ترکی سے نیک خواہشات کے ساتھ

ترکی سے نیک خواہشات کے ساتھ
 ترکی سے نیک خواہشات کے ساتھ

  

ترکی نے حال ہی میں اپنے ماضی بعید کے دوست، ماض�ئ قریب کے مخالف ممالک، یعنی ’’اسرائیل اور روس سے اپنے دوستانہ تعلقات دوبارہ بحال کر لئے ہیں۔ نظریاتی طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر ریاست اور مُلک کا اپنا اپنا قومی مفاد ہوتا ہے جسے وہ پیش نظر رکھ کر کوئی قدم اٹھاتا ہے۔روس اور اسرائیل سے از سر نو تعلقات میں بہتری کو بھی اِسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔چھ سال قبل جب2010ء میں فریڈم فروٹیلا نامی ترکی امدادی بحری بیڑے پرا سرائیلی فوجیوں نے حملہ کر کے10ترک شہریوں کو مار ڈالا تو دونوں جانب سے شدید غم و غصے اور الزامات لگائے گئے۔ تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ خاص طور پر ترکی فطری طور پر زیادہ غصے میں تھا کہ اِس کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ترکی نے اِس واقعے کے بعد فوری طور پر تین شرائط پیش کیں، جن میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔ دس شہریوں کا خون بہا (دیت) ادا کرے اور واقعہ پر فوری معافی مانگے۔ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ ختم نہ کیا، لیکن امدادی سامان اشدود کی بندرگاہ کے ذریعے غزہ تک پہنچانے کا وعدہ کیا ۔ خون بہا کے طور پر20ملین ڈالرز (تقریباً دو ارب ایک کروڑ روپے) ادا کرے گا، جہاں تک معافی کا سوال تھا تو اسرائیل پہلے دِن سے ہی اس شرط پر راضی تھا۔

اسرائیل کو ترکی کے ساتھ تعلقات کی بحالی بہت سی وجوہات کے لئے ضروری تھی۔ ترکی خطے میں مسلم اکثریتی آبادی والا نہ صرف ایک اہم مُلک ہے، بلکہ مسلم دُنیا میں بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ترکی وہ واحد اولین مسلم ریاست تھی، جس نے اسرائیل کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات استوار کئے۔ مصر اور اردن نے بعد میں اسرائیل سے تعلقات قائم کئے۔ معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ترکی اسرائیل کے لئے اہم راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کی اکثر و بیشتر درآمدات و برآمدات ترکی کے ذریعے یورپ تک پہنچتی ہیں، جس پر اس کی معیشت کا بہت بڑا انحصار ہے۔200ارب روپے کا تو صرف ترکی کے ذریعے یورپ تک گیس کا منصوبہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات دونوں کے مفاد میں ہیں اور ترکی کی خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی اِس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ نئے ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے حکومت سنبھالتے ہی کہا تھا کہ ترکی اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔ ان کا اشارہ اسرائیل،روس، مصر، شام اور خطے کے دیگر ممالک کی طرف تھا، جن سے ان کے تعلقات اور مراسم دوستانہ نہیں تھے۔

دوسری طرف روس کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں بھی بہتری آنا شروع ہوئی ہے جو نومبر2015ء میں روسی لڑاکا طیارہ مار گرانے کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے تھے۔روسی حکومت نے ترکی سے تحریری معافی کامطالبہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا تھا۔ ترک صدر نے روسی ہم منصب سے تحریری معافی بھی مانگ لی اور ٹیلی فونک گفتگو کے بعد دونوں سربراہان ریاست نے بالمثافہ ملنے کا بھی ایک دوسرے سے وعدہ کیا۔ روس سے تعلقات ترکی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ترکی کی معیشت کا انحصار بہت زیادہ روس پر ہے۔ ہر سال ایک کروڑ روسی سیاح ترکی آنا بند ہو گئے۔ اربوں ڈالر کی درآمدات و برآمدات متاثر ہوئیں،جس سے ترک معیشت کو شدید دھچکا لگا۔ ان تعلقات کی بحالی سے ترک معیشت کو سنبھالا ملے گا۔

اسرائیل اور روس سے ترکی کے تعلقات کی بحالی کو مفادات کی بحالی کے طو پر دیکھا جا رہا ہے۔ تینوں طرف سے ایک دوسرے کے قریب آنے کی خواہش کافی عرصے صے موجود تھی۔27جون کے استنبول ایئر پورٹ دھماکوں کے بعد اچانک تبدیلی اس کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ پاکستان نے بھی روس کے ساتھ ترکی کے تعلقات کی بحالی کو سرکاری سطح پر خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن اسرائیل کے ضمن میں حسبِ روایت خاموشی برتی گئی۔ ظاہر ہے پاکستان ترکی سمیت کسی بھی مُلک کو کسی دوسرے مُلک سے تعلقات بگاڑنے یا توڑنے کا دباؤ نہیں ڈال سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر ہرملک کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ جغرافیائی طور پر ہر خطے کی اپنی اپنی مخصوص صورت حال ہے۔ معیشت بھی تعلقات کے فروغ میں اپنا حصہ اور اہمیت رکھتی ہے۔ سیکیورٹی اور امن و امان نیز بین الاقوامی قوتوں اور طاقتوں کے مفادات وغیرہ ان سب کے تناظر میں بھی تعلقات تشکیل پاتے ہیں۔

ترکی کو گزشتہ چند برسوں سے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے، صرف ایک سال کے اندر اندر250 سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں۔ استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں میں درجن سے زائد بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ تین ملین سے زائد شامی مہاجرین اور پناہ گزین ترکی پہنچ چکے ہیں۔ داعش اور علیحدگی پسند کرد آئے روز اپنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ آرمینیا، عراق، شام، مصر، یونان سے تعلقات میں بہت سے مسائل در پیش ہیں۔ ان حالات میں ترکی، روس اور اسرائیل جیسے بڑے سٹرٹیجک پارٹنرز سے زیادہ کشیدگی شاید مول نہیں لے سکتا تھا اور اسے اپنے اطراف میں دوستوں کی اشد ضرورت تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ خارجہ پالیسی میں یو ٹرن خطے میں ترکی کو اپنے ہمسایوں سے خاص طور پر اور دیگر بڑے ممالک سے عام طور پر تعلقات بہتر کرنے کی جانب ایک بڑا اور واضح آغاز ہے، جس کا اشارہ خود ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اپنے حالیہ بیان میں دے دیا ہے۔ اس کے بعد مصر،عراق، شام، یونان کی باری ہے۔ ترک پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات سے وہ اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل پر قابو پا لیں گے اور یہ ان کی خوشحالی کی جانب بہتر اقدامات ہوں گے۔ترکی کے ان اقدامات کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست سفارت اور معیشت میں ہلچل پیدا ہوئی، بلکہ دُنیا میںیہ تصور دوبارہ اُجاگر ہوا ہے کہ ریاستی مفادات ہی اصل خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتے ہیں، جو دیگر پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ نظریات بعض اوقات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مفادات زیادہ عزیز لگنے لگتے ہیں۔ کم از کم آج کی دُنیا میں ہمیں یہی دکھائی دے رہا ہے۔ باقی حسبِ روایت دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ ہماری نیک خواہشات ترکی اور ترک عوام کے ساتھ ہیں۔

مزید :

کالم -