عراق پر حملہ غیر ضروری تھا ، چلکوٹ رپورٹ ، ٹونی بلیئر نے معافی مانگ لی ، پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیلنے والوں کا احتساب کیا جائے گا ؛ عمران خان

عراق پر حملہ غیر ضروری تھا ، چلکوٹ رپورٹ ، ٹونی بلیئر نے معافی مانگ لی ، ...

  

 لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کی جنگ کے حوالے سے برطانیہ کی سرکاری انکوائری کمیشن کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی قیادت میں’’عراق پر لشکر کشی ‘‘کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائی آخری حل نہیں تھا اور نہ ہی صدام حسین سے برطانیہ کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق تھا، ٹونی بلیئر نے صدام حسین کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور عراق پر چڑھائی سے قبل تمام پرامن طریقوں کو استعمال نہیں کیا۔’’بی بی سی ‘‘ کے مطابق 7سالوں میں مکمل ہونے والی 26 لاکھ الفاظ پر مشتمل رپورٹ میں چیئرمین جان چلکوٹ نے کہا ہے کہ عراق میں فوجی کارروائی سے پہلے عراق میں قیادت کی تبدیلی سے پیدا ہونیوالی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی مکمل طور پر ناقص تھی جبکہ عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیاگیا تھا۔ اس سے درپیش خطرات کی سنجیدگی کے بارے میں رائے کو جس یقین کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اسے بھی ثابت نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس انکوائری میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن حالات کی بنا پر عراق پر لشکر کشی کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ کہیں سے اطمینان بخش نہیں تھے،بر طانیہ کو عراق پر حملے سے پہلے ہتھیاروں کو ترک کرنے کے پر امن طریقوں کا دیکھنا چاہیے تھا،صدام حسین کے بعد عراق کے بارے میں کی جانے والی منصوبہ بندی اور تیاریاں انتہائی ناموزوں تھیں۔سر جان چلکوٹ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کو ٹونی بلیئر پر واضح کرنا چاہئے تھا کہ جمع کی گئی خفیہ معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عراق کیمیائی ، بائیولوجیکل یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے رپورٹ منظر عام آنے سے قبل کہا تھا کہ ان کو امید ہے کہ ان کی رپورٹ سے مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت، محتاط تجزیے اور سیاسی دانشمندی سے کی جائے گی۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے 13سال قبل عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت سے متعلق اپنے فیصلے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر پارلیمان کو گمراہ نہیں کیا تھا۔بدھ کو لندن میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق برطانوی وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2003 میں امریکہ کی زیرِ قیادت عراق جنگ میں شمولیت کا فیصلہ پوری"نیک نیتی" سے کیا تھا۔ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات میں دانستہ کوئی گڑبڑ نہیں کی گئی تھی۔سابق برطانوی وزیرِاعظم نے یہ پریس کانفرنس عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت سے متعلق ایک اعلی سطحی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کی جس میں امریکہ کی زیرِ قیادت عراق میں مداخلت کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور مغربی طاقتوں کو اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔سابق برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ کم از کم عراق جنگ کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ آج وہاں ایک منتخب حکومت ہے جسے عالمی برادری عراقی عوام کی جائز نمائندہ تسلیم کرتی ہے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کے فیصلے پر پہلے سیکہیں زیادہ "دکھی، پشیمان اور معافی کے طلب گار" ہیں۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ نے ان کے اس موقف کو درست ثابت کیا ہے کہ جنگ میں شمولیت کے معاملے پر پارلیمان اور کابینہ کو گمراہ کن معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی جھوٹ بولا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ ان کی زندگی کے چند مشکل ترین فیصلوں میں سے تھا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں اپنی جانیں دینے اور زخمی ہونے والے برطانویوں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کے فیصلے کو عوامی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان کے خیال میں یہی صحیح راستہ تھا اور اگر جنگ نہ چھیڑی جاتی تو "ہمیں اور پوری دنیا کو آگے چل کر اس کی کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی۔"سابق برطانوی وزیرِاعظم نے اس تاثر کو رد کیا کہ عراق جنگ کے نتیجے میں دنیا میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ اگر 2003 کے بعد بھی صدام حسین کو اقتدار میں رہنے کا موقع دیا جاتا تو وہ ضرور دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیتے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم عراق جنگ کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ آج وہاں ایک منتخب حکومت ہے جسے عالمی برادری عراقی عوام کی جائز نمائندہ تسلیم کرتی ہے۔اس سے قبل بدھ کو لندن میں تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ اور سابق برطانوی اعلی سرکاری عہدیدار جان چلکوٹ نے کمیشن کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2003 میں عراق میں تخفیفِ اسلحہ کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تمام تر کوششیں بروئے کار آنے سے قبل ہی جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا جو بلاجواز تھا۔

ٹونی بلیئر

اسلام آباد،سیالکوٹ (بیورو رپورٹ،اے این این،مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر ہزاروں عراقی شہریوں کی ہلاکت سے خود کو بری نہیں کرسکتے،یہ بہت ہی شرمناک ہے کہ چلکوٹ رپورٹ کے حقائق کے باوجود ٹونی بلیئر کو عراق پر حملے پر شرمندگی نہیں اور وہ صرف عراق میں 179 برطانوی فوجیوں کی ہلاکت پر پچھتا رہے ہیں ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانی جان سے گئے،پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیلنے والوں کا احتساب کیا جائے ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے مختلف پیغامات میں عمران خان نے کہاکہ ٹونی بلیئر خود کو کس طرح ہزاروں عراقیوں کی ہلاکت سے بری کرسکتے ہیں جو امریکا اور برطانیہ کی زیرقیادت حملے میں ہوئیں اور خطے میں انتشار پھیل گیا ۔خیال رہے کہ برطانیہ کے سرکاری انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ کا 2003 میں عراق کی جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ غیر قانونی تھا اور اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا عراق میں فوجی کارروائی کا موقف جذباتی تھا۔اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان جو افغانستان میں امریکی قیادت میں حملے اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے شدید ناقد رہے ہیں، نے ٹونی بلیئر اور ان کے اتحادیوں کو عرب ریاستوں میں لاقانونیت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا " بلیئر عرب ریاستوں میں انتہاپسندی اور خانہ جنگی جو اب تک جاری ہے اور آئی ایس آئی ایس کے ابھرنے سے دامن کیسے بچا سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے بھیک مانگنے تک کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ن لیگ کی حکومت نے پاکستانی عوام کا جو حشر کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ن لیگ کسانوں کا معاشی قتل عام کر رہی ہے۔پسرور میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لندن کے لوگوں نے نواز شریف کو زبردستی نکالا کہ کہیں ان کو بھی کوئی بڑی مصیبت نہ گھیر لے۔ان کو ڈر تھا کہ کہیں نواز شریف لندن کو بھی پسرور نہ بنا دے۔پسرور میں پانی نہیں ہے۔پسینے سے شرابور عمران خان نے طنزیہ کہا کہ میں پسرور میں پانی کے بغیر نہایا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا ایک خصوصی جہاز بادشاہ سلامت کو لینے لندن جا رہا ہے۔ یہ کروڑوں روپے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خرچ کئے جائینگے۔جہاز بھیجنے کیخلاف ہم پیر کو عدالت میں جائینگے۔ نواز شریف اپنے لوٹ کے پیسوں سے یہ فضول خرچی کرے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کرکٹ میں بھی اپنی مرضی کے ایمپائر کھڑے کر کے کھیلتے تھے۔باقی باتیں سیالکوٹ میں ہوں گی میں وہاں جا کر اہم اعلان کروں گا۔انہوں نے جلسے میں فضل الرحمان پر بھی شدید تنقید کی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -