمی سٹاف نے آناتھا، جب وہ گھر پہنچے تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل ٹکاخان ہوکر چلے گئے تھے لیکن ان کی گھرموجودگی میں ہی 15پنجاب ایس ای او آئے انہوں نے آکر مزار پرپھولوں کی چادر چڑھائی ،عام قبرستان میں قبر تھی،سلامی دی اور کہاکہ یہ جگہ بہت تنگ ہے اوریہاں سلامی وغیرہ مشکل سے ہوگی اورمزار بناناہے لیکن اس جگہ پر مزار نہیں بن سکتا ، کھلی جگہ میں ہوتوبہترہے جس پر وہ (محمد معروف بھائی محفوظ شہید) مزار کی منتقلی پر راضی ہوگئی کیونکہ اردگرد اپنی زمین موجود تھی ۔

وہ وقت جب دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قبریں کھولی گئیں اور دنیا حیران رہ گئی،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں ۔ 

محمدمعروف نے انکشاف کیاکہ لوگوں نے مزار منتقلی سے ڈرایا کہ گرمی بہت ہے ، اندرونی حالات کا علم نہیں ، چھ مہینے پہلے شہادت ہوئی ہے لیکن اللہ کانام لے کر ہم نے جمعہ کو قبرمنتقلی کا پروگرام بنایا، یہ 30جون کا دن تھا اور شدیدگرمی ، سخت دھوپ تھی ، جیسے ہی قبرکشائی شروع کی تو بادل کا ایک ٹکڑا قبرستان پر آگیا اور اس سے بونداباندی شروع ہوگئی ، قبرستان کے علاوہ نواح میں کڑکتی دھوپ تھی ، جب مٹی ہٹائی تو اتنی پیاری خوشبوآناشروع ہوگئی جو شاید اس سے کبھی نہیں سونگھی اور نہ ہی اس کے بعد محسوس کی ، لوگ حیران تھے کیونکہ کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ قبرکشائی مکمل کرنے کے بعد جب صندوق کو اٹھانے لگے تو نیچے ہاتھ ڈالا، پوراہاتھ خون میں لت پت ہوگیا، نیچے ساراخون تھا، صندوق باہر نکال کر چارپائی پر رکھا،چارپائی سے خون کے قطرے گرناشروع ہوگئے اور پھر پلیٹ منگواکر نیچے رکھ دی تاکہ شہید کے خون کی بے حرمتی نہ ہو، پہلے ارادہ تھا کہ صندوق نکال کر فوری دوسری جگہ تدفین کردیں گے مگر خوشبواور نورہی نور کی وجہ سے ہمیں حوصلہ ملا، پھر ہم نے آرام سے منتقلی کی ،اس وقت کے جذبات بیان نہیں کرسکتا، چونکہ پہلی تدفین کے وقت حاضرنہیں تھا اس پر درخواست کی کہ چہرہ مبارک دیکھناچاہتاہوں اور حاجی صاحب نے اجازت دیدی ۔

اونٹ صحرا کی گرمی میں لمبے عرصے تک بغیر پانی کے کیسے رہ لیتے ہیں؟ جواب جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر عش عش کر اٹھیں گے

محمدمعروف نے انکشاف کیاکہ جب چہرہ دیکھاتو حیران رہ گیا، شہید کی تدفین کے وقت چہرے پر تازہ شیو تھی لیکن چھ ماہ بعد داڑھی مبارک بڑھی ہوئی تھی ،پھول بھی اسی طرح تازہ تھے جیسے ہم نے یہ پھول پودے سے توڑ کر ادھر رکھے ہیں، خون جاری تھا، خون تو ساری دنیا نے دیکھا وہاں کوئی اڑھائی ہزار لوگ تھے ، اس چارپائی پر بھی والدہ نے اپنے انتقال تک کسی کو سونے کی اجازت نہ دی ، والدہ کوان سے بہت پیار تھا ، والدہ یہ دکھ برداشت نہیں کرسکی ،بہت سمجھایاکہ وہ جنتی ہے اور آپ کو بھی جنت میں بلائے گا، والدہ جب تک زندہ رہیں ، پھر کوئی نہ کوئی تکلیف میں مبتلارہتیں ، بہت علاج کرایا لیکن بالآخر اپنے بیٹے کیساتھ ہی ابدی نیند سوگئیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس