امریکہ ، پولیس کے ہاتھوں 2سیاہ فاموں کی ہلاکت پر مظاہرے پھوٹ پڑے ، ریلی پر فائرنگ سے5اہلکارہلاک ، 7شدید زخمی

امریکہ ، پولیس کے ہاتھوں 2سیاہ فاموں کی ہلاکت پر مظاہرے پھوٹ پڑے ، ریلی پر ...

  

3 واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں پولیس کی فائرنگ سے ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے ،اس دوران ایک احتجاجی ریلی میں فائرنگ سے 5پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں ۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست لوزیانا میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مظاہرے جاری ہیں اور دوسری جانب ریاست مینسوٹا میں پولیس اہلکار نے ایک اور سیاہ فام شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔مینسوٹا میں سیاہ فام شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ گاڑی سے اپنا ڈرائیونگ لائینس نکال رہے تھے۔ سیاہ فام شخص کی دوست نے واقعے کی بعد کی ویڈیو بنا کر فیس بک پر شائع کی ہے۔جس میں دو سفید فام پولیس اہلکار کھڑے ہیں اور 37 سالہ شخص سڑک پر گرا ہوا ہے۔ویڈیو میں ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایلٹن سٹرلنگ کو نیچے گرانے کے بعد کئی بار گولیاں ماری گئیں اور ویڈیو میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔ویڈیو میں اس کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک پولیس اہلکار زمین پر پڑے شخص کے پاجامے میں سے کوئی چیز نکالتا ہے اور زمین پر پڑے شخص کے سینے سے خون نکل رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹر سٹرلنگ مسلح تھے۔۔دوسری جانب امریکی ریاست لوزیانا میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔بدھ کو ریاست لوزیانا کے دارالحکومت بیٹن روگ میں سینکڑوں افراد دوسری رات بھی اس مقام پر جمع ہوئے جہاں پولیس نے سیاہ فام شخص کو سڑک پر گرا کر گولی ماری دی تھی۔سیاہ فام شخص ایلٹن سٹرلنگ کی ہلاکت کے بعد احتجاجا سینکڑوں غم زدہ افراد، دوست اور ان کے رشتہ دار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔امریکی اخبار ڈیلی بیسٹ کو یہ ویڈیو ایک دکاندار نے دی ہے جن کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص پولیس کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا۔سیاہ فام شخص ایلٹن سٹرلنگ پانچ بچوں کے باپ تھے جو ان دنوں چھٹیوں پر تھے۔امریکہ کے محکمہ انصاف نے اس واقعے کی انکوئری کا حکم دیا ہے اور لوزیانا کے گورنر نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب امریکی ریاست ٹیکساس میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں دو سیاہ فام فراد کی ہلاکت کے خلاف ڈیلاس میں احتجاجی مظاہرے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جبکہ چھ اہلکار زخمی ہیں۔ جبکہ تین دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ڈیلاس پولیس نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم نے اپنے ایک اور اہلکار کو کھو دیا ہے۔اس سے قبل ڈیلاس پولیس کا کہنا تھا کہ ایک مشتبہ شخص حراست میں ہے جبکہ ایک مشکوک شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ڈیلاس پولیس چیف ڈیوڈ بران نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور ایک مسلح شخص کے درمیان مقابلہ جاری ہے جو کے اہلکاروں پرگولیاں چلا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک مشتبہ شخص جس کے ساتھ ہماری بات ہوئی اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف وائٹ اہلکاروں کو مارنا چاہتا تھااس مقابلے کا اختتام ہونے والا ہے اور وہ مسلح شخص مزید قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو زخمی اور ہلاک کرے گا، اور اس گیراج اور ارد گرد کے علاقے میں ہر طرف بم لگائے گئے ہیں۔ڈیلاس پولیس کے سربراہ ڈیوڈ بران کا کہنا ہے کہ 11 پولیس اہکاروں کو سنائپرز نے اندھا دھند فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا جن میں سے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے۔امریکی صدر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس تعصبانہ رویے کو جڑ سے اکھاڑنے کا کہا ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں یہ مشتبہ افراد دو مختلف مقامات پر چھپ کر بیٹھے تھے اور ان کا منصوبہ پولیس اہلکاروں کو گھیر کر زخمی یا ہلاک کرنے کا تھا۔امریکی صدر باراک اوباما نے مزید کہا کہ امریکہ کو یہ کہنا چاہیے کہ ہم اس کہیں بہتر ہیں اور اس کے اہمیت نسل سے آگے ہے۔باراک اوباما نے کہا کہ یہ صرف سیاہ فاموں کا مسئلہ نہیں اور نہ ہسپانیوں کا مسئلہ۔ یہ ایک امریکی مسئلہ ہے اور ہم سب کو اس کا خیال رکھنا ہوگا۔انھوں نے قانون نافذ کرنے والوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اندر موجود نسلی امتیاز رکھنے والوں کو ہٹا دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو بحیثیت امریکی رواں ہفتے مینیسوٹا میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے۔یہ بات انھوں نے جمعہ کو وارسا میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پولینڈ پہنچنے پر کہی۔ ہم اس طرح کے بہت سے سانحات دیکھتے آئے ہیں۔

امریکی فائرنگ

مزید :

صفحہ اول -