ایدھی ۔۔ اس چمن کا دیدہ ور

ایدھی ۔۔ اس چمن کا دیدہ ور
ایدھی ۔۔ اس چمن کا دیدہ ور

  

تحریر:عائشہ صدیق

 چند دن قبل ایدھی صاحب کی علالت کی خبر سن کر میں نے اپنی والدہ سے ضد کی کہ مجھے ان سے ملنا ہے ۔۔۔ مجھے کراچی بھیج دیں ۔۔۔ لیکن میری ضدکو معاشی اور سماجی رکاوٹوں کی نظر کر دیا گیا۔۔۔ وہ اس لیے کہ اکیلی لڑکی کو کراچی کیسے بھیجا جائے؟؟؟ جب کراچی جانے کی ضد طول پکڑتی تو امی مجھے کہتیں کہ کراچی میں تمہیں کوئی گولی مار دے گا ۔۔ میں انہیں یہی جواب دیتی کہ کوئی بات نہیں ایدھی صاحب میری تدفین کروا دیں گے ۔۔۔۔اکثر میری والدہ میری سرزنش کرتیں ۔۔ میری کاہلی پر مجھے ڈانٹتیں اور کہتیں تم پڑھائی پر توجہ دو ۔۔۔ مگر میں ہر بار انہیں جواب دیتی اماں پڑھ کر کیا کرنا ہے ۔۔ مجھے تو ایدھی صاحب جیسا بننا ہے ۔۔۔ انسانیت کی خدمت کرنی ہے ۔۔ جب میں اپنے ارد گرد پھیلی مفلسی اور غربت دیکھتی ،، کام کرتے بچوں کی اداس آنکھیں دیکھتی ،، غریب اور بے سہارا عورتیں دیکھتی ،، لاچار اور بے بس بوڑھے دیکھتی ،، تو اپنی والدہ سے کہتی اماں میرایہاں سے بھاگ جانے کو دل کرتا ہے ۔۔۔میرا دل کرتا ہے کہ میں کچھ کروں ،، کسی کے کام آوٗں ۔۔۔ اورکہتی کہ آپ مجھے ایدھی صاحب کے پاس جانے دیں ۔۔۔ اپنی اولاد میں سے ایک بچہ وقف کر دیں ۔۔۔ تو میری ماں میری باتیں سن کر مسکرا دیتیں ۔۔۔اور یہی کہتیں یہ ممکن نہیں ۔۔ ہم تمہیں اپنی آنکھو ں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔۔

 اکثر ایسا بھی ہوا کہ لوگ مجھے کہتے کہ تم نے پاکستان میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟؟ اور پاکستان کے ان گنت مسائل گنواتے ۔۔میرے پاس صرف ایک ہی جواب ہوتا کہ مجھے ایدھی صاحب جیسا بننا ہے ۔۔۔ لوگ کہتے تمہیں پاکستان نے کیا دیا ہے تو میں فخر سے جواب دیتی کہ مجھے پاکستان نے مجھے ایدھی صاحب دیے ہیں ۔۔۔

 میرے نزدیک ایدھی صاحب جہاد باالنفس کی عظیم مثال ہیں ۔۔ بے گھروں کو بسانے والا ، روتے کو ہسانے والا ،، بے کسوں کی مدد کرنے والا اور لاوارثوں کا ورث جہان فانی سے پردہ کر گیا ہے۔۔۔ وہ دنیا سے رخصت تو ہوئے ہیں لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں ۔۔۔ جب بھی کوئی مورخ دنیا کے عظیم انسانوں کے بارے میں لکھے گا تو مجھے یقین ہے کہ ایدھی صاحب کانام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔۔۔ ایدھی صاحب نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر انسانیت کا دکھ رکھتے ہو تو انسانوں کے لیے کارآمد بنو ۔۔ انہوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ انسانیت رنگ ، نسل اور ذات پات سے بالا تر ہے ۔۔۔ ایدھی صاحب کی سادگی اور اپنی ذات کی نفی کا یہ عالم تھا کہ ایک انٹرویو میں ان سے دریافت کیا گیا کہ انہوں نے آخری مرتبہ کپڑے کب سلوائے تھے تو وہ بولے مجھے یہ تو یاد نہیں لیکن جو کپڑے میں نے پہن رکھے ہیں یہ ایک لاش کے ہیں ۔۔۔ ایدھی صاحب نے عملی طور پر وہ کر کے دکھایا ہے جس کا مجھ سمیت بہت سے لوگ جذبہ رکھتے ہیں ۔۔ مگر ہم لوگ ذرا سی تنگی ،تھکاوٹ اور بے آرامی کے سبب اپنے جذبے کو بھول جاتے ہیں لیکن دوسری جانب ایدھی صاحب انسانیت کی خدمت کی زندہ مثال ہیں ۔۔۔آج انسانیت نے صرف ایدھی صاحب کو نہیں کھویا بلکہ پوری انسانیت یتیم ہو گئی ہے۔۔ ایدھی صاحب جیسی شخصیت کے لیے شاید شاعر نے درست فرمایا ہے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 ۔۔۔ پاکستان کے چمن کا دیدہ ور کسی اور چمن میں جا بسا ہے ۔۔ مجھے یقین ہے کہ اس درویش صفت انسانیت کے خادم کو اللہ کے دربار میں انہیں بہت اعلیٰ درجات سے نوازا گیا گیا ہو گا ۔۔

مزید :

بلاگ -