پاک چین اقتصادی راہداری کو خوشحالی کی شاہراہ بنانا ہو گا

پاک چین اقتصادی راہداری کو خوشحالی کی شاہراہ بنانا ہو گا

  

پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ روٹ اگست2018ء تک مکمل ہو جائے گا، جبکہ مشرقی روٹ2019ء تک مکمل ہو گا۔ گوادر بندرگاہ راہداری کا محور ہے جو پاکستان کو وسط ایشیائی مُلکوں سے ملائے گی۔ مشاہد حسین سید حال ہی میں چین کے دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے چینی قیادت سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی تمام صوبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف اِس سے پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ چینی جہاز سالِ رواں کے آخیر تک گوادر بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا شروع ہو جائیں گے۔ گوادر بندرگاہ کئی سال پہلے مکمل ہو گئی تھی، تاخیر کی بڑی وجہ سابق حکومتوں کا طرزِ عمل ہے جن کی وجہ سے پُراسرار طور پر اِس بندرگاہ کو اب تک پوری طرح آپریشنل نہیں کیا جا سکا، بظاہر اِس شاندار منصوبے کو معرضِ التوا کا شکار کرنے کی وجہ وہ عالمی طاقتیں بھی ہو سکتی ہیں جو نہیں چاہتی تھیں کہ پاکستان کے پاس ایسی بڑی بندرگاہ ہو، جو علاقے کے ممالک کو بعض دوسری بندرگاہوں سے بے نیاز کر دے۔ اب جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو گوادر کے ساتھ منسلک کرنے سے اس کی افادیت کئی گنا بڑھ جانے کے امکانات پیدا ہوئے تو انہی عناصر نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے نئے سرے سے کوششیں شروع کر دیں۔ پہلے تو بعض مخصوص عناصر کے ذریعے اِس منصوبے کے مغربی روٹ کو متنازع بنایا گیا، پھر جس سیکشن پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا اُس کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ چینی انجینئروں اور فنی ماہرین کو اغوا کیا گیا، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کے ماہرین کی جانیں بھی اِس منصوبے کی نذر ہوئیں تاہم چند ماہ پہلے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تکمیل پانے والے حصے کا اکٹھے دورہ کیا تو اس موقع پر واضح کر دیا گیا کہ اِس منصوبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے، بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی رابطوں کا بھی ذریعہ ہے۔

اس راہداری کے ساتھ ساتھ اگر ریل کی پٹڑی بھی بچھائی گئی تو اِس منصوبے کی افادیت میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔ بھارت نے چینی قیادت سے ملاقاتیں کر کے کوشش کی کہ اِس منصوبے کا آغاز نہ ہو سکے لیکن چینی قیادت نے بھارتی وزیراعظم مودی کے تمام تر نام نہاد تحفظات مسترد کر دیئے۔ بھارت نے اِس سلسلے میں ناکام ہونے کے بعد منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے اپنے ایک جاسوس کو ایرانی شہر چاہ بہار میں متعین کیا، جس نے متعدد بار پاکستان کا دورہ کر کے پاکستان میں ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا، جس کا مقصد ہر وہ کوشش کرنا تھا جو منصوبے کے آڑے آ سکے۔ بھارتی جاسوس نے جو نیوی کا افسر رہ چکا ہے دورانِ تفتیش یہ سب باتیں تسلیم کی ہیں اور یہ بھی مانا ہے کہ اُس نے مقامی لوگوں کو اِس مقصد کے لئے استعمال کیا، بعد میں افغان خفیہ ادارے کا ایک افسر گرفتار ہوا تو اس نے بھی اقرار کیا کہ اس کا ’’را‘‘ کے ساتھ رابطہ تھا اور وہ دونوں مل کر منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے، دونوں جاسوسوں کے اعترافی بیانات سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے اندر اِس منصوبے کو متنازع بنانے کی جو کوششیں کی گئیں وہ بلا وجہ نہیں تھیں اور جو لوگ اِس سلسلے میں کردار ادا کر رہے تھے۔عین ممکن ہے کہ اُنہیں اسی بھارتی نیٹ ورک نے اپروچ کیا ہو، جو کلبھوشن یادیو نے بنا رکھا تھا اور جسے بھارتی حکام نے خاص اِسی مقصد کے لئے ایران میں متعین کیا تھا۔جب سے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ منظر عام پر آیا ہے باریک بینی سے اِس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ منصوبے کے مخالفین کون تھے اور اُن کے عزائم کیا تھے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان لوگوں کے منصوبوں کو بروقت بھانپ لیا تھا اور انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ عناصر تعمیراتی کام میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی پوری کوشش کریں گے، چنانچہ چینی انجینئروں کو اغوا کر کے قتل بھی کیا گیا، ایسے واقعات کے بعد ہی انہوں نے محسوس کیا کہ راہداری کی تعمیر میں مصروف انجینئروں، فنی ماہرین اور مزدوروں کے اغوا کے خطرات اب بھی موجود ہیں، چنانچہ اِسی وجہ سے آرمی کے جوانوں اور افسروں پر مشتمل خصوصی حفاظتی یونٹ تشکیل دی گئی جو نہ صرف اس منصوبے کی تکمیل تک سیکیورٹی کے امور سرانجام دے گی، بلکہ تکمیل کے بعد بھی اس کی حفاظت کی ضرورت پڑے گی۔ عین ممکن ہے جب پورا روٹ مکمل ہو جائے تو بھی اس کے راستے میں کہیں کہیں مناسب مقامات پر مستقل طور پر سیکیورٹی دستے متعین کرنے پڑیں، کیونکہ جو تجارتی قافلے اِس راہداری کو استعمال کریں گے اُن کی حفاظت بھی ضروری ہو گی اگر خدانخواستہ تجارتی قافلوں کے راستے میں رکاوٹیں آئیں تو بھی راہداری کے مخالفین کو ہی بالواسطہ طور پر فائدہ پہنچے گا۔

ترقی و خوشحالی کی اس راہداری کو امن و سلامتی کا محفوظ راستہ بنانا بھی ضروری ہو گا، تجارتی قافلوں کی حفاظت کا مستقل بندوبست کرنے کے لئے عین ممکن ہے کہ اِس راہداری کے منتخب مقامات پر ایک یا دو باقاعدہ چھاؤنیاں بھی بنانی پڑیں، اس طرح شاہرات کے ساتھ نئی بستیاں بھی بس جائیں گی۔ مغربی روٹ بلوچستان میں جن مقامات سے گزرے گا وہاں میلوں میل تک کوئی آبادی نہیں، سماج دشمن عناصر اور ڈاکوؤں کے گروہ ان بے آباد علاقوں کو اپنی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اس شاہراہ کے کناروں پر نئے شہر اور نئی چھاؤنیاں آباد کرنے کی بہت اشد ضرورت ہو گی جس کی منصوبہ بندی ابھی سے کر لینی چاہئے۔ محض ایک سڑک سے جو میلوں تک بے آباد اور سنسان علاقوں سے گزر رہی ہو مطلوبہ فوائد اور نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ کہتے ہیں تہذیب براستہ سڑک سفرکرتی ہے اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس شاہراہ کے ساتھ ساتھ مناسب فاصلے پر صنعتی اور تجارتی علاقے بھی بنائے جائیں۔ اس طرح نہ صرف یہ شاہراہ پُر رونق ہو جائے گی، بلکہ یہاں اگر کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو گئے تو بڑے شہروں کے لوگ ان نئے شہروں میں رہائش رکھنے کو ترجیح دیں گے اور یوں نہ صرف نئی انسانی بستیاں بسیں گی، بلکہ بڑے شہروں پر دباؤ بھی کم ہو گا۔دُنیا بھر میں اس وقت ’’سمارٹ شہروں‘‘ کا تصور رواج پا رہا ہے۔ یہ شہر ہر لحاظ سے خود کفیل ہیں اور انہیں اپنی ہر طرح کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کہیں باہر نہیں جانا پڑتا۔ اِسی طرح کے ’’سمارٹ شہر‘‘ اگر پاک چین اقتصادی راہداری کے کناروں پر بنا دیئے جائیں جو سہولتوں کے لحاظ سے جدید ترین نظام کا شاہکار ہوں تو لوگ ان شہروں میں رہائش رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ اس وقت بڑے شہر گو ناگوں مسائل سے دوچار ہیں، لوڈشیڈنگ نے شہری زندگی کو متاثر کیا ہے، شہری سہولتوں کا فقدان ہے، پانی کی کمی ہے اور صفائی ستھرائی کا فقدان ہے، چوریاں اور ڈاکے عام ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی ہوتی ہیں ان شہروں میں نوسر باز بھی سرگرم ہیں، نئے شہروں کی آبادی کی حد بھی مقرر کی جا سکتی ہے۔ اِس وقت بڑے شہر بے ہنگم طور پر بڑھ اور پھیل رہے ہیں اور ان کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ مسائل کا انبار بھی جمع ہو رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کو صحیح معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ بنانے کے لئے یہاں نئے صنعتی اور رہائشی شہر بسانے ہوں گے اور آبادی کو جدید تصورات سے روشناس کرنا ہو گا۔

مزید :

اداریہ -