کراچی کی سڑکوں پر پڑی لاوارث لاشوں کا وارث چلا گیا

کراچی کی سڑکوں پر پڑی لاوارث لاشوں کا وارث چلا گیا

  

کراچی(نعیم الدین) دنیامیں انسانیت کی حقیقی خدمت کرنے والا فرشتی صفت انسان اگر کسی شخص کو کہاجاسکتا ہے تو عبدالستار ایدھی کے لیے ہی کہا جاسکتا ہے جس آدمی نے اپنی ساری عمر انسانیت کی خدمت میں بغیر کسی لالچ کے گذار دی ۔صبح شام مردوں اور زخمیوں ، بے سہارا لوگوں ،یتیموں بھوکوں اور حتیٰ کہ جانوروں کی بے غرض مدد کرنے والا شخص مرتے دم تک نوبل پرائز سے محروم رہا اور یہ شاید ان کی خواہش بھی نہیں تھی ۔میں ایک مرتبہ جب عبدالستار ایدھی صاحب سے پاس گیا تو وہ خاموش بیٹھے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس طرح کیوں بیٹھے ہیں تو کہنے لگے آج میں نے صبح کسی مردے کو غسل نہیں دیا ،جس پر میں نے ان سے کہاکہ اب مردے نہلانے چھوڑدیں آپ کا منصب بہت اونچا ہے ۔آپ کے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہے ۔آپ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلارے ہیں ،آپ اس طرف توجہ دیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سب ایک سسٹم کے تحت کام کررہے ہیں میرا کام بس اس پر نظر رکھنی ہے ۔میں نے دیکھا کہ وہ اکثر خوش ہوتے تھے جو بے سہارا ہیں اور وہ ان کے ساتھ ایسے بات کرتے تھے جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہیں ۔ایک مرتبہ انہوں نے مجھے فون کرکے بلایا اور کہا کہ میرے ساتھ پرانے ایئرپورٹ چلو ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا ایک جہاز آرہا ہے جو ایمبولینس کے طور پر استعمال میں لایا جائے گا جو پہلا جہاز ہے ہمیں ملا ہے اور میری خواہش ہے کہ تم میرے ساتھ چلو اور اس ہی دن ایدھی سینٹر میں پہلا وائر لینس نصب کیا گیا تھا جس کی فریکونسی بھی چیک کرنی تھی کہ کہاں تک ہے ۔کیپٹن فہیم اس جہاز کو مسقط سے لے کر کراچی پہنچے تھے ۔جمعہ کو انسانی خدمت کا ایک دور تمام ہوا،بھارتی گجرات کے شہر بانٹو ا میں جنم لینے والا عبدالستار ایدھی کراچی کے سول اسپتال میں چل بسا ،ایدھی کی فلاحی خدمت کا سفر شہر بے اماں کراچی سے شروع ہو ا اور اپنے بنائے ہوئے ایدھی ولیج قبرستان وہ ان ہی لاوارث لاشوں کے ساتھ دفن ہوجائے گا جن کی تدفین اس نے اپنے ہاتھوں سے کی تھی ،شہر قائد جہاں موت بانٹنے والے دہشت گرد دندناتے پھرتے رہے وہیں قوم کا یہ مسیحا ان کے درد کا درماں بنا رہا،،کسی کے آنسو پونچھے ،کسی کے سر پر ہاتھ رکھا ،کہیں جھولا رکھ دیا ،نہ کسی صلے کی پروا نہ کسی ستائش کی تمنا ،حکمران دیار غیر میں علاج کراتے رہے اور دکھ بانٹنے والا بستر مرگ پر بھی کہتا رہا کہ جینا اور مرنا یہیں ہوگا ،جو آیا ہے اس نے جانا ہے ،لیکن کچھ لوگوں کے ساتھ کئی زمانے چلے جاتے ہیں ،ملک عزیز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی کمی نہیں ،لیکن اس ملک کو دینے والوں میں چند ایک ہی نام شامل ہیں ،ایدھی ان میں سے ایک تھا ،کراچی کی سڑکوں پر پڑ ی ہوئی لاوارث لاشوں کا وارث چلاگیا ،محبتوں کا سوداگر چلا گیا ،کل ایدھی ولیج میں ایدھی کو قبر اتارنے کے بعد کیا آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ آج ’’پاکستان یتیم ہوگیا ‘‘

مزید :

صفحہ اول -