چھوٹی سی ڈسپنسری سے 1951 ءمیں انسانی خدمت کا سفر شروع کرنیوالے عبدالستار ایدھی کی جہدوجہد کی کہانی

چھوٹی سی ڈسپنسری سے 1951 ءمیں انسانی خدمت کا سفر شروع کرنیوالے عبدالستار ...
 چھوٹی سی ڈسپنسری سے 1951 ءمیں انسانی خدمت کا سفر شروع کرنیوالے عبدالستار ایدھی کی جہدوجہد کی کہانی

  

کراچی (ویب ڈیسک) عبدالستار ایدھی یکم جنوری 1928 ءکو بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانتوا کے ایک میمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سماجی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا تھا، وہ ایدھی فاﺅنڈیشن کے بانی اور سربراہ تھے۔ انہیں شروع سے ہی لوگوں کی مدد کرنے کا شوق تھا۔ انہوں نے 1951ءمیں ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، آج ایدھی فاﺅنڈیشن کے تحت 600 سے زائد ایدھی ایمبولینسز کام کر رہی ہیں، ایدھی فاﺅنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، یتیم خانے، معذوروں کیلئے گھر، بلڈ بنک، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں، سکول قائم کئے۔

اس کے علاوہ غریبوں کو کھانا فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ایدھی مراکز پر ہزاروں کی تعداد میں غریبوں اور مزدوروں کو دو وقت کی روٹی دی جاتی تھی۔ عبدالستار ایدھی کے والد کا نام عبدالشکور ایدھی، والدہ کا نام غربیٰ ایدھی تھا۔ انہیں 1988ءمیں لینن پیس پرائز، 1989ءمیں حکومت پاکستان کی طرف سے ان کی خدمات پر نشان امتیاز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2011ءمیں عبدالستار ایدھی کو احمدیہ مسلم پیس پرائز بھی دیا گیا۔ انہیں وزیراعظم پاکستان کی طرف سے نوبل انعام کیلئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ وہ 6 دہائیوں سے ایدھی فاﺅنڈیشن چلا رہے تھے۔

انہوں نے اس کام کیلئے کبھی فاﺅنڈیشن سے تنخواہ نہیں لی۔ عبدالستار ایدھی کو 2010ءمیں یونیورسٹی آف بیڈفائرشائر کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ان کی فاﺅنڈیشن کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے،1957 میں کراچی میں جان لیوافلو سے ہزاروں لوگ متاثرہوئے تو انہو ں نے خدمات کادائرہ میٹھادرسے پورے کراچی میں پھیلا دیا اوران کی انتھک محنت دیکھ کرایک کاروباری شخص نے انہیں بیس ہزارروپے عطیہ دیاتو ایدھی نے پرانی گاڑی خریدکرلاوارث لاشوں کاکفن دفن بھی شروع کردیا۔ ایدھی فانڈیشن کی خدمات کو عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔

عبدالستار ایدھی نے سیاست میں بھی قسمت آزمائی کی جہاں انہیں کبھی کامیابی ملی تو کبھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایوب دور میں بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں بلامقابلہ کامیاب ہوئے،1964میں انہوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔1970 کے انتخابات میں آزادامیدوارکی حیثیت سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ہارگئے۔1982 میں جنرل ضیا الحق نے انہیں مجلس شوری کاممبربنایا مگر سادہ طبیعت کی وجہ سے انہیں یہ سب پسندنہ آیا اور وہ مجلس شوری کے بہت کم اجلاسوں میں شریک ہوئے اورپھرسیاست کوہمیشہ کے لئے خیربادکہہ دیا۔ وہ 2013ءسے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ سانس لینے میں دشواری کے بعد معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کے اہل خانہ نے عوام سے ایدھی کی صحتیابی کی اپیل کی تھی۔

آ ئی این پی کے مطابق ان کو انسانی خدمات کے اعتراف میں کئی بڑے اعزازات سے نواز ا گیا۔ عبدا لستار گیارہ برس کے تھے تو ان کی وا لدہ فا لج کا شکار ہو گئیں اور اس کے بعد وہ 9 سال زند ہ ر ہنے کے بعد خا لق حقیقی سے جا ملیں، عبدالستار ایدھی نے وا لدہ کی بیما ری میں ان کی بہتر ین خدمت کی اور خوب خیال ر کھا،وا لدہ کی بیما ری کے دوران ہی انہوں نے بزرگ افراد کی دیکھ بھا ل کے لیئے ایک ادارہ قا ئم کر نے کا فیصلہ کیا، وہ اپنے خا ندان کے ہمراہ 1947ءمیں پا کستان کے شہر کرا چی منتقل ہو ئے جہاں انہوں نے ایک ہو ل سیل کی دکان پر کام شروع کیا جبکہ ان کی والدہ خرچ کیلئے ایک پیسہ د یا کر تی تھیں، کچھ عر صہ بعد انہوں نے کمیو نٹی کی مدد سے اید ھی ٹر سٹ کے نام سے ایک ر فاہی ادار ہ قائم کیا۔انہوں نے 1965میں محتر مہ بلقیس کے ساتھ شا دی کی جو کہ ایدھی ڈسپنسری میں ایک نرس کے طور پر ملا زمت کر تی تھیں۔اید ھی ٹر سٹ نے اپنے قیام سے اب تک 20 ہزار نو مو لود بچوں کی کفا لت کی ذ مہ داری لیتے ہو ئے 50 ہزار یتیم بچوں کیلئے رہا ئش کا بندو بست کیا جبکہ40ہزار نر سز کو تر بیت فرا ہم کی، اید ھی ٹرسٹ پا کستان کا سب سے بڑا فلا حی ادارہ ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہم وطنوں کو سہو لیات فرا ہم کیں۔

انہیں 1980ءمیں لبنان جا تے ہو ئے اسرا ئیلی افواج نے گر فتار کیا جبکہ2006ءمیں بھی وہ16گھنٹے کیلئے ٹو رنٹو ایئر پو رٹ پر زیر حراست رہے۔2008ءمیں امر یکی امیگر یشن حکام نے جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر ان کا پا سپورٹ اور دیگر کا غذات پر ضبط کر تے ہو ئے متعدد گھنٹوں تک تفتیش کی۔اید ھی ٹر سٹ نے افریقہ ، مشرق وسطی، کا کسس، مشرقی یورپ اور امر یکہ میں بھی مشکل کی گھڑی میں مو جود لو گوں کو خد مات فرا ہم کیں۔انہیں حکو مت پا کستان کی جا نب سے انسا نیت کی خد مات کے صلے میں نشا ن امتیاز سمیت متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا جبکہ پا ک فو ج کی جا نب سے شیلڈ آ ف آ نر عطا ءکی گئی جبکہ عا لمی سطح پر بھی لینن پیس پرا ئز کے علا وہ متعدد نا مور ایوارڈز حا صل کئے۔

مزید :

کراچی -