بلوچستان، فائرنگ کے واقعات اور حادثات میں 13افراد جاں بحق، 4زخمی

بلوچستان، فائرنگ کے واقعات اور حادثات میں 13افراد جاں بحق، 4زخمی

  

کوئٹہ ( اے این این ) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات اور حادثات نے 13 افراد کی جانیں لے لیں 4افراد زخمی ۔ انتظامیہ کے مطابق آواران کی تحصیل جھا کے علاقے پیلار میں عید کی نماز پڑھنے کیلئے جانے والے افراد پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور موٹر سائیکل سواروں پر تھے جو کہ حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ذرائع نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے افراد ضلع آواران میں حکومت کے حامی ایک اہم قبائلی رہنما کے حمایتی تھے۔چاروں افراد کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔آواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس ضلع میں جہاں سیکورٹی فورسز کے آپریشنوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں اس کے مختلف علاقوں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ عسکریت پسندی کے دیگر واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔اس ضلع سے اب تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی تشدد زدہ لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں تاہم موجودہ حکومت کا دعوی ہے کہ پہلے کے مقابلے میں آواران میں اب حالات میں بہتری آئی ہے ۔ ادھر مستونگ کے نواحی علاقے پڑنگ آباد کے جنگل سے لیویز کی لیڈی کانسٹیبل آمنہ بی بی اور اسکے شوہر میر محمد کی لاشیں بر آمد ہوئی دونوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا ،لیویز حکام کے مطابق دوہرے قتل کی وجہ گھریلو ناچاکی ہے۔پشین کے علاقے گنگل زئی میں دو گروہوں میں مسلح تصادم کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا ۔ژوب کی کلی تورا درگاہ میں دو گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے ۔لورالائی کے علاقے تنگ چین کے مقام پر کار اور ویگن کے درمیاں تصادم کے نتیجے میں دو افراد جان بحق ہوگئے ۔پشین کے شیخ فرید روڈ پر ٹریکٹر نے موٹرسائیکل کو ٹکرمار دی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگیا ۔نواں کلی کے علاقے زرغون آباد میں پولیس تھانے کے قریب ایک کار بے قابو ہوکر الٹ گئی جس کے نتیجے میں اٹھارہ سالہ نوجوان عزیز الرحمن موقع پر جاں بحق ہوگیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -