لالۂ صحرائی، ایک نایاب شخصیت

لالۂ صحرائی، ایک نایاب شخصیت
لالۂ صحرائی، ایک نایاب شخصیت

  

حضرت جہانیاں جہاں گشت کے نام سے موسوم بستی ’’جہانیاں‘‘ کے مردم خیز صحرا میں کھلنے والے پھول ’’لالۂ صحرائی‘‘ پر، شاد عظیم آبادی کا مصرع بڑی حد تک صادق آتا ہے:

ع ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

لالۂ صحرائی (چودھری محمد صادق) مرحوم و مغفور میرے اُن بزرگوں میں سے ایک تھے جن کی شفقت اور محبت اس ناچیز کو تقریباً چار عشروں تک حاصل رہی۔ مَیں نے ان سے اپنے نیاز مندانہ تعلق کو زندگی بھر نہ صِرف اپنے لئے متاعِ گراں بہا تصور کیا، بلکہ مَیں اس حقیقت سے بھی آگاہ ہوا کہ قلبی تعلق کی کس طرح حفاظت کی جاتی ہے۔لالۂ صحرائی کی نیاز مندی اور اُن کی صحبتوں میں بیٹھ کر ہی مجھے شخصی احترام، حفظِ مراتب، نظریاتی استقامت اور نقطۂ نظر سے اختلاف کے طور طریقوں سے حقیقی واقفیت پیدا ہوئی۔ یہ بات مجھے اُن جیسے بزرگوں کی قربتوں میں معلوم ہوئی کہ طمانیتِ قلب کے لئے ضروری ہے کہ انسان خواہشوں کی غلام گردشوں میں بھٹکنے کے بجائے، اللہ سے قناعت کی زندگی گزارنے کی توفیق طلب کرے اور سکون کی دولت سے مالا مال ہو جائے۔

لالۂ صحرائی کی تحریروں سے تو مَیں ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے ذریعے واقف ہو چکا تھا، البتہ اُن کو دیکھنے کا شرف پہلی مرتبہ حکیم اقبال حسین مرحوم و مغفور کے مطب واقع پیر الٰہی بخش کالونی(کراچی) میں حاصل ہوا۔ آج اس عہدِ ستم شعار میں نوجوان نسل کو کون بتائے گا کہ حکیم محمد اقبال حسین مرحوم کون تھے اور اُن کے مطلب میں کیسی کیسی صاحبِ علم و فضل شخصیات آیا کرتی تھیں۔ یہ بات تو مَیں نے جملۂ معترضہ کے طور پر لکھ دی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکیم اقبال حسین کے مطب میں حکیم صاحب کی خواہش پر ان کی ذاتی لائبریری اور سٹور میں رکھے گئے سالہا سال پر محیط عرصے کے دوران انہیں موصول ہونے والے خطوط میں اہم خط الگ کرنے کا کام شروع کیا تو ان کے نام موصول ہونے والے خطوط کی ایک فائل محمد صادق(لالہۂ صحرائی)کی بھی تھی۔ احمد ندیم قاسمی کے حوالے سے ان کی بیٹی ناہید قاسمی لکھتی ہیں ’’صادق صاحب کے خطوط کی فائل میں موتیوں کی پروئی لڑیوں جیسی سطروں میں نگینوں جیسے لفظوں پر مشتمل نہایت خوبصورت لکھائی میں اظہار پانے والے پُرخلوص جذبات اور سچے خیالات بھی خوبصورت اور قیمتی تھے۔ مَیں نے اپنے ابا جی سے کہا کہ ’’ان کی لکھائی کتنی چنگی اور سوہنی ہے‘‘ تو میرے ابا جی نے کہا:’’ وہ انسان بھی بہت اچھے تھے۔ ہماری نظریات کی راہیں مختلف تھیں، لیکن ہماری دوستی ان اختلافات و مفادات سے بہت بلند تھی‘‘۔ محترمہ ناہید قاسمی اس پر لکھتی ہیں:’’اس کی تو مَیں بھی گواہ ہوں یہ بہت نفیس اور پُرخلوص دوستی دم آخر تک برقرار رہی‘‘۔ محترمہ ناہید قاسمی نے اپنے مضمون میں قاسمی صاحب کے نام لالۂ صحرائی کے خطوط سے کسی تبصرے کے بغیر جستہ جستہ اقتباسات نقل کئے ہیں جو ادبی اعتبار سے بھی خاصے کی چیز ہیں۔

جناب لالۂ صحرائی ایک نظریاتی شخصیت تھے اور ان کے اظہار میں وہ کسی مصلحت کوشی کے قائل بالکل نہیں تھے، مگر ان کی شخصیت کا روشن پہلو یہ تھا کہ اپنے نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ سماجی اور معاشرتی تعلقات میں اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کشادہ دلی اور وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس کی کئی مثالیں جناب احمد ندیم قاسمی صاحب نے اپنے مضمون میں دی ہیں۔ اس میں سے ایک یہ ہے کہ قیام پاکستان سے قبل قاسمی صاحب کی فرمائش پر جناب سعادت حسن منٹو (مرحوم) کے لئے انہوں نے خالص گھی کا کنستر جہانیاں سے بمبئی بھیجا تھا۔واضح رہے کہ سعادت حسن منٹو نے قاسمی صاحب کو خط میں لکھا تھا: ’’میرے معالجوں نے میری صحت یابی کے لئے نسخے میں خالص گھی تجویز کیا ہے۔ یہاں پورے جنوبی ہند میں خالص گھی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اگر خالص گھی کہیں ملتا بھی ہے، تو مَیں اس سے بے خبر ہوں، اِس لئے تم میرے لئے خالص گھی کے ایک کنستر کا بندوبست کرو اور مجھے بمبئی بھجوا دو‘‘۔ قاسمی صاحب اُس زمانے میں نروس بریک ڈاؤن کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاہور سے اپنے گاؤں انگہ(ضلع خوشاب) منتقل ہو چکے تھے۔ قاسمی صاحب نے منٹو کی یہ فرمائش پوری کرنے کے لئے اپنے جگری دوست لالۂ صحرائی کو خط لکھا، جس پر انہوں نے ان کی فرمائی کی تکمیل میں خالص گھی کا کنستر ایک مضبوط پیٹی میں بند کر کے بمبئی بھجوا دیا، جس پر منٹو صاحب نے اپنے اخباری کالم میں لالۂ صحرائی صاحب کی اس عنایت کو بڑے شگفتہ انداز میں سراہا تھا۔

دوست نوازی کے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے قاسمی صاحب نے لکھا ہے کہ مَیں1946ء میں آل انڈیا ریڈیو پشاور میں سکرپٹ رائٹر کی ملازمت کرنے لگا تھا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی مسلم اور غیر مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ میرے دو نہایت درجہ پیارے ہندو دوست منوہر لال اور نند لال تھے۔ منوہر لال تو1947ء سے پہلے ہی کلکتہ میں کسی فرم سے وابستہ ہو گئے تھے، لیکن دونوں طرف سے مار دھاڑ شروع ہوتے ہی مجھے اپنے پیارے دوست نندلال کی فکر لاحق ہو گئی، مجھے کوئی اور راہ نہ سوجھی تو مَیں نے چودھری محمد صادق (لالۂ صحرائی) کو تار بھیجا کہ فوراً ایک ٹرک لیجئے اور کبیر والا میں اپنے نندلال اور ان کے والد کو رفیوجی کیمپ میں بحفاظت پہنچانے کا بندوبست کیجئے۔ میرا تار ملتے ہی صادق صاحب نے ایک ٹرک کرایہ پر لیا اور کبیر والا پہنچ گئے۔(واضح رہے قاسمی صاحب1941ء میں محکمہ آبکاری میں سب انسپکٹر کی حیثیت سے خانیوال میں مقیم تھے۔ تو قاسمی صاحب کے یہ دونوں جگری دوست قاسمی صاحب کے گھر میں گھنٹوں اکٹھے بیٹھتے، جس سے لالۂ صحرائی اور نند لال کے درمیان بھی محبت کا رشتہ استوار ہو گیا جو بھارت منتقل ہونے تک برقرار رہا)۔ لالۂ صحرائی کو اپنے نظریات میں سخت موقف رکھنے کے باوجود دوسروں کی دِل آزاری کرتے کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ وہ اپنے موقف کا دفاع پوری قوت سے کرتے، مگر شائستہ انداز اور تہذیب کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔

محترم مُشفق خواجہ (مرحوم) نے لالہۂ صحرائی صاحب کی نعتیہ شاعری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ممتاز نثر نگار اور میرے محترم جناب محمد صادق ادبی حلقوں میں لالۂ صحرائی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ جب کبھی مَیں ان کے ادبی نام کا تصور کرتا ہوں تو معلوم نہیں کیوں اقبالؒ کا یہ مصرع خودبخود زبان پر آ جاتا ہے:ع

منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی

اور اب ان کا مجموعۂ نعت میرے سامنے ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے اقبالؒ کے اس مصرعے کا جواب مجھے مل گیا ہے۔ یہ مجموعہ لالۂ صحرائی کے ادبی سفر کی منزل کی نشان دہی کرتا ہے۔ جناب محمد صادق زندگی بھر نثر کی شاہراہ پر گامزن رہے۔ اس کا انہیں گمان نہیں تھا مگر مجھ جیسے نیاز مندوں کو اندازہ تھا کہ ان کے ادبی سفر کی منزل شاعری ہے اور شاعری بھی وہ جسے حاصلِ شاعری کہنا چاہئے۔ ان کی نعت گوئی کو اگر ادبی معجزہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا‘‘۔جناب لالۂ صحرائی نے لکھنے کا آغاز زمانۂ طالب علمی میں آٹھویں کلاس ہی سے کر دیا تھا۔ ان کی تحریریں اپنے عہد کے ممتاز ادبی جرائد و رسائل میں شائع ہوتی رہیں، جن میں تحریک پاکستان کے صفِ اول کے رہنما میاں بشیر احمد کی زیر ادارت نکلنے والا رسالہ ’’ہمایوں‘‘، منفرد اسلوب کے نثر نگار چراغ حسن حسرت کی زیر ادارت نکلنے والا رسالہ شیرازہ، مولانا صلاح الدین احمد کی زیر ادارت نکلنے والا مجلہ ’’ادبی دُنیا‘‘ اور ’’ادبِ لطیف‘‘ جیسے مؤقر جرائد شامل ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ’’نقوش، فنون‘‘ اور ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ میں بھی ان کی نگارشات شائع ہوئیں، مگر تقسیم کے بعد انہوں نے زیادہ توجہ ان اخبارات و جرائد میں لکھنے پر دی جو ان کی نظریاتی اساس کے محافظ تھے۔ انہوں نے افسانہ اور انشائیہ نویسی اور ناول نگاری بھی کی۔ انگریزی زبان کے افسانوی ادب کے ترجمے بھی کئے، جن کے بارے میں اپنے عہد کے ایک بڑے ادیب کا تبصرہ یہ تھا: ’’ان کے کئے ہوئے ترجموں پر طبع زاد کا گمان ہونے لگتا ہے‘‘۔ اور کیوں نہ ہوتا انہوں نے نہ صرف اُردو اور انگریزی کلاسیکی ادب کو پوری عرق ریزی کے ساتھ پڑھا تھا، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اُسے پیا تھا۔ ابھی دسویں جماعت کے طالب علم تھے تو میر و مصحفی، غالب و اقبال، شبلی اور آزاد کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے اسیر ہو گئے۔

لالۂ صحرائی کے نزدیک مولانا مودودیؒ ایک بڑے مفکر اور بے مثال مفسر قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ اُردو ادب کے بڑے نثر نگار اور اُردو ادب کے عظیم خدمت گزار بھی تھے۔ میرے علم کی حد تک لالۂ صحرائی بھی ممتاز شاعر ماہر القادری مرحوم (مدیر فاران) اور عامر عثمانی مرحوم (مدیر تجلی دیو بند) کی طرح جماعت اسلامی کے رکن رہے، نہ جماعت کی تنظیم کے کوئی عہدیدار، تاہم وہ فکرِ مودودیؒ کی ترویج و اشاعت میں قلم کے محاذ پر صفِ اول کے قلم کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ مَیں نے انہیں شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور مجددِّ عصر سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے کام اور محاسن میں ہمیشہ رطب اللسان پایا۔ انہوں نے جس طرح مولانا مودودیؒ کے سیاسی مخالفوں کو اپنے قلم کی سان پر رکھا، اسی طرح وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے ساتھ بھی کسی رُو رعایت کرنے کے روا دار نہیں تھے، مگر ان کے قلم سے کسی کی دِل آزاری نہیں ہوتی تھی۔ ان کے جواب میں بڑی کاٹ ہوتی اور طنز کی شائستہ چاشنی بھی، مگر شائستگی اور تہذیب کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے ان کے قلم کو کسی نے نہیں دیکھا۔خدا یہ وصف اپنے نیک اور پاک باز بندوں کو ہی عطا کرتا ہے۔ اِسی نے ان کے دِل کو نرم خُو اور گداز کیا تھا، حالانکہ وہ چہرے کے تاثر سے لئے دیئے لگتے تھے۔ اللہ نے ان کی خوبیوں کا صلہ انہیں حُبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سے مالا مال کر کے یوں دیا کہ ان کو عمر کے آخر دس برسوں میں حمدِ باری تعالیٰ اور نعت رسولؐ لکھنے کی سعادت اور غزواتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منظوم کرنے کے کام سے سرفراز کر کے بلند رتبہ عطا کیا۔ یہ تبہ کسی کو عطیۂ خداوندی کے سوا کب حاصل ہوتا۔ انہیں اپنی اس سرفرازی کا احساس ہو گیا تھا۔ تب ہی تو انہوں نے اپنے اختتامی قطعے بہ عنوان ’’تابندہ موت‘‘ میں لکھا تھا:

نعت میری شاعری اور نعت میری زندگی

نعت کے انوار سے تابندہ میری موت ہو

جب کرے پرواز دنیا سے مری روِح نزار

شور ہو افلاک میں اِک اور آیا نعت گو

ان کا جنازہ اُٹھا تو کسی کے مُنہ سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ مدینہ کا ایک مجنوں دُنیا سے رخصت ہوا، درود شریف کا وِرد بلند کرو۔

خدا ہم گناہ گاروں اور معصیت کے سمندر میں ڈوبے ہوؤں کو بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کی لذت سے آشنائی کی دولت سے سرفراز کر کے قناعت کی زندگی عطا فرمائے، آمین، تاکہ روزِ حشر ہم بھی عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قافلے میں کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی آس کر سکیں۔

وہ میرے ان مشفق و مربی بزرگوں میں سے تھے، جنہوں نے اس ناچیز کو ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح محبت و شفقت سے نوازا اور ان کی اولاد بھی مجھے میرے دیگر مشفق و مربی بزرگوں کی اولادوں کی طرح حقیقی بھائیوں کے حسنِ سلوک سے نواز رہی ہے۔

لکھنے کو تو ان کی محبت و شفقت کے درجنوں واقعات ہیں،مگر تفصیل میں جانے کی گنجائش کہاں ہے؟

مزید :

کالم -