شہید برہان وانی کی برسی پر کشمیریوں کا بھرپور احتجاج

شہید برہان وانی کی برسی پر کشمیریوں کا بھرپور احتجاج

نوجوان شہید کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے موقع پر مقبو ضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کے لئے لاکھ جتن کئے گئے کرفیو نافذ کرکے موبائل فون ویب سائٹس اور انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ ریل کارابطہ بھی منقطع کردیا گیا۔ حریت قیادت کو گرفتار اور نظر بند کرتے ہوئے پوری وادی میں بھارتی فوجیوں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی، اس کے باوجود آزادئ کشمیر کے دیوانوں نے وادی میں مکمل ہڑتال کی اور تمام پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے ہر جگہ احتجاج کیا اور معمولی کے مطابق بھارتی فوجیوں کے تشدد کو برداشت کرتے ہوئے عالمی برادری تک اپنایہ پیغام پہنچایا کہ ہر قیمت پر بھارت کے چنگل سے آزادی حاصل کی جائے گی۔برہان وانی اور ان کے دو ساتھیوں معصوم احمد شاہ اور سرتاج احمد شیخ کو ایک سال قبل بھارتی فوجیوں نے شہید کردیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے برسی کے موقع پر ہڑتال کی کال دی، جو بے حد کامیاب رہی۔ پوری وادی، خصوصاً پلوامہ، اسلام آباد، کولگام اور شوپیان میں ہزاروں اضافی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ پابندیاں سخت کرنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ترال میں 21ہزار فوجیوں کے علاوہ تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں بھی بنائی گئیں۔ اس ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ سری نگر، بارہ مولہ، خانیار، رمنا واری،مہاراج گنج، صفا کدل اور نوہنہ میں لوگوں کے اکٹھا ہونے پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ بھارتی فورسز نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی ریلیاں روکنے کے لئے وادی بھر سے ہزاروں موٹر سائیکلوں کو بھی قبضے میں لے لیا تھا۔کشمیریوں کی طرف سے قابض بھارتی فوجیوں اور پولیس کی پابندیوں کی پروانہ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج اور آزادی ریلیوں کے ذریعے یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو کسی صورت روکا نہیں جاسکتا۔ خود مودی سرکار کو بھی اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے کہ کشمیری اپنے خون سے آزادی کی ناقابلِ فراموش تاریخ رقم کررہے ہیں۔ اب تو بھارتی تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارتی فوجی زیادہ سے زیادہ دس سال تک کشمیریوں پر مسلط رکھے جاسکیں گے۔ اس عرصے کے دوران کشمیری حق خودارادیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہر قسم کی پابندیاں توڑ کر ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کا نعرہ لگانے والے کشمیریوں کو بھارتی فوجی اپنے زیر تسلط نہیں رکھ پارہے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اپنے بلندوبانگ دعووں کے باوجود مظلوم اور نہتے کشمیریوں کو انصاف اور آزادی دلانے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ کاش! عالمی ادارے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ دیں اور مقبوضہ کشمیر میں 70سالہ ظلم کی تاریخ کا خاتمہ ہو جائے۔

مزید : اداریہ