دو پاکستانیوں نے قوم کا سرفخر سے بلند کردیا، بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا

دو پاکستانیوں نے قوم کا سرفخر سے بلند کردیا، بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا
دو پاکستانیوں نے قوم کا سرفخر سے بلند کردیا، بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی نوجوانوں محسن علی مصطفی اور محمد شبیر نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شعبے کے حوالے سے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف مواقع کی ہے۔ملک و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا سراس وقت فخر سے بلند ہو گیا جب محسن اور شبیر کو ایشیاء21ینگ لیڈر کلاس کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ ینگ لیڈر کلاس میں بنگلہ دیش، نیپال، ایران ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت دنیا بھر سے نوجوانوں کو منتخب کیا گیا ہے۔

محسن پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے امن ہیلتھ کیئر سروسز کا انتظام و انصرام سنبھال رکھا ہے۔اسی عہدے کی وجہ سے انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کی فلاحی تحریک کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر انہوں نے سب سے پہلے کراچی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک تیار کیا، اس کے بعد مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے علاقوں میں اس کام کا دائرہ وسیع کیا۔ محمد شبیر نے Slumabadکے نام سے ایک آرگنائزیشن بنارکھی ہے جو کچی آبادیوں میں رہنے والے بچوں کے حقوق اور صحت و صفائی کے حوالے سے کام کرتی ہے۔ محمد شبیرخودی پاکستان، ڈور آف اویئرنیس اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نوعمر سائنسدان کی انٹیل سائنس میلے میں تیسری پوزیشن

10سال قبل ایشیاء 21ینگ لیڈرکلاس کا آغاز کیا گیا تھا س میں اب تک 30ممالک سے 800سے زائد ینگ لیڈر منتخب کیے جا چکے ہیں۔ اس میں لیڈرز کا انتخاب ان کے ذاتی کارناموں، فلاحی کاموں سے وابستگی اور دنیا کو بہتر بنانے کی صلاحیتوں جیسی خصوصیات کے سخت مقابلے کے بعد کیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس