کراچی ،عید الفطرپر تفر یحی مقامات پر شہریوں کا ہجوم رہا

کراچی ،عید الفطرپر تفر یحی مقامات پر شہریوں کا ہجوم رہا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں عید الفطر کے تینوں روز شہر کے تمام تفر یحی مقامات پر شہریوں کا ہجوم رہا، فوڈ اسٹریٹس پر تل دھرنے کی بھی جگہ نہ رہی، ہزاروں کی تعداد میں شہری ساحل سمندر پہنچ گئے اور سمندر میں نہانے پر پابندی کے احکامات نظر انداز کردیا ۔ اہم شاہراؤں پر ٹریفک کی روانی سست روی کا شکار رہی جبکہ کئی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات نہ کیے جاسکے ۔تفصیلات کے مطابق اہلیان کراچی نے عید الفطر کے ایام بھر پور تفریح اور موج مستی میں گزارے ،تفریحی مقامات پر خاصی گہما گہمی رہی ،رسم و رواج کے قائل اہلیان کراچی خوشی کے موقع پر بھی اپنے ان پیارو ں کو نہیں بھولے جو انتقال کر چکے ہیں ،نماز عید الفطر کی ادائیگی کے بعد شہریوں کی اکثریت نے شہر کے مختلف قبرستانوں کا رخ کیا،اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول ڈالے اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ، شہری اداروں کی عملے کی غیر حاضری کی وجہ سے قبرستانوں کے اطراف میں غلط پارکنگ کی وجہ سے پیدل چلنے والوں اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہوئی،بعد ازاں شہری اپنے عزیزوں و اقارب،دوست احباب سے ملنے کے لیے ان کے گھر گئے اور دعوتوں کے اہتمام کا سلسلہ شروع ہوگیا،برسا برس سے رائج کراچی کی تہذیب و ثقافت میں رشتہ داروں کی مہمان نوازی کے لیے شیر خورمہ تیار کیا جاتا ہے ،اس عید پر بھی گھر آئے مہمانوں کی خاطر تواضع مٹھائی، کچوریوں ،نمکو اور شیر خورمہ سے کی گئی، عوام کے مختلف طبقوں نے عید کے تینوں دن تفریح گاہوں میں اپنا وقت گزارا،بچے،بزرگ،جوان اورخواتین کی اکثریت نے چڑیا گھر ، باغ ابن قاسم،سفاری پارک،سی ویو،عسکری پارک ،مزار قائد، الہ دین پارک اور دیگر علاقوں میں قائم پلے گراؤنڈز میں جا کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کیا، کراچی مشہور فوڈ اسٹریٹ برنس روڈم حسین آباد، بوٹ بیسن اور گلستان جوہر کے ریسٹورانٹ میں شدید رش کی وجہ سے تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ، شہریوں نے بار بی کیو، روایتی پاکستانی کھانو ں و دیگر لذیذ پکوان سے عید کو یاد گار بنایا ، موبائل فون سے خوب سیلفیز بنائیں ،باالخصوص ساحل سمندر پر عوام کا ٹھاٹے مارتا سمندر نظر آیا ، منچلوں نے سمندر میں نہانے کے حکومتی احکامات نظر انداز کردیے اور سمندر کی لہرو ں سے خوب لطف اندوز ہوئے ،عید الفطر کے تینوں دن شہری صوبائی انتظامیہ کی کار کردگی مایو س کن رہی ،شہری ادارے تفریحی گاہوں کے اندورنی اور بیرونی حصوں کی صفائی میں ناکام رہے،شہر کے بیشتر مقامات اور اہم شاہراؤں پر کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے دکھائی دیے ،سرکاری سطح پر انٹر سٹی بسوں کے کرائے چیک کرنے کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرایے وصو ل کیے ،ادھر ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی اور شہریوں میں عدم نظم و ضبط کی وجہ سے اہم مرکزی شاہراؤں پر بد ترین ٹریفک جام رہا ان تما م تر مشکلات کے باوجود شہری جو در جوق تفریحی گاہوں پر آتے رہے،نوجوانوں کی ٹولیاں موٹر سائیکلوں پر سی ویو جاتی نظر آئیں ،صاحب حیثیت طبقہ اپنی گاڑیوں میں اہلخانہ سمیت تفریحی مقامات ، فوڈ اسٹریٹس اور ساحل سمندر پہنچے او ر شہر کی رونق کو چار چاند لگا دیے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -