وزیر خزانہ کی کوشش سے روپے کا زوال رک گیا،سابق صوبائی صدر

وزیر خزانہ کی کوشش سے روپے کا زوال رک گیا،سابق صوبائی صدر

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بر وقت مداخلت سے ڈالر کی پروازاور روپے کا زوال رک گیا ہے جس پر کاروباری برادری انکی شکر گزار ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک سو دس روپے کے قریب پہنچ گیا تھا جو حکومت کی فوری کاروائی کی وجہ سے ایک سو چھ روپے کا ہو گیا ہے۔

بعض کرنسی ڈیلر ڈالر کو ایک سو چھ سے زیادہ کا فروخت کر رہے ہیں مگر کہیں بھی اسکی قیمت ایک سو سات روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر ڈالر کی قدر کم نہ کی جاتی تو یہ ہماری مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کیلئے ایک زلزلہ ثابت ہوتا۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ روپے کی بحالی کے بعد سب سے اہم قدم مرکزی بینک میں روپے کی قدرمصنوعی طور پر کم کرنے والے عناصر کی نشاندہی اور انکے خلاف کاروائی اور مارکیٹ سے بے یقینی کی فضاء ختم کر کے اعتماد بحال کرنا ہے۔ اتنے بڑے فیصلے جس سے ملک بھر میں بحران آ جائے کا اختیار کسی فرد واحد کے پاس نہیں ہونا چائیے۔انھوں نے کہا کہ ڈالر مارکیٹ سے غائب ہو گیا تھا مگر وزیر خزانہ کی مداخلت کے بعد دوبارہ دستیاب ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کے مطابق ایکسچینج ریٹ میں کمی بیرونی کھاتے میں ابھرتے ہوئے عدم توازن کا تدارک اورملک میں ترقی کے امکانات کو مزید روشن اور مستحکم کرے گی جبکہ بر آمدات میں اضافہ اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔مگر دوسری طرف روپے کی قدر میں ہونیوالی کمی سے عام آدمی بالخصوص چھوٹے تاجر حضرات کو جن کا پیسہ بینکوں میں پڑا ہے نقصان اٹھانا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ اگر روپے کی قدر کم کرنا ضروری تھا تاکہ خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے توپھر اسکی قدر میں کیوں اضافہ کیا گیا ہے۔روپے کی قدر پر مرکزی بینک اور وزارت خزانہ کے مابین اختلافات میں سب سے زیادہ نقصان معیشت کا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ چند گھنٹے میں روپے کی قدر میں ساڑھے تین روپے کی کمی ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 230 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا تھا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈالر کو ایک سو چار روپے نوے پیسے کی سطح پر واپس لایا جائے او ربر آمدا ت میں اضافے کیلئے سنجیدہ کو ششیں کی جا ئیں تا کہ ٹریڈکاخسارہ کم ہو سکے-

مزید : کامرس