شہری نے اپنی زندگی کی جمع پونجی دھوم دھام سے شادی کرنے پر لگادی لیکن پھر صرف 3 دن بعد ہی نئی نویلی دلہن نے ایسا کام کردیا کہ نوجوان کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا، زندہ رہنا مشکل ہوگیا

شہری نے اپنی زندگی کی جمع پونجی دھوم دھام سے شادی کرنے پر لگادی لیکن پھر صرف 3 ...
شہری نے اپنی زندگی کی جمع پونجی دھوم دھام سے شادی کرنے پر لگادی لیکن پھر صرف 3 دن بعد ہی نئی نویلی دلہن نے ایسا کام کردیا کہ نوجوان کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا، زندہ رہنا مشکل ہوگیا

  

بیجنگ (نیو زڈیسک) شادی انسان کی زندگی میں خوشیاں اور سکون لاتی ہیں مگر ایک چینی نوجوان پر شادی ایسی قیامت بن کر ٹوٹی ہے کہ بیچارہ برباد ہی ہو گیا ہے اور اب زندگی کا ایک ایک پل تڑپتے ہوئے گزار رہا ہے۔

ویب سائٹ شنگھائسٹ کی رپورٹ کے مطابق شانسی صوبے سے تعلق رکھنے والے نوجوان لیو کی ایک خوبصورت لڑکی سے ملاقات ہوئی تو اسے یوں لگا کہ اس کی زندگی میں بہار آگئی ہے۔ چند ملاقاتوں کے بعد ہی اس غریب نوجوان نے خوبصورت دوشیزہ سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ لیو کا کہنا ہے کہ وہ گاﺅں میں ایک باورچی کے طور پر کام کرتا تھا او ر اس کے پاس شادی کیلئے رقم نہ تھی لیکن پھر بھی اس نے بھاری قرض لے کر اپنے خوابوں کی شہزادی کو بیاہ لانے کا خواب پورا کر لیا۔

’شادی کروں گا تو صرف اسی سے!‘ نوجوان نے ایسی چیز سے شادی کرنے کی ضد پکڑلی کہ روکنے کیلئے حکومت حرکت میں آگئی، معاملہ عدالت پہنچ گیا

لیو نے بتایا کہ شادی پر اس کے دو لاکھ یوان (تقریباً 31 لاکھ پاکستانی روپے) خرچ ہو گئے۔ شادی سے قبل ہی لڑکی کے خاندان والوں کو تقریبا ً نوے ہزار یوان ادا کیے جبکہ 20 ہزار یوان کے زیورات خریدے۔ لیو نے بتایا کہ جب لڑکی کے گھر والے بات پکی کرنے آئے تو مزید دس ہزار یوان لے گئے جبکہ تقریباً 60 ہزار یوان شادی کے موقع پر شاندار دعوت کا انتظام کرنے میں خرچ ہوئے۔

لیو کو اس شادی کیلئے بہت زیادہ قرض اٹھانا پڑا تھا مگر اس خوشی کی کوئی حد نہ تھی کہ بلاآخر اسے بھی ایک خوبصورت دلہن مل گئی تھی، مگر بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ اس کی زندگی میں آنیوالی بہار ہی اسے برباد کرنے والی تھی۔ لیو کا کہنا ہے کہ شادی کے تین دن بعد اس کی نئی نویلی دلہن نے کچھ خریداری کی فرمائش کی۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر گیا اور جب وہ ایک بازار میں خریداری کر رہی تھی تو لیو ایک دکان کے سامنے اس کا انتظار کرنے لگا۔ بد قسمت نوجوان کا کہنا ہے کہ اس نے طویل انتظار کیا لیکن اس کی دلہن واپس نہ آئی تو وہ بے حد پریشان ہوا۔ بیوی کو فون کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ سارا دن اسے ڈھونڈنے کے بعد بالآخر بیچارہ مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا۔

کچھ دن بعد وہ اس پٹرول سٹیشن پر گیا جہاں دلہن شادی سے قبل کام کیا کرتی تھی مگر وہ اسے دیکھتے ہی فرار ہو گئی۔ اس کے بعد تو بیچارے لیو نے اسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ لیو نے فرار ہونے والی دلہن کے خلاف عدالت میں مقدمہ بھی درج کیا لیکن وہ عدالت میں بھی پیش نہ ہوئی۔

لیو نے نیا گھر لینے کے لئے بھی قرض لیا تھا جو ایک لاکھ ستر ہزار یوان پر پہنچ گیا ہے جبکہ اس کی بیماری اور قانونی اخراجات کی مد میں بھی اسی ہزار یوان خرچ ہو چکے ہیں۔ بیچارے نوجوان کا کہنا ہے کہ تین دن کی بہار کے بعد اس زندگی دردناک خزاں کا کبھی نہ ختم ہونے والا موسم بن چکی ہے جبکہ قرضوں کے بوجھ نے زندگی مزید تلخ کر دی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -