تلخ کلامی، ڈکیتی مزاحمت سمیت مختلف تنازعات پر 2خواتین سمیت 4 افراد قتل

تلخ کلامی، ڈکیتی مزاحمت سمیت مختلف تنازعات پر 2خواتین سمیت 4 افراد قتل

  

شاہجمال، بھکر، سیت پور، میر ہزار خان (نمائندگان) مختلف تنازعات پر چھوٹے کے ہاتھوں بڑا بھائی، دیور کی فائرنگ سے بھابی قتل، شوہر نے بیوی کو زہر دیکر مار ڈالا ڈکیتی کی مزاحمت پر 3 بچوں کے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس سلسلے میں شاہ جمال سے نمائندہ پاکستان کے (بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

مطابق نواحی علاقہ موضع بیٹ رائعلی ثمینہ بی بی نے بتایا کہ وہ 5جولائی کوگھرمیں سئے ہوئے تھے اس کا گونگا بہرہ شوہر طالب حسین گازر جو کہ محنت مزدوری کرتا تھا موجود تھا کہ اچانک اس کے گیارہ سالہ دیور مجاہدحسین نے زور دارطریقے سے دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ کھالنے پر اس نے بتلایا کہ بجلی کے میٹر سے تار نکال دی ہے جس کی وجہ سے ان کے گھر میں بجلی نہ ہے۔اس دوران اس کا اس سے بڑا دیورعنایت اللہ بھی آگیا اورگالیاں دینا شروع کردیں اور لڑنا شروع کردایا اس دوران شورواہ ویلہ پرنذرحسین اورمحمدنواز آگئے۔عنایت اللہ نے میرے خاوند طالب حسین پر میٹر سے تار نکالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اینٹ دے ماری جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا ۔دوروز موت و حیات کی کشمکش کے بعد اینٹ کی کاری ضرب سے وفات پاگیا۔پولیس تھانہ شاہ جمال نے خاتون ثمینہ بی بی کی درخواست پر زیردفعہ 302مقدمہ درج کردیا۔بھکر سے نامہ نگارکے مطابق نواحی علاقہ ڈگر اولکھ چاہ ممدو والا کے رہائشی سگے بھائی ثناء اللہ اور ضیاء اللہ کے درمیان لین دین کا تنازعہ چل رہا تھا گزشتہ روز دونوں بھائیوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی جس پرثناء اللہ نے طیش میں آکر ضیاء اللہ پر فائرنگ کر دی جو کہ گولی قریب کھڑی اس کی بیوی(ک) کے گلے میں جا لگی جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گئی جبکہ ضیاء اللہ معمولی زخمی ہو گیا پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی پولیس نے ملزم گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا نواحی علاقہ لڈے والا کا رہائشی اللہ ڈتہ کی نعش جنگل سے برآمد ہوئی جسے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال لایا گیا ڈاکٹروں نے دل کے دورہ پڑنے کی تصدیق کی بعد ازاں ورثاء کی تلاش پر حوالے کی گئی۔ سیت پور سے نمائندہ پاکستان کے مطابق محلہ غریب آباد کے رہائشی امیر بخش نے پولیس تھانہ سیت پور کو بتایا کہ عرصہ 6ماہ قبل ریاض حسین نے بوجہ آشنائی بیٹی تسلیم بی بی سے پسند کی شادی کی ،چاند رات کو ملزمان ریاض حسین نے بھائی اعجاز حسین ،والد اخترحسین اور ایک نامعلوم سے مل کر تسلیم بی بی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے زہر دے کر مارڈالا ،پولیس تھانہ سیت پور نے تسلیم بی بی کی لاش قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی جبکہ تسلیم بی بی کے شوہر ریاض حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کی بیوی تسلیم بی بی کی موت ہارٹ اٹیک سے واقع ہوئی ،میں نے کورٹ میرج کی تھی اسے مارنے کا کبھی سوچا تک نہ تھا ،ہماری زندگی خوشحال بسر ہو رہی تھی کسی قسم کی گھر میں کوئی رنجش یا ناچاکی نہ تھی ،پولیس تھانہ سیت پور نے مدعی امیر بخش کے بیان پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ،سینئر میڈیکل آفیسر رورل ہیلتھ سنٹر سیت پور ڈاکٹر ذوالفقار علی جام نے صحافیوں کو بتایا کہ تسلیم بی بی کے جسم پر تشدد کے نشانات نہ تھے ،پوسٹمارٹم کے بعد نمونہ جات کیمیکل لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ،حتمی رپورٹ آنے کے بعد رائے قائم کی جائے گی۔ میرہزار خان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق نواحی موضع بھنڈی کورائی کا 3بچوں کا بہرا باپ اپنے گھر سویا ہواتھا کہ رات 2بجے 3مسلح ڈاکو گھر میں گھس گئے اور قیمتی بکریاں کھول کر لے جانے لگے تو غلام یسیٰن نامی بہرے شخص کی آنکھ کھل گئی اور اس نے ایک ڈاکو کو جپھا ڈال لیا ڈاکوؤں نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کی ناکام کوشش کے بعد پسٹل سے فائر مار کر تین بچونکے بہرے باپ کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا میرہزار پولیس نے مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔

قتل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -