مَیں آزاد ہوں

مَیں آزاد ہوں
 مَیں آزاد ہوں

  


خوش قسمتی سے مَیں ایک آزاد مُلک کا باشندہ ہو۔ایک ایسا مُلک جس کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے نہ صرف دن رات محنت کی،بلکہ اپنی اور اپنے عزیزوں کی جانوں کی قربانی بھی دی۔ خوش قسمتی سے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری ہوں۔ خوش قسمتی سے میں آزاد ہوں بیشک قدرت نے سب کو آزاد پیدا کیا اور ہم میں سے بعض اپنی سوچ اور بعض اپنی بزدلی کی وجہ سے قید ہوتے چلے آرہے ہیں۔

مَیں اور آپ ایک آزاد مُلک کے شہری تو ہیں ایک ایسا مُلک جس کو لا الٰہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا اور جہاں اسلام کی اقدار کو پروان چڑھانا مقصود تھا،مگر کیا میں اور آپ آزاد ہیں؟ سوچئے کیا ہم ایک آزاد سرزمین پہ رہتے ہوئے بھی کہیں قیدی تو نہیں؟

پاؤں میں بیڑیوں کا ہونا ہی قید کی علامت نہیں، بلکہ بعض اوقات بیڑیوں سے آزاد قدم بھی قید ہی کی طرح حرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ وجود کی حرکات پہ پابندی لگانا اندھیری کوٹری میں بند کرنا قید نہیں ہوتی حقیقی قید تو وہ ہے کہ انسان دماغ رکھتا ہوا بھی سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے سے قاصر رہے۔

بڑے بڑے مفکرین اور ماضی میں مشہور ہستیاں جب بھی جسمانی طور پہ قید ہوئے تو وہ ذہنی طور پہ آزاد ہو گئے اور لوگوں کی اصلاح اور ترقی کے لئے کام کرتے رہے۔

ہم قیدی ہیں اپنی ذہنیت کے قیدی ہیں اپنی رسم و رواج کے۔ ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہو گی۔ہمیں اپنے گرد معاشرے کی رسم و رواج کا حصار توڑنا ہو گا ہمیں انسانیت کا درس پڑھنا اور پڑھانا ہو گا تاکہ ہم ہماری نسلیں ذہنی قید سے رہائی پا سکیں۔ ورنہ ہماری نسلیں اس ذہنی قید کے ہاتھوں غلام بنتی رہیں گی۔ بالکل اس ہاتھی کی طرح جس کو بچپن میں ایک مضبوط رسی سے باندھ دیا جاتا ہے وہ ہاتھی اس وقت کوشش کے باوجود بھی وہ رسی توڑ نہیں سکتا۔ نگر جب وہ ایک طاقت ور قد آور مضبوط وجود کا حامل ہو جاتا ہے اس وقت تک اس کے ذہن میں وہ رسی ہوتی ہے وہ ذہنی طور پہ مان چکا ہوتا ہے کہ وہ رسی نہیں توڑ سکتا،لہٰذا وہ غلامی کو تسلیم کر کے اتنا قد آور وجود ہونے کے باوحود بھی اب ایک معمولی سی رسی کو توڑنے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ ورنہ اتنا بڑا ہاتھی اتنی معمولی سی رسی کی وجہ سے قید میں نہ ہوتا وہ رسی اس ہاتھی کو قید میں نہیں رکھ سکتی اگر وہ ہاتھی ذہنی طور پہ قیدی نہ ہوا ہو۔

ہمیں بھی اسی ایک تصور کو ذہن سے نکال کر خود کو آزاد کرنا ہے کیونکہ ہم آزاد ہیں آزادی ہماری ذہنیت میں ہو گی تو ہم آزاد ہیں ورنہ غلامی تو شیروں کو بھی گیڈر بنا دیا کرتی ہے۔

مزید : کالم