بڑے اسلامی ملک میں خاندان میں شادی کرنے پر پابندی لگادی گئی

بڑے اسلامی ملک میں خاندان میں شادی کرنے پر پابندی لگادی گئی
بڑے اسلامی ملک میں خاندان میں شادی کرنے پر پابندی لگادی گئی

  

دوشنبے (نیوز ڈیسک) خاندان میں شادی کا رواج کسی نہ کسی صورت دنیا بھر میں عام پایا جاتا ہے مگر سائنسدان اسے کئی طرح کی جینیاتی خرابیوں کا باعث قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے خبردار کرنے کے باوجود دنیا کے اکثر ممالک میں خاندان میں شادی کا رواج بدستور جاری ہے مگر تاجکستان نے اس ضمن میں ایک بہت بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نیا قانون متعارف کروا دیا ہے جس کے مطابق خاندان میں شادی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

اس قانون کی منظوری رواں سال جنوری میں دی گئی جبکہ یکم جولائی سے اس کا نفاذ ہوگیا ہے۔ تاجکستان میں عموماً شادیوں کا سیزن موسم خزاں کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن نئے قانون کی وجہ سے وہ تمام جوڑے قبل از وقت شادی کرنے نکل کھڑے ہوئے کہ جو آپس میں رشتہ دار تھے تاکہ یکم جولائی کو نئے قانون کے نافذ العمل ہونے سے پہلے ہی شادی کرلیں۔ ریڈیو فری یورپ کی رپورٹ کے مطابق دوشنبے سول رجسٹری کے حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران تاجکستان میں شادیوں کی شرح کئی گنا بڑھ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ وہ کزن جوڑے تھے جو نئے قانون کے نفاذ سے پہلے شادی کے رشتے میں بندھنے کے لئے بے تاب تھے۔

بھارتی سیاستدان کے بیٹے کی شادی، تقریب سے ایک دن پہلے دلہن نے انکار کردیا تو ایک ایسی لڑکی کو دلہن بنادیا گیا کہ حقیقت سامنے آنے پر ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے کزن میرج کے مسائل کے پیش نظر نئی قانون سازی کی لیکن عوام نے اس قانون کو غیر موثر کرنے کے لئے بھی کافی تگ و دو کی، تاہم اب یہ قانون نافذ ہوچکا ہے اور تاجکستان میں اب کزن میرج کو جرم قرار دیا جاچکا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کزن میرج کے نتیجے میں بچوں میں کئی طرح کی بیماریاں اور جینیاتی بگاڑ پیدا ہوجاتے ہیں۔ تاجکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود معذور بچوں میں سے تقریباً 30 سے 35 فیصد کزن میرج کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا اس نوعیت کی شادی پر پابندی عائد کرنا ایک مجبوری بن چکا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -